-- - O - -- شیخ کا دامن بہت وسیع ہے ۔ اس کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے اس کے بعد انشاء اللہ کامیابی ہی کامیابی ہے۔ -- - O - -- شیخ کو رحمت کاملہ کی شناخت کے لئے واسطہ اور وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ -- - O - -- شیخ کو ذات و صفات کا مرکز سمجھنا پڑتا ہے۔ -- - O - -- مرید دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک دین کے کام کا اور دوسرے دنیا کے کام کا۔ -- - O - -- یتیم سے محبت کرنانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ہے۔ -- - O - -- ہر مقام پر انسان کا اپنا جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کرو، اللہ تعالی ہر چیز عطا کر دے گا۔ -- - O - -- اللہ اور اس کے رسول ؐکی محبت کی طلب رکھنی چاہئے۔ -- - O - -- فریاد جب ہی سنی جاتی ہے،جب فریادی کی شکل بنائی جائے۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاوء تو درد لے کر جاؤ یا ڈر۔ -- - O - -- اہل اللہ اور فقرائے محمدی ؐکی نظر ہی کام کرتی ہے جو زندگی بھر قائم و دائم رہتی ہے۔ -- - O - -- عشق مجازی ۔۔۔۔۔۔مشکل بازی -- - O - -- عشق مجازی اور ادو وظائف سے طے نہیں ہوتا بلکہ شیخ ہی اس کو طے کرا سکتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺنے صحابہ کرامؓ کا عشق مجازی طے کرایا کہ اگر کسی صحا بی کو بھوک پیاس لگتی تو وہ رسا لتماب ﷺکے رخ مبارک کو دیکھ لیتے تو ان کو تسکین ہو جاتی تھی۔ -- - O - -- بیعت کسی صورت میں بھی نہیں ٹوٹ سکتی البتہ پیر عاق کر سکتا ہے جس کی وجہ سے فیضان بند ہو جائے گااور وہ مرد خدا نہیں بن سکتا ۔ -- - O - -- مردود کی شناخت یہ ہے کہ اس کے نیک اعما ل کرنے کی صلاحیت سلب کر لی جاتی ہے خواہ اس کا دنیاوی کاروبارجتنا مرضی بڑھ جائے۔ -- - O - -- معقول سے شکوہ ہوتا ہے،نا معقول سے کوئی شکوہ نہیں۔ -- - O - -- دنیا دارکی زبان گدھے کی زبان ہے۔ -- - O - -- برا فعل میں نے کیا تو نے عاقبت کیوں خراب کی۔ -- - O - -- فقیر کے مذاق میں خرابی نہیںآتی۔ ٓٓٓٓٓ -- - O - -- جب صورت بنتی ہے تو خدا سیرت بھی بنا دیتاہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والے سے شکوہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- دیکھنا ہوتا ہے کہ مرید کام کا پابند ہے یا ہمارا۔ -- - O - -- رحمت ہر جگہ موجود ہے مگر اسکو دیکھنے کا شعور نہیں ہے۔ -- - O - -- روپیہ آنے جانے والی چیز ہے۔ -- - O - -- جس سے جو کہہ دیا جائے،وہ قیامت تک اسی طرح اسے پورا کرے ، اس چیز کی طرف مت دیکھیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ -- - O - -- احکام رسالتماب ﷺمیں کوئی تغیرو تبدل نہیں۔عشق پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ -- - O - -- جانور ایک گونگے کی طرح ہے جو ہر طرح کے اشارات کو بخوبی سمجھتا ہے اور محبت کی نظریں پہنچانتا ہے۔ -- - O - -- قول مقدسہ ہے:زر، زمین،زن۔۔۔۔۔۔جنگ -- - O - -- روزی کے لئے ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ رشوت حرام ہے مگر لے رہا ہے۔ -- - O - -- بے عمل کیوں ہیں کہ حضورﷺسے رشتہ نہیں بنا۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاو تو درد لے کر جاؤ۔ -- - O - -- حضرت عمر فاروقؓ نے نبی کریم ﷺکو اسلام لانے سے پہلے بھی دیکھا ہوا تھا مگر جب محبت کا وقت آگیا تو پھر ایک ہی نظر کام کر گئی جو زندگی بھر قائم رہی۔ -- - O - -- بیٹا اپنے باپ کا نمونہ ہوتاہے۔مرسل اپنے بھیجنے والے کا نمونہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- حرام وہ ہے جس میں نبی کریم ﷺکی رضامندی نہیں ہے۔ -- - O - -- نبی کریم ﷺکے تمام احکامات مانے جانیں اور ماننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ سب احکامات کی پیروی کی جائے۔ -- - O - -- بدکار بہت روتا ہے مگر اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا ۔ -- - O - -- جب نیک عمل کی طاقت سلب ہو جاتی ہے، وہ ہی قہر ربی ہوتا ہے۔ -- - O - -- اور ادووظائف عظمت شیخ اور محبت شیخ کو مد نظر رکھ کر پڑھنے چاہیں۔ -- - O - -- سب سے بڑا قہر ربی نیک عمل سے رو گردانی ہے یعنی نا فرمانی رسولﷺ۔ -- - O - -- فرمان رسولﷺ کی تحقیق ضروری ہے کیونکہ بہت عربی مقولوں کو بھی لوگوں نے حدیث کی شکل دے دی ہے۔ -- - O - -- عدل و انصاف ایسی جگہ پیدا ہوتا ہے جس دل میں برائی کے اثرات واضح ہو جاےءں۔ -- - O - -- یار کے سب فرمان پورے کرنے چاہیں۔ -- - O - -- مرسل کے فعل کو اختیا ر کیا جا سکتا ہے۔ -- - O - -- افعال محمدیہؐکی تلاش کے لئے حدیث پڑھی جائے۔ -- - O - -- روپیہ پیسہ بیوی بچوں پر خرچ کیا جاتا ہے،ماں پر نہیں، کتنی بڑی بد بختی ہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والا ہی عمل کر سکتا ہے۔ -- - O - -- گور اور گھر اپنا ہونا چاہئے۔ -- - O - -- جب کرو گے نیک کام کی انجام وہی پر ہی سوچ بچار کرو گے، برے کام پر نہیں۔ -- - O - -- دشمن کبھی کہنا نہیں مانے گا، جب بھی مانے گا دوست ہی کہنا مانے گا۔ -- - O - -- برا کا م کوئی نہیں صرف نا فرمانی رسالتماب ﷺ برا کام ہے جس کی سزا شرمندگی ہے۔ -- - O - -- جس سے محبت ہوتی ہے، اس کے قرب کی تلاش ہوتی ہے۔ -- - O - -- شیخ سے محبت کرنا ، نبی کی محبت ہے۔ -- - O - -- ہر وقت با وضو رہنا چاہئے۔ شیخ کو با وضو دیکھے اور اس کی خدمت میں حاضر رہے۔ -- - O - -- آداب شیخ بھی اسی وقت سمجھ آئیں گے ، جب شیخ سے تعشق ہو گا،ورنہ پھر منا فق ہے۔ -- - O - -- اتباع اہل محبت کا شیوہ ہے، بغیر محبت کے اتباع نہیں ہو سکتی۔ -- - O - -- کعبہ مخلوق ہے۔ -- - O - -- حجرا سود کو کیوں بھیجا گیاصرف اس لئے کہ وہ لوگ پتھر کے بتوں کو پوجتے تھے،تین سو ساٹھ بتوں کی بجائے ایک پتھر کی عظمت قائم کرنا ، مقصود تھی۔ -- - O - -- تہذیب پہچان پیدا کراتی ہے اس لئے حضورکریمﷺنے انسانیت کا لباس پہنا۔ -- - O - -- آجکل دنیا داری دولت کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور مذہب کی کوئی پرواہ نہیں۔کلمہ پڑھاجاتا ہے مگر وقعت کچھ نہیں۔جب تک دل میں نبی کریم ﷺکی عظمت قائم نہیں ہو گی،کلمہ کی عظمت قائم نہیں ہو گی۔ -- - O - -- وہ اتنا کریم ہے کہ کسی کے گناہ پر روٹی بند نہیں کرتا اور نہ عبادت پر روٹی بڑھاتا ہے۔ -- - O - -- کھانا کھانے والے کی عزت کھانا کھلانے والے سے زیادہ ہے۔اگر کسی کو کھانا کھلایا جا رہا ہے اور وہ گالیاں دے تب بھی اس کو خوشامد کر کے کھانا کھلایا جائے۔ -- - O - -- شیخکا دامن وسیع ہے، اس کو مضبوطی سے پکڑا جائے، انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔ -- - O - -- اولاد کو عاق کیا جا سکتا ہے ، اس سے نزول رحمت بند ہو جاتا ہے مگر شفقت کی رگیں پھڑ کتی رہتی ہیں۔ -- - O - -- آجکل دنیا دار صرف روٹی کا درجہ پہچانتا ہے اسی لئے اس کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔ -- - O - -- ماں اور پیرو مرشد کے درجہ کو پہچاننا چاہئے ۔ -- - O - -- دنیا دار مانتا ہے، دنیا کے نفع کے لئے ، پیرو مرشد کو مانا جاتا ہے بغیر نفع و نقصان کے۔ -- - O - -- ہر کام میں صالح جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کر و۔ ہر چیز اللہ تعالٰی دے گا، طلب محبت رکھو ۔ -- - O - -- شیر کے شکار سے اور بھی فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ شیر بنو ، گیدڑ مت بنو۔ -- - O - -- فقر کے کو چہ میں سب سے بڑا کفر سہارا ہے۔ سہارا صرف محمد ی ﷺہے۔ اس اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو جس کو ذات محمدی ﷺنے بتلایا۔ -- - O - -- غریب کا ٹھکانہ کہیں نہیں ہوتا سوائے فقیر کے۔ -- - O - -- بندہ جب ہی ثابت ہو گا، جب اپنی عاجزی دکھائے گا۔ -- - O - -- مرید اپنے پیر کا نمونہ ہوتا ہے۔ فقیر ایک ضرور نمونہ چھوڑتاہے۔ -- - O - -- گناہ کسی کی روزی بند نہیں کرتا ، اگر گناہ سے روزی بند ہوتی تو طوائف کو روزی نہ ملتی۔ ؂ -- - O - -- اگر کوئی نیک بندہ راہ راست پر چلتا ہے تو سینکڑوں بندگان خدا سد راہ ہو جاتے ہیں۔ -- - O - -- کلمہ طیبہ کا ذکر سلطا ن الذکر ہے۔ -- - O - -- شریعت کے معنی ہیں۔ اسلام کی تمام شرائط ماننا۔ -- - O - -- طریقت دراصل طوق بندگی گلے میں ڈالنا ہے۔ -- - O - -- حقیقت سے مراد ہے، قناعت و توکل یعنی اپنے نفس کو قابو کرنا۔ -- - O - -- معرفت حقیقت میں ہمیشہ راضی بہ رضا رہنا ہے۔ رب ذولجلال کی خوشی میں خوش رہنا ، مگن رہنا۔ -- - O - -- ولی کامل وہ ہے جس کا تعلق مع اللہ کے ساتھ ساتھ مع المخلوق کا سلسلہ بھی قائم رہے تاکہ ختم نبوت کے بعد صالحین امت کا ایسا گروہ دنیا میں موجود رہے جس کے عمل و کردار پر بڑی حد تک نبوت کی چھا پ ہو اور ان کے اعمال و افعال میں قرآن و سنت کی روح جھلکتی نظر آئے تاکہ عامتہ الناس ا ن سے عملی طور پر استفادہ کر سکیں۔ -- - O - -- تصوف اصلاح باطن اور تصحیح نیت کا نام ہے۔(یہ تزکیہ اور احسان ہے) -- - O - -- صوفی حقیقیت میں قرآن و سنت کا عالم اور سنت نبوی ﷺ و آثار صحابہ کا متبع ہوتا ہے اور یہی اصل دین ہے۔ -- - O - -- ہمزاد اور جناب کو قید نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی نے جب اپنی مخلوق کو آزاد پیدا کیا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں ، کسی کو قید کرنے والے۔ مخلوق کی ضروریا ت ہیں ، پھر اس مخلوق کی بھی ضرورت پوری کرنی ہو گی۔ -- - O - -- ہم کلام کے نہیں کلیم کی قائل ہیں۔ -- - O - -- تم صر ف اس بات پر نظر رکھو گے کہ میں کسی سے کیسے ملتا ہوں ۔ کوئی مجھ سے کیسے ملتا ہے، باقی باتوں کو صرف نظر کر دو مگر اپنے شیخ سے اپنی عقیدت اور محبت کو استوار رکھو۔ -- - O - -- جو بھی کام کرنا ہے، اسی زندگی میں کرنا ہے۔ عمل کرو گے تو نتیجہ تمہارے سامنے آجائے گا۔ -- - O - -- خوش خبری یہ ہے کہ قیامت کے روز فرشتوں کو پروردگار حکم دیں گے کہ میرے تمام دوست میزان کے چاروں طرف جمع ہو جائیں پھر پروردگار ان سے فرمائیں گے کہ دنیا میں ایک لقمہ جس نے روٹی کا کھلایا ہے۔ ایک گھونٹ جس نے پانی کا پلایا ہے۔ ایک نظر جس نے محبت سے دیکھا ہے، نبی کریمﷺ اس کا بازو پکڑ کر جنت میں جس دروازے سے چاہیں ، اس کو داخل کر دیں ۔ -- - O - -- قیامت کے دن جبکہ نفسا نفسی کا عالم ہو گا، نبی بھی اس میں مبتلا ہو ں گے اور کو ئی کسی کو پہچا ننے والا نہ ہو گا ۔اللہ کے دوست اور ولی حسب مرا تب ہا تھو ں میں ان کے علم ہوں گے اور بڑ ے خوبصو ر ت اور سا یہ دا ر درختو ں کے نیچے اپنے مر ید ین کو لئے کھڑ ے ہوں گے تو پھر سر کا ر دو جہاں نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس تشر یف لا ئیں گے اور ان سے پو چھیں گے 'آپ کے سب آ دمی آ گئے 'یعنی تصدیق کرکے ۔ -- - O - -- جہاں دو پیر بھا ئی مو جو د ہو تے ہیں وہاں تیسرا پیر مو جو د ہو تا ہے ۔ -- - O - -- صو فی وہ ہے جو دونوں طر ف سے صا ف ہو یعنی نہ تو وہ کسی کی ملکیت میں ہو نہ کو ئی اس کی ملکیت میں ہو ۔ما سوا "اللہ "کے۔ -- - O - -- فقر یہ ہے کہ جو کچھ انسا ن کے پاس ہو اس پر قنا عت کر ے اور زیا دہ کی تمنا نہ کر ے اور نفس کی ہمیشہ مخالفت کر ے ۔ رمو ز خدا وند ی کی کسی پر ظا ہر نہ کر ے ۔ -- - O - -- تصو ف یہ ہے کہ دو نوں چیز و ں میں زیا دتی کا پہلو تر ک کر دے ۔یعنی فقر اور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقر ا ور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقرا سے تعلق رکھے 'عا جز ی سے ثا بت قد م رہے ۔بخشش و عطا ر پر معتر ض نہ ہو اور اعما ل صا لح کر ے ۔ -- - O - -- اپنے نفس کا حکم نہ ما ننا پر ہیز گا ر ی ہے اور نفس کو تا بع کر نا پر ہیز گا ری کا فعل ہے ۔ -- - O - -- ترک شکا یت کا نا م صبر ہے ۔ -- - O - -- جو شخص احکا م الہی کا استقبا ل خند ہ پیشا نی سے کر تا ہے ۔ اس فعل کو را ضی بہ رضا الہی کہا جا تا ہے ۔ -- - O - -- قلب کی تین قسمیں ہیں ۔ اول وہ قلب ہے جو کو ہ گراں کی طر ح اپنی جگہ اٹل رہتا ہے ۔ دوم وہ قلب ہے جو تنا و ر در خت کی طر ح مستحکم اور مضبو ط ہوتا ہے مگر اس قلب کو با د تند کے تھپیڑ ے ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور کبھی کبھی اس کواکھاڑ پھینکتے ہیں ۔سو م وہ قلب ہوتا ہے جو پرندوں کی طر ح پروا ز کر تا رہتا ہے ۔ -- - O - -- زند گی کے لئے کو ن سی چیزیں ضر و ری ہیں ۔ اول: کھانا مگر بقا ئے زند گی کی حد تک 'دو م : پا نی صر ف رفع تشنگی کے لئے 'سو م :لبا س صرف ستر پو شی کی حد تک 'چہا رم : علم صر ف عمل کی حد تک ۔ -- - O - -- فقیر بنا ہے : ف سے فنا ہو نے والا 'ق سے قنا عت 'ی سے یا ر 'ر سے رقت قلب۔ -- - O - -- محبت اور ملکیت ایک جگہ جمع نہیں ہوتیں ۔ جو اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اپنی جا ن 'ما ل 'نفس سب کچھ اللہ کے حوالے کر دیتا ہے ۔ اور اللہ کے تصر فا ت پر اعترا ض نہیں کرتا ۔ اللہ کی طر ف سے جو کچھ اس کو ملتا ہے 'قبو ل کر لیتا ہے ۔ صرف ایک سمت (یعنی اللہ) کے سوا جملہ سمتیں اس کے لئے بند ہو جا تی ہیں تب اس کی محبت کا مل ہو تی ہے ۔ -- - O - -- تند ر ست وہ ہے جو جھوٹ نہ بو لے اور دوسروں کو جھوٹ بو لنے کی تلقین نہ کر ے ۔ خو د بھی مکمل طو ر پر سچا ہو اور دوسروں کو بھی سچ کی تلقین کر ے ۔ سچ کو پر کھنے کی تین کسوٹیاں ہیں ۔ اللہ کی کتا ب 'رسولؐ اللہ کی سنت اور سچے کا قلب۔اس قلب پر جب کو ئی عکس پڑ تا ہے تو یہ قلب اس وقت تک مطمئن اور را ضی نہیں ہو تا جب تک کتا ب اور سنت سے اس کی تصدیق نہیں ہو جا تی ۔ -- - O - -- علم پر عمل کر نے سے قلب صاف اور پا ک ہو جا تا ہے ۔ جب قلب درست ہو جا تا ہے تو با قی اعضا ء بھی درست اور پا ک صا ف ہو جا تے ہیں ۔ جب قلب کو تقو یٰ عطا ہو تا ہے ۔ تو جسم کی بھی اصلا ح ہو جا تی ہے ۔ -- - O - -- با طن پر ند ہ ہے اور دل اس کا پنجر ہ ۔ دل پر ند ہ ہے تو بد ن اس کا پنجر ہ ۔ اور قبر سا ری مخلو ق کا پنجر ہ ہے کیوں کہ انجا م کا ر سبھی کو اس میں جا نا ہے ۔ -- - O - -- اللہ کے سوا کسی سے مت ڈرو ۔ انسا ن کے دُکھ درد میں شر یک رہو ۔ دُنیا میں اس طر ح رہو جس طر ح کو ئی لا ئق رہتا ہے ۔ اپنے دل و دما غ کو تکبر اورغر و ر سے پا ک رکھو کیو نکہ اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں چیزیں با لکل ناپسند ہیں ۔ -- - O - -- کا ئنا ت کا وجو د خالق سے الگ نہیں سمندر کی لہریں سمندر سے الگ نظر آتی ہیں لیکن فر یب نظر ہے ۔ نا م جد ا سہی لیکن حقیقت ایک ہے ۔ شعا ئیں آفتا ب سے لہریں سمند ر سے الگ نہیں ہو تیں ۔ جس طر ح پھو ل کے مر جھا جا نے اور نغمے کے ختم ہو نے کے بعد بھی خوشبو اور مو سیقی کی لہریں کا ئنا ت میں با قی رہ جا تی ہیں ۔ اس طر ح انسا ن مو ت کے بعد "کل "میں جذ ب ہو جا تا ہے ۔ کا ئنا ت کا ایک ظا ہر ہے جو ہم سب کو نظر آرہا ہے ۔ اور کا ئنا ت بظا ہر کثر ت ہے ۔ لیکن حقیقت میں وحد ت ہے ۔ -- - O - -- تقد یر خد ا کی رضا ہے ۔ اور انسا نی اعما ل خدا کی تخلیق ہے ۔ انسا ن تقدیر کے سا منے مجبو ر اور بے بس ہے لیکن اعما ل پر قادر ہے ۔ بر ے کر ے یا اچھے ۔ -- - O - -- سما ع جا ئز ہے یا نا جا ئز سما ع اہل حق کے لئے مستحب ہے ۔ اہل زہد کے لئے مبا ح اور اہل نفس کے لئے مکر و ہ ہے -- - O - -- فقیر ی یہ ہے کہ مر ید کے دما غ میں ایک ایسی تصو یر گھس جا ئے کہ وہ جد ھر دیکھے اس کو وہی تصو یر نظر آ ئے ۔ -- - O - -- انسا ن چلہ کشی سے شر ک میں مبتلا ہو جا تاہے کیونکہ اس کی نظر اسبا ب پر چلی جا تی ہے مسب سے اُٹھ جا تی ہے ۔

