-- - O - -- شیخ کا دامن بہت وسیع ہے ۔ اس کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے اس کے بعد انشاء اللہ کامیابی ہی کامیابی ہے۔ -- - O - -- شیخ کو رحمت کاملہ کی شناخت کے لئے واسطہ اور وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ -- - O - -- شیخ کو ذات و صفات کا مرکز سمجھنا پڑتا ہے۔ -- - O - -- مرید دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک دین کے کام کا اور دوسرے دنیا کے کام کا۔ -- - O - -- یتیم سے محبت کرنانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ہے۔ -- - O - -- ہر مقام پر انسان کا اپنا جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کرو، اللہ تعالی ہر چیز عطا کر دے گا۔ -- - O - -- اللہ اور اس کے رسول ؐکی محبت کی طلب رکھنی چاہئے۔ -- - O - -- فریاد جب ہی سنی جاتی ہے،جب فریادی کی شکل بنائی جائے۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاوء تو درد لے کر جاؤ یا ڈر۔ -- - O - -- اہل اللہ اور فقرائے محمدی ؐکی نظر ہی کام کرتی ہے جو زندگی بھر قائم و دائم رہتی ہے۔ -- - O - -- عشق مجازی ۔۔۔۔۔۔مشکل بازی -- - O - -- عشق مجازی اور ادو وظائف سے طے نہیں ہوتا بلکہ شیخ ہی اس کو طے کرا سکتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺنے صحابہ کرامؓ کا عشق مجازی طے کرایا کہ اگر کسی صحا بی کو بھوک پیاس لگتی تو وہ رسا لتماب ﷺکے رخ مبارک کو دیکھ لیتے تو ان کو تسکین ہو جاتی تھی۔ -- - O - -- بیعت کسی صورت میں بھی نہیں ٹوٹ سکتی البتہ پیر عاق کر سکتا ہے جس کی وجہ سے فیضان بند ہو جائے گااور وہ مرد خدا نہیں بن سکتا ۔ -- - O - -- مردود کی شناخت یہ ہے کہ اس کے نیک اعما ل کرنے کی صلاحیت سلب کر لی جاتی ہے خواہ اس کا دنیاوی کاروبارجتنا مرضی بڑھ جائے۔ -- - O - -- معقول سے شکوہ ہوتا ہے،نا معقول سے کوئی شکوہ نہیں۔ -- - O - -- دنیا دارکی زبان گدھے کی زبان ہے۔ -- - O - -- برا فعل میں نے کیا تو نے عاقبت کیوں خراب کی۔ -- - O - -- فقیر کے مذاق میں خرابی نہیںآتی۔ ٓٓٓٓٓ -- - O - -- جب صورت بنتی ہے تو خدا سیرت بھی بنا دیتاہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والے سے شکوہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- دیکھنا ہوتا ہے کہ مرید کام کا پابند ہے یا ہمارا۔ -- - O - -- رحمت ہر جگہ موجود ہے مگر اسکو دیکھنے کا شعور نہیں ہے۔ -- - O - -- روپیہ آنے جانے والی چیز ہے۔ -- - O - -- جس سے جو کہہ دیا جائے،وہ قیامت تک اسی طرح اسے پورا کرے ، اس چیز کی طرف مت دیکھیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ -- - O - -- احکام رسالتماب ﷺمیں کوئی تغیرو تبدل نہیں۔عشق پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ -- - O - -- جانور ایک گونگے کی طرح ہے جو ہر طرح کے اشارات کو بخوبی سمجھتا ہے اور محبت کی نظریں پہنچانتا ہے۔ -- - O - -- قول مقدسہ ہے:زر، زمین،زن۔۔۔۔۔۔