Islamic Calender

Prayer Time

Country
City
Date

Fajr
Sunrise
Zuhr
Asr
Maghrib
Isha

القرآن الكريم

فَرَجَعَ مُوسَى إِلَى قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفاً قَالَ يَا قَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْداً حَسَناً أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِي

الآية رقم 86

من سورة طه

Quran-e-Pak

Asmaul Husna

Ayat of the day


O
میں عارف والا ریلوے سٹیشن کے قریب بابا جمال شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر باقاعدہ حاضری دیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ان کے مزار پر دل میں خیال آیا کہ مجھے بیعت کرنی چاہیے مگر جب تک بابا جمال شاہ ؒ اجازت نہ دیں گے‘ بیعت نہیں کروں گا؟ کچھ دنوں کے بعد خواب میں دیکھا کہ میں ایک نورانی باریش شخصیت سے بیعت ہو رہا ہوں۔ ایک دن جمعہ کی نماز پڑھ کر عازم پاکپتن ہوا۔ یہاں سید امور الحسن شاہ علیہ الرحمتہ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ آپ ایک نوجوان کو بیعت سے سرفراز فرما رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر فرمانے لگے‘ آگئے ہو۔ پھر دو اور اشخاص کے بعد مجھے بیعت کیا۔ میں کافی دیر سوچتا رہا کہ میں بھیجا گیاتھا یا بلا گیا تھا۔ میرے مرشد محبت ‘ خلوص اور ایثار کے مجسم پیکر تھے۔ موصوف اپنے مرید کی روحانی تربیت و ضرورت کے ساتھ ساتھ دنیاوی ضروریات کا بھی پورا خیال رکھتے تھے۔ جود و سخا کا عنصر نمایا اور واضح طور پر نظر آتا تھا۔ لنگر امیر غریب سب کو ایک جیسا اور ایک جگہ برابر ملتا تھا۔ صاجزادہ بھائی شمیم الحسن کے لئے دل کی اتھاہ گہرایوں سے دعانکلتی ہے۔ اللہ تعالی اپنے خاص فضلو کرم سے ان کے فیوض و برکات اور درجات بلند فرمائے (آمین)میں آج بھی جب تصور کرتا ہوں۔ پیرو مرشد مسکراتے ہوئے‘آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔
O
پیرومرشد سید امورالحسن شاہ علیہ الرحمتہ -21دسمبر 1962ء کو ہمارے گاؤں کے امام مسجد امیرالحسن کے پاس تشریف لائے ہوئے تھے۔ میں اس دن آپ کی بعیت سے سرفراز ہوا۔ میرے والدین بھی چشتی صابری سلسلہ میں بیعت تھے۔ انہی دنوں میرے گاؤں کے احباب میں بھائی مجید‘ نذیر‘‘ صوفی عبدالستار اور بھائی مشتاق بھی حلقہ ارادت میں آئے ۔ ان احباب نے بھی بارہا اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔ کہ انہوں نے بیعت ہونے کے بعد اس کے اثرات و ثمرات یوں محسوس کئے ہیں کہ جیسے اب زندگی پہلے کی نسبت بہت ہلکی پھلکی سی ہوگئی ہے۔ مساجد اور نمازسے دلی رغبت پیدا ہوگئی ہے۔ زندگی رکوع و سجود کے آئینہ میں ڈھل گئی ہے جبکہ اس سے پیشتر نماز سے کوسوں دور تھے۔ اب اپنی مسجد کو نہ صرف آباد کیا ہے بلکہ بڑے والہانہ پن اور خشوع سے ذکر اسم ذات کرنے لگے ہیں۔ رفتہ رفتہ ہمارے ذکر کے ذوق و شوق کی دور دور دھوم ہوگئی اور اس سے ہم جیسے کئی دیگر لوگ بھی مستفید ہوکر مساجد کا رخ کرنے لگے۔ ہمارے ہاں ذکر سے پہلے کبھی کبھار محفل سماع ہوتی تھی اس کے بعد ذکر کا سلسلہ شروع ہوتا تو تہجد کے وقت تک جاری رہتا۔ سید امورالحسن علیہ الرحمتہ کے پیرومرشد شاہ عبدالطیف میر ٹھی علیہ الرحمتہ ملتان کے حلقہ ذکر خانقاہ چشتیہ لطیفیہ‘ خونی برج میں احباب کے ساتھ ذکر میں شامل ہوتے تو ان کی آواز سب کی آوازوں میں نمایاں ‘‘ بلند اور بھاری سنائی دیتی‘ جب وہ ذکر جلی کراتے تھے۔
ہم نے اپنے گاؤں میں پہلی بار 1967ء میں چھ رجب کو خواجہ بزرگ‘ خواجہ غریب نواز‘ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کا سالانہ عرس بڑی دھو م دھام سے منایا۔ حیات خواجہ بزرگ اور ان کی تعلیمات کو بیان کیا گیا۔ تقسیم لنگر کے لئے کئی دیگیں بڑی محبت سے پکوائیں۔ اس لنگر کے لئے پیرو مرشد قبیلہ سید امورالحسن شدہ رحمتہ اللہ علیہ نے بھی کچھ رقم عنایت فرمائی ۔ لنگر تقسیم کرنے کے بعد رات کو محفل سماع بھی ہوئی ۔ جس کا اختتام درود و سلام بحضور سید کونین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔

O
بھائی عبدالحمید نے حضرت خواجہ شاہ امورالحسن علیہ الرحمتہ سے فیضان اور حصول برکات کا ذکر کرنے کے بعد مزیدبتایا کہ جڑانوالہ میں شبینہ کا تصور نہ تھا۔ صابری مسجد چک -127 گ ۔ ب میں آپ نے شبینہ کی داغ بیل ڈالی۔ دو تین مرتبہ چھ۔ رجب کو خواجہ بزرگ علیہ الرحمتہ کا عرس منایا گیا۔ اسی طرح کوٹ عبدالمالک میں حضور غوث الاعظم محی الدین سید عبدالقادر جیلا نی علیہ الرحمتہ کاعرس مبارک -17ربیع الثانی کو ہوتا رہا ۔