جنگ -- - O - -- روزی کے لئے ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ رشوت حرام ہے مگر لے رہا ہے۔ -- - O - -- بے عمل کیوں ہیں کہ حضورﷺسے رشتہ نہیں بنا۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاو تو درد لے کر جاؤ۔ -- - O - -- حضرت عمر فاروقؓ نے نبی کریم ﷺکو اسلام لانے سے پہلے بھی دیکھا ہوا تھا مگر جب محبت کا وقت آگیا تو پھر ایک ہی نظر کام کر گئی جو زندگی بھر قائم رہی۔ -- - O - -- بیٹا اپنے باپ کا نمونہ ہوتاہے۔مرسل اپنے بھیجنے والے کا نمونہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- حرام وہ ہے جس میں نبی کریم ﷺکی رضامندی نہیں ہے۔ -- - O - -- نبی کریم ﷺکے تمام احکامات مانے جانیں اور ماننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ سب احکامات کی پیروی کی جائے۔ -- - O - -- بدکار بہت روتا ہے مگر اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا ۔ -- - O - -- جب نیک عمل کی طاقت سلب ہو جاتی ہے، وہ ہی قہر ربی ہوتا ہے۔ -- - O - -- اور ادووظائف عظمت شیخ اور محبت شیخ کو مد نظر رکھ کر پڑھنے چاہیں۔ -- - O - -- سب سے بڑا قہر ربی نیک عمل سے رو گردانی ہے یعنی نا فرمانی رسولﷺ۔ -- - O - -- فرمان رسولﷺ کی تحقیق ضروری ہے کیونکہ بہت عربی مقولوں کو بھی لوگوں نے حدیث کی شکل دے دی ہے۔ -- - O - -- عدل و انصاف ایسی جگہ پیدا ہوتا ہے جس دل میں برائی کے اثرات واضح ہو جاےءں۔ -- - O - -- یار کے سب فرمان پورے کرنے چاہیں۔ -- - O - -- مرسل کے فعل کو اختیا ر کیا جا سکتا ہے۔ -- - O - -- افعال محمدیہؐکی تلاش کے لئے حدیث پڑھی جائے۔ -- - O - -- روپیہ پیسہ بیوی بچوں پر خرچ کیا جاتا ہے،ماں پر نہیں، کتنی بڑی بد بختی ہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والا ہی عمل کر سکتا ہے۔ -- - O - -- گور اور گھر اپنا ہونا چاہئے۔ -- - O - -- جب کرو گے نیک کام کی انجام وہی پر ہی سوچ بچار کرو گے، برے کام پر نہیں۔ -- - O - -- دشمن کبھی کہنا نہیں مانے گا، جب بھی مانے گا دوست ہی کہنا مانے گا۔ -- - O - -- برا کا م کوئی نہیں صرف نا فرمانی رسالتماب ﷺ برا کام ہے جس کی سزا شرمندگی ہے۔ -- - O - -- جس سے محبت ہوتی ہے، اس کے قرب کی تلاش ہوتی ہے۔ -- - O - -- شیخ سے محبت کرنا ، نبی کی محبت ہے۔ -- - O - -- ہر وقت با وضو رہنا چاہئے۔ شیخ کو با وضو دیکھے اور اس کی خدمت میں حاضر رہے۔ -- - O - -- آداب شیخ بھی اسی وقت سمجھ آئیں گے ، جب شیخ سے تعشق ہو گا،ورنہ پھر منا فق ہے۔ -- - O - -- اتباع اہل محبت کا شیوہ ہے، بغیر محبت کے اتباع نہیں ہو سکتی۔ -- - O - -- کعبہ مخلوق ہے۔ -- - O - -- حجرا سود کو کیوں بھیجا گیاصرف اس لئے کہ وہ لوگ پتھر کے بتوں کو پوجتے تھے،تین سو ساٹھ بتوں کی بجائے ایک پتھر کی عظمت قائم کرنا ، مقصود تھی۔ -- - O - -- تہذیب پہچان پیدا کراتی ہے اس لئے حضورکریمﷺنے انسانیت کا لباس پہنا۔ -- - O - -- آجکل دنیا داری دولت کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور مذہب کی کوئی پرواہ نہیں۔کلمہ پڑھاجاتا ہے مگر وقعت کچھ نہیں۔جب تک دل میں نبی کریم ﷺکی عظمت قائم نہیں ہو گی،کلمہ کی عظمت قائم نہیں ہو گی۔ -- - O - -- وہ اتنا کریم ہے کہ کسی کے گناہ پر روٹی بند نہیں کرتا اور نہ عبادت پر روٹی بڑھاتا ہے۔ -- - O - -- کھانا کھانے والے کی عزت کھانا کھلانے والے سے زیادہ ہے۔اگر کسی کو کھانا کھلایا جا رہا ہے اور وہ گالیاں دے تب بھی اس کو خوشامد کر کے کھانا کھلایا جائے۔ -- - O - -- شیخکا دامن وسیع ہے، اس کو مضبوطی سے پکڑا جائے، انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔ -- - O - -- اولاد کو عاق کیا جا سکتا ہے ، اس سے نزول رحمت بند ہو جاتا ہے مگر شفقت کی رگیں پھڑ کتی رہتی ہیں۔ -- - O - -- آجکل دنیا دار صرف روٹی کا درجہ پہچانتا ہے اسی لئے اس کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔ -- - O - -- ماں اور پیرو مرشد کے درجہ کو پہچاننا چاہئے ۔ -- - O - -- دنیا دار مانتا ہے، دنیا کے نفع کے لئے ، پیرو مرشد کو مانا جاتا ہے بغیر نفع و نقصان کے۔ -- - O - -- ہر کام میں صالح جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کر و۔ ہر چیز اللہ تعالٰی دے گا، طلب محبت رکھو ۔ -- - O - -- شیر کے شکار سے اور بھی فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ شیر بنو ، گیدڑ مت بنو۔ -- - O - -- فقر کے کو چہ میں سب سے بڑا کفر سہارا ہے۔ سہارا صرف محمد ی ﷺہے۔ اس اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو جس کو ذات محمدی ﷺنے بتلایا۔ -- - O - -- غریب کا ٹھکانہ کہیں نہیں ہوتا سوائے فقیر کے۔ -- - O - -- بندہ جب ہی ثابت ہو گا، جب اپنی عاجزی دکھائے گا۔ -- - O - -- مرید اپنے پیر کا نمونہ ہوتا ہے۔ فقیر ایک ضرور نمونہ چھوڑتاہے۔ -- - O - -- گناہ کسی کی روزی بند نہیں کرتا ، اگر گناہ سے روزی بند ہوتی تو طوائف کو روزی نہ ملتی۔ ؂ -- - O - -- اگر کوئی نیک بندہ راہ راست پر چلتا ہے تو سینکڑوں بندگان خدا سد راہ ہو جاتے ہیں۔ -- - O - -- کلمہ طیبہ کا ذکر سلطا ن الذکر ہے۔ -- - O - -- شریعت کے معنی ہیں۔ اسلام کی تمام شرائط ماننا۔ -- - O - -- طریقت دراصل طوق بندگی گلے میں ڈالنا ہے۔ -- - O - -- حقیقت سے مراد ہے، قناعت و توکل یعنی اپنے نفس کو قابو کرنا۔ -- - O - -- معرفت حقیقت میں ہمیشہ راضی بہ رضا رہنا ہے۔ رب ذولجلال کی خوشی میں خوش رہنا ، مگن رہنا۔ -- - O - -- ولی کامل وہ ہے جس کا تعلق مع اللہ کے ساتھ ساتھ مع المخلوق کا سلسلہ بھی قائم رہے تاکہ ختم نبوت کے بعد صالحین امت کا ایسا گروہ دنیا میں موجود رہے جس کے عمل و کردار پر بڑی حد تک نبوت کی چھا پ ہو اور ان کے اعمال و افعال میں قرآن و سنت کی روح جھلکتی نظر آئے تاکہ عامتہ الناس ا ن سے عملی طور پر استفادہ کر سکیں۔ -- - O - -- تصوف اصلاح باطن اور تصحیح نیت کا نام ہے۔(یہ تزکیہ اور احسان ہے) -- - O - -- صوفی حقیقیت میں قرآن و سنت کا عالم اور سنت نبوی ﷺ و آثار صحابہ کا متبع ہوتا ہے اور یہی اصل دین ہے۔ -- - O - -- ہمزاد اور جناب کو قید نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی نے جب اپنی مخلوق کو آزاد پیدا کیا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں ، کسی کو قید کرنے والے۔ مخلوق کی ضروریا ت ہیں ، پھر اس مخلوق کی بھی ضرورت پوری کرنی ہو گی۔ -- - O - -- ہم کلام کے نہیں کلیم کی قائل ہیں۔ -- - O - -- تم صر ف اس بات پر نظر رکھو گے کہ میں کسی سے کیسے ملتا ہوں ۔ کوئی مجھ سے کیسے ملتا ہے، باقی باتوں کو صرف نظر کر دو مگر اپنے شیخ سے اپنی عقیدت اور محبت کو استوار رکھو۔ -- - O - -- جو بھی کام کرنا ہے، اسی زندگی میں کرنا ہے۔ عمل کرو گے تو نتیجہ تمہارے سامنے آجائے گا۔ -- - O - -- خوش خبری یہ ہے کہ قیامت کے روز فرشتوں کو پروردگار حکم دیں گے کہ میرے تمام دوست میزان کے چاروں طرف جمع ہو جائیں پھر پروردگار ان سے فرمائیں گے کہ دنیا میں ایک لقمہ جس نے روٹی کا کھلایا ہے۔ ایک گھونٹ جس نے پانی کا پلایا ہے۔ ایک نظر جس نے محبت سے دیکھا ہے، نبی کریمﷺ اس کا بازو پکڑ کر جنت میں جس دروازے سے چاہیں ، اس کو داخل کر دیں ۔ -- - O - -- قیامت کے دن جبکہ نفسا نفسی کا عالم ہو گا، نبی بھی اس میں مبتلا ہو ں گے اور کو ئی کسی کو پہچا ننے والا نہ ہو گا ۔اللہ کے دوست اور ولی حسب مرا تب ہا تھو ں میں ان کے علم ہوں گے اور بڑ ے خوبصو ر ت اور سا یہ دا ر درختو ں کے نیچے اپنے مر ید ین کو لئے کھڑ ے ہوں گے تو پھر سر کا ر دو جہاں نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس تشر یف لا ئیں گے اور ان سے پو چھیں گے 'آپ کے سب آ دمی آ گئے 'یعنی تصدیق کرکے ۔ -- - O - -- جہاں دو پیر بھا ئی مو جو د ہو تے ہیں وہاں تیسرا پیر مو جو د ہو تا ہے ۔ -- - O - -- صو فی وہ ہے جو دونوں طر ف سے صا ف ہو یعنی نہ تو وہ کسی کی ملکیت میں ہو نہ کو ئی اس کی ملکیت میں ہو ۔ما سوا "اللہ "کے۔ -- - O - -- فقر یہ ہے کہ جو کچھ انسا ن کے پاس ہو اس پر قنا عت کر ے اور زیا دہ کی تمنا نہ کر ے اور نفس کی ہمیشہ مخالفت کر ے ۔ رمو ز خدا وند ی کی کسی پر ظا ہر نہ کر ے ۔ -- - O - -- تصو ف یہ ہے کہ دو نوں چیز و ں میں زیا دتی کا پہلو تر ک کر دے ۔یعنی فقر اور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقر ا ور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقرا سے تعلق رکھے 'عا جز ی سے ثا بت قد م رہے ۔بخشش و عطا ر پر معتر ض نہ ہو اور اعما ل صا لح کر ے ۔ -- - O - -- اپنے نفس کا حکم نہ ما ننا پر ہیز گا ر ی ہے اور نفس کو تا بع کر نا پر ہیز گا ری کا فعل ہے ۔ -- - O - -- ترک شکا یت کا نا م صبر ہے ۔ -- - O - -- جو شخص احکا م الہی کا استقبا ل خند ہ پیشا نی سے کر تا ہے ۔ اس فعل کو را ضی بہ رضا الہی کہا جا تا ہے ۔ -- - O - -- قلب کی تین قسمیں ہیں ۔ اول وہ قلب ہے جو کو ہ گراں کی طر ح اپنی جگہ اٹل رہتا ہے ۔ دوم وہ قلب ہے جو تنا و ر در خت کی طر ح مستحکم اور مضبو ط ہوتا ہے مگر اس قلب کو با د تند کے تھپیڑ ے ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور کبھی کبھی اس کواکھاڑ پھینکتے ہیں ۔