O
بھائی محمد رمضان نے بتایا کہ ان کا چالیس سال پہلے سید امورالحسن رحمتہ اللہ علیہ سے رابطہ ہوا تھا۔ صوفی عبدالطیف پہلے سوتر منڈی اندرون لوہاری گیٹ لاہور میں مقیم تھے جو بعد میں کوٹ عبدالمالک چلے گئے تھے۔لاہور میں صوفی عبدالطیف کے مکان کے سامنے خواجہ امورالحسن علیہ الرحمتہ کے چچا سکونت پذیر تھے۔وہاں صوفی عبداللطیف سے ملاقات ہوئی۔ ایک دن صوفی عبداللطیف جہاں ان کی آشنائی تھی‘ وہاں جا رہے تھے۔سید امورالحسن نے انہیں آواز دی۔ لڑکے بات سن ۔ وہ حضرت کے پاس چلے آئے۔ حضرت نے انہیں وہاں جانے سے روک دیا اور انہیں یکدم پلٹ دیا پھر اپنی بھرپور محبت والفت دی جس کے اثرات ایسے پڑے کہ حضرت کے غلام بن گئے ۔ایک رات اپنے پاس رکھا پھر صبح کو ان کی والدہ ماجدہ کو بلا کر فرمایا کہ یہ لڑکا اللہ واسطے مجھے دے دیں۔ ان کی والدہ نے حضرت کے فرمان پر لبیک کہا۔ آپ نے اس کے بعد ان کی تربیت شروع کر دی۔ آٹھ دن کی آپ نے رخصت لے لی۔ حضرت ان دنوں جہلم میں محصول چنگیات کے انسپکٹر تھے۔ سید امورالحسن ؒ بلا ناغہ انہیں حضرت بالا پیر میاں میر قادری رحمتہ اللہ علیہ کے مزار اقدس پر لے جاتے رہے اور باطنی تربیت کے ساتھ فیوض و برکات سے مالا مال کرتے رہے۔ چھٹے روز وہ ٹانگے سے نکل کر بھاگ گئے اور کہنے لگے‘کون ‘کون‘ یہ کہہ کر آگے آگے بھاگنے لگے پھر حضرت علیہ الرحمتہ انہیں پکڑ کر لے آئے اور ٹانگے میں دوبارہ بٹھالیا۔ اس کے بعد واپس گھر چھوڑگئے اور فرمانے لگے اس کو ایک ہفتہ دودھ پلاتے رہیں‘جتنا بھی پئے پلاتے رہیں‘اگر پیسے نہیں ہیں تو مجھ سے لے لیں‘ جس قدر درکار ہوں۔ آپ نے آٹھویں روز چھوڑدیا تاکہ اپنا کام دھندہ کرے۔ ایک ملنے والے نے کہا کہ کیا تمہیں آپ کے پیرومرشد نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مقدسہ سے مشرف کرادیا ہے یا نہیں ؟یہ تو پہلے کرانی چاہیے۔ یہ بات دل میں لے کر وہ حضرت کے پاس جہلم چلے گئے ۔ گھر کے سامنے باغ تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ باغ میں چلو‘ میں آتا ہوں ۔ وہاں آکر آپ نے فرمایا کہ حضورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے آئے ہیں۔ وہاں باغ میں سلادیا کہ صبح اٹھوگے‘ تو بات کریں گے۔ جب صبح بیدار ہونے پر حضرت سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ حضرت مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مقدسہ شہادت کے ساتھ ہوگئی ہے۔ مجھے خواب میں ایک صاحب نے کہا کہ یہ حضورت سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ پھر صوفی عبداللطیف وہاں سے چلے آئے۔ حضرت علیہ الرحمتہ نے پھر انہیں مزید باطنی تربیت کے لئے اعلیٰ حضرت شاہ عبداللطیف میر ٹھی علیہ الرحمتہ کے پاس انڈیا بھیجا۔ محمد رمضان نے صوفی عبداللطیف کے متذکرہ بالا واقعات کے علاوہ اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ جب حضرت نے صوفی عبداللطیف کو اعلیٰ حضرت کے سلام کے لئے میرٹھ بھیجا تھا۔ ان دنوں آپ سے میری ملاقات ہوئی ۔ میں کسی درویش سے ملنے کے بعد مطمعین نہیں ہوتا تھا۔ جب سید امورالحسن شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ بھی یہی سلوک کروگے؟تو میں نے دست بستہ عرض کیا کہ حضرت وہ تو درویشی اور فقیری کو بدنام کرنے والے ہیں۔ میں تین دن تک حضرت کے سامنے بیٹھا رہا۔ آپ نے فرمایا :مجھے اچھی طرح دیکھ لو۔ انہوں نے اپنے وجد سے میری آنکھیں پرنم کردیں اور آج بھی مرشدی اسی لمحہ کی طر ح میرے سامنے موجود ہیں۔ میں نے تیسرے دن عرض کیا۔ حضرت مجھے بیعت کرلیں۔ آپ نے فرمایا ابھی دو تین سال عیش کرو۔ تم ہمارے ہی ہو‘ بیعت کرلیں گے۔ میرا حضرت سے میل جول اور رابطہ استوار رہا۔ کبھی راولپنڈی‘ کبھی جڑانوالہ‘غرضیکہ حضرت کے حلقہ ارادت کے لوگ جہاں جہاں موجود تھے‘میرا بھی وہاں آنا جانا ہوتا رہتا تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد خواجہ علاؤالدین علی احمد صابر پیران کلیر رحمتہ اللہ علیہ کا عرس آیا۔ حضرت علیہ الرحمتہ نے مجھے کلیر شریف جانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی فرمایا کہ جو میرے پیرو مرشد شاہ عبداللطیف ؒ فرمائیں‘اسے تسلیم کرلینا ‘ وہاں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ میں کلیر شریف چلا گیا اور اعلیٰ حضرت کے حکم و فرمان کی دل و جان سے تعمیل کرتا رہا۔ حضرت شاہ عبداللطیف میرٹھ رحمتہ اللہ علیہ نے وقت رخصت کچھ تبرکات عطا فرمائے اور فرمایا کہ اپنے پیرومرشد کو دے دینا‘ وہ جسے چاہیں عطا کر دیں۔ واپسی پر کلیر شریف اور اعلیٰ حضرت کے بارے میں مجھ سے تفصیلات سن کر آپ بے اختیار زار و قطار روتے رہے اور مجھے رلاتے رہے۔ شاہ عبداللطیف علیہ الرحمتہ میرے پیرومرشد کے بارے میں کبھی جلال سے اور کبھی جمال سے گفتگو فرماتے تھے۔ حضرت علیہ الرحمتہ کے وصال سے قریباً آدھ پون گھنٹہ پہلے میں پاکپتن شریف پہنچ گیا تھا۔ آپ نے مجھ سے لاہور کے سب بھائیوں کے بارے میں فرداً فرداً استفسار فرمایا اور لاہور میں نیاز فاتحہ جس کے لئے آپ نے پیغام بھیجا ہوا تھا‘ اس کے بارے میں بھی دریا؍فت فرمایا۔