سو م وہ قلب ہوتا ہے جو پرندوں کی طر ح پروا ز کر تا رہتا ہے ۔ -- - O - -- زند گی کے لئے کو ن سی چیزیں ضر و ری ہیں ۔ اول: کھانا مگر بقا ئے زند گی کی حد تک 'دو م : پا نی صر ف رفع تشنگی کے لئے 'سو م :لبا س صرف ستر پو شی کی حد تک 'چہا رم : علم صر ف عمل کی حد تک ۔ -- - O - -- فقیر بنا ہے : ف سے فنا ہو نے والا 'ق سے قنا عت 'ی سے یا ر 'ر سے رقت قلب۔ -- - O - -- محبت اور ملکیت ایک جگہ جمع نہیں ہوتیں ۔ جو اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اپنی جا ن 'ما ل 'نفس سب کچھ اللہ کے حوالے کر دیتا ہے ۔ اور اللہ کے تصر فا ت پر اعترا ض نہیں کرتا ۔ اللہ کی طر ف سے جو کچھ اس کو ملتا ہے 'قبو ل کر لیتا ہے ۔ صرف ایک سمت (یعنی اللہ) کے سوا جملہ سمتیں اس کے لئے بند ہو جا تی ہیں تب اس کی محبت کا مل ہو تی ہے ۔ -- - O - -- تند ر ست وہ ہے جو جھوٹ نہ بو لے اور دوسروں کو جھوٹ بو لنے کی تلقین نہ کر ے ۔ خو د بھی مکمل طو ر پر سچا ہو اور دوسروں کو بھی سچ کی تلقین کر ے ۔ سچ کو پر کھنے کی تین کسوٹیاں ہیں ۔ اللہ کی کتا ب 'رسولؐ اللہ کی سنت اور سچے کا قلب۔اس قلب پر جب کو ئی عکس پڑ تا ہے تو یہ قلب اس وقت تک مطمئن اور را ضی نہیں ہو تا جب تک کتا ب اور سنت سے اس کی تصدیق نہیں ہو جا تی ۔ -- - O - -- علم پر عمل کر نے سے قلب صاف اور پا ک ہو جا تا ہے ۔ جب قلب درست ہو جا تا ہے تو با قی اعضا ء بھی درست اور پا ک صا ف ہو جا تے ہیں ۔ جب قلب کو تقو یٰ عطا ہو تا ہے ۔ تو جسم کی بھی اصلا ح ہو جا تی ہے ۔ -- - O - -- با طن پر ند ہ ہے اور دل اس کا پنجر ہ ۔ دل پر ند ہ ہے تو بد ن اس کا پنجر ہ ۔ اور قبر سا ری مخلو ق کا پنجر ہ ہے کیوں کہ انجا م کا ر سبھی کو اس میں جا نا ہے ۔ -- - O - -- اللہ کے سوا کسی سے مت ڈرو ۔ انسا ن کے دُکھ درد میں شر یک رہو ۔ دُنیا میں اس طر ح رہو جس طر ح کو ئی لا ئق رہتا ہے ۔ اپنے دل و دما غ کو تکبر اورغر و ر سے پا ک رکھو کیو نکہ اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں چیزیں با لکل ناپسند ہیں ۔ -- - O - -- کا ئنا ت کا وجو د خالق سے الگ نہیں سمندر کی لہریں سمندر سے الگ نظر آتی ہیں لیکن فر یب نظر ہے ۔ نا م جد ا سہی لیکن حقیقت ایک ہے ۔ شعا ئیں آفتا ب سے لہریں سمند ر سے الگ نہیں ہو تیں ۔ جس طر ح پھو ل کے مر جھا جا نے اور نغمے کے ختم ہو نے کے بعد بھی خوشبو اور مو سیقی کی لہریں کا ئنا ت میں با قی رہ جا تی ہیں ۔ اس طر ح انسا ن مو ت کے بعد "کل "میں جذ ب ہو جا تا ہے ۔ کا ئنا ت کا ایک ظا ہر ہے جو ہم سب کو نظر آرہا ہے ۔ اور کا ئنا ت بظا ہر کثر ت ہے ۔ لیکن حقیقت میں وحد ت ہے ۔ -- - O - -- تقد یر خد ا کی رضا ہے ۔ اور انسا نی اعما ل خدا کی تخلیق ہے ۔ انسا ن تقدیر کے سا منے مجبو ر اور بے بس ہے لیکن اعما ل پر قادر ہے ۔ بر ے کر ے یا اچھے ۔ -- - O - -- سما ع جا ئز ہے یا نا جا ئز سما ع اہل حق کے لئے مستحب ہے ۔ اہل زہد کے لئے مبا ح