O
میں ڈاکٹر غلام مرتضی کے ایک سال بعد پاکپتن میں بیعت سے سرفراز ہوا۔ چک 274 کالا میں امیرالحسن شاہ امام مسجد رہتے تھے جو آج کل گوجرانوالہ میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے پیرومرشد آرہے ہیں‘آپ بھی ان کی زیارت کے لئے آئیں۔ وہاں میر ی حضرت علیہ الرحمتہ سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔ میں نے وہاں اس دن ایک واقعہ دیکھا کہ حضرت جس کمرے میں تشریف فرماتھے‘ اس کے باہر آپ نے فرمایا کہ ٹھہرو تاکہ کوئی عورت اندر نہ آئے۔دو عورتیں آئیں۔ میں نے ان کو روکنے کی کوشش کی تو آپ نے فرمایا:آنے دو ۔ جب وہ عورتیں اندر گئیں تو آپ نے ان کا حال احوال پوچھ کر ان کے حق میں دعاکی۔ اور پھر تھوڑی دیر بعد رخصت کردیا۔ میں اور ڈاکٹر غلام مرتضی دروازے کے باہر ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے کہ اندرسے آواز آئی۔ ‘آؤ میری بات سنو۔ ‘ہم حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ آپ سوچتے ہوں گے کہ پہلے میں نے عورتوں کو اندر سے آنے سے منع کیا اور پھر آنے بھی دیا۔ یہی بات ہمارے دل میں تھی۔ حضرت نے فرمایا کہ یہ عیسائی عورتیں تھیں‘ اگر میں انہیں اندر نہ بلاتا تو ان کا دل ٹوت جانا تھا کہ پیر نے ہم سے نفرت کی ‘ اس لئے ان کو اندر بلالیا تھااگر کوئی اور ہوتیں تو نہ بلاتا۔ اس لئے بیٹے کسی کا دل نہیں توڑنا چاہیے۔

O
غالباً 1966ء کی بات ہے‘ گوجرہ ہسپتال میں میری بیوی کے ہاں مردہ بیٹا پیدا ہوا۔ میرے بڑے بھائی نے کہا کہ یہ اٹھرا کا مرض ہے۔ حضرت سے عرض کریں گے۔ حضرت سے عرض کی توآپ نے فرمایا کہ جب دوبارہ امید ہو تو بتانا۔ میں کوٹ عبدالمالک پہنچا تو آپ مجھے شاہ عالمی چچا سراج کے ہاں کار میں ساتھ بٹھا کر لے گئے۔ عشاء کے بعد لنگر کھلایا گیا۔ کتوں کو روتیاں ڈالی گئیں۔ لنگر کے بعد محفل سماع شروع ہوئی جو ساری رات جاری رہی۔ فجر کے وقت آپ نے سب کو بلایا اور ارشاد فرمایا کہ سب ملتے جاؤ اور جو بات کہنی ہے‘ کہہ کر اپنے گھروں کو جاؤ اور محنت مزدوری کرو۔
میں نے اپنا سارا حال بیان کیا کہ اب گھر میں امید ہے۔ آپ نے فرمایا کہ لڑکی پیدا ہو گی‘ اس کا نام فاطمہ رکھنا‘ گھبرانا نہیں۔ تین دفعہ یہی فرمایا ۔ تین ماہ بعد بیٹی پیدا ہوئی ۔ میں نے اس کا نام کنیز فاطمہ رکھا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے تین بیٹے دیئے ۔

O
شیخ اختر عرف بھولا کے ہاں حضرت سے پہلی ملاقات ہوئی ۔ میری اس سے پہلے سوسائٹی ناؤ نوش والوں کے ساتھ تھی۔ جب میری پہلی ملاقات ہوئی‘ حضرت ایک چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور میں نشے کے عالم میں تھا۔ حضرت نے مجھے سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا۔ میں جب باہر آیا تو میری حالت ایسی تھی جیسے میں نے کچھ پیا ہی نہیں۔ اس کے بعد میں تائب ہوگیا۔ اور پھر کچھ عرصہ کے بعد غلامی میں آگیا۔ اس سے مجھے کچھ یوں بے پایاں مسرت ہوئی جیسے پنجرے سے کوئی پنچھی رہا ہوتا ہے۔

O
1979ء میں ساون ‘ بھادوں کا موسم تھا۔ زور دار بارشیں ہو رہی تھیں۔ میں اپنے عزیز ڈاکٹر جعفر محمود کے ہمراہ حضرت سید امورالحسن شاہ علیہ الرحمتہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں ان دنوں سفلی عملیات کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ آپ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھ سے کوئی بات سنے بغیر قریباً ڈیڑھ گھنٹہ سفلی علوم پر گفتگو فرمائی۔ آپ کی گفتگو کا ماصل تھا کہ سفلی علوم ذہن کو ماؤف کردیتے ہیں اور کچھ ان کے اثرات نہیں ہوے ۔ اس کے بعد پھر دوبارہ -17ربیع الثانی کو قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا۔ بعد نماز مغرب میں نے ڈاکٹر جان عالم سے کہا کہ مجھے بیعت کرادو۔ وہ حضرت کے پاس لے گئے تو آپنے فرمایا۔’’یہاں فقیری ہے‘دولت نہیں ہے۔‘‘میں نے عرض کیا ’’حضرت آخرت کی دولت ملنی چاہیے۔‘‘ جس نے غلامی میں آنا ہو‘یہ اس کے مقدر میں جہاں ہو‘پہنچ جاتا ہے‘میں بیعت سے سرفراز ہوا۔ مجھے آپ نے فرمایا کہ اگر تنگ دستی کاوقت آجائے تو بیٹا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا۔

O
مرشدی حضرت سید امورالحسن شاہ علیہ الرحمتہ کوٹ عبدالمالک تشریف لائے ہوئے تھے۔ میں آپ کے لئے تین جوڑے جراب اور تین بنیان لے گیا۔ آپ کو پیش کیں تو آپ نے فرمایا کہ بغیر مجھ سے پوچھے کیوں لائے ہو۔ ایسی چیزیں میرے پاس بہت پڑی ہیں۔ خراب ہو جاتی ہیں۔ جراب پہن کر دعائیں دیں۔ وقفہ وقفہ کے بعد فرمانے لگے تین جوڑے جراب اور تین بنیان ۔ اس وقت آپ پلنگ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ پھر فرمانے لگے یہ تین تین ہیں تو اللہ مبارک کرے۔ اللہ تعالی نے مجھے تین بیٹے اور تین بیٹیاں دیں۔ بیٹا محمد عاصم ہارون قرآن سنا رہا ہے اور بیٹی حفظ کر رہی ہے۔
آپ کے وصال کے بعد مجھے دوبارزیارت ہو چکی ہے۔ مزار شریف کی تعمیر کے دنوں میں دیکھا کہ آپ بہت خوبصورت اور مزین کمرے میں تشریف فرما ہیں۔ ایک آدمی پیچھے کھڑا ہے۔ میں نے قدبوسی کی سعادت حاصل کی ۔ دوسری مرتبہ اپنے مکان میں لاہور دیکھا کہ بڑا خوبصورت کمرہ ہے اور اس میں ہلکی ہلکی روشنی ہے۔ مزار شریف کی تعمیر کے سلسلہ میں صاجزادہ جناب سید شمیم الحسن نے ڈیوٹی لگادی تھی۔ اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے یہ فریضہ مجھ سے پوری استقامت سے پورا کرادیا۔

O
جب میں بیعت سے سرفراز ہوا تو حضرت علیہ الرحمتہ نے ارشاد فرمایاکہ تم کبھی درگاہ میں خالی ہاتھ نہ آنا اور نہ ہی خالی ہاتھ جاؤ گے۔
ایک مرتبہ ایک بس لاری اڈہ فیصل آباد سے بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے مزار اقدس پر حاضری کے لئے آئی۔ ان لوگوں کے ساتھ میں بھی اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ آیا۔ بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے مزار اقدس پر فاتحہ خوانی کے بعد میں پیرومرشد کے مزار اقدس پر چلا آیا۔ یہاں آکر مزار شریف کے اندر صفائی ۔قرآن خوانی اور فاتحہ میں خاصی دیر مشغول رہا۔ میرا چچا زاد بھائی کہنے لگا کہ اب بس جاچکی ہوگی اور ہمارے باقی ساتھی بھی جاچکے ہوں گے۔میں نے کہا‘مجھے اجازت ملے گی تو جاؤں گا وگرنہ نہیں جاؤں گابے شک بس چلی جائے۔ میں نے جی بھر کر دعا کی اور فاتحہ میں مشغول رہا۔ بعد میں ہم اس جگہ چلے گئے جہاں بس کھڑی تھی۔ وہاں آئے تو بس موجود نہ تھی۔ میرا بھائی گبھراگیا۔ بس وہاں سے پھاٹک تک چلی گئی تھی پھر وہاں سے واپس آگئی۔ انہوں نے ہمیں بس میں سوار کیا اور ڈرائیور کہنے لگا کہ مجھے غائبانہ آواز آئی کہ تمہاری بس میں دو آدمی کم ہیں۔ اسی وجہ سے میں پھاٹک سے آپ دونوں کو لینے چلا آیا۔ یہ نسبت شیخ ہے۔‘جس نے مجھے نوازا ہے۔ میں آپ کے عطا کردہ اور اد و وظائف پوری پابند ی سے کرتا رہتا ہوں۔ جس کی برکت سے اللہ تعالی میرے کاموں میں آسانی فرمادیتا ہے۔

O
حافظ محمد مظہر کی موجودگی میں حضرت علیہ الرحمتہ نے درج ذیل ارشادات وصال مبارک سے سات روز قبل فرمائے تھے۔
’’تم لوگ ماننے والوں میں سے ہو اس لئے بتارہا ہوں کہ اعلیٰ حضرت شاہ عبداللطیف میرٹھی رحمتہ اللہ علیہ مع جسم تشریف لائے تھے۔انہوں نے یہاں دو گھنٹے قیام فرمایا۔ آپ نے وہی چشمہ لگا رکھا تھا جو آپ اکثر پہنا کرتے تھے۔ یہ اعلیٰ حضرت کا کمرہ اسی طرح سجارہے تاکہ آپ جب جی چاہے تشریف لائیں۔ نیز ان کے کمرے میں رات کسی کو نہیں ٹھہرانا چاہیے چاہے خواہ کوئی گورنر ہی ہو۔

Pages: 1 2 3 4 5 6 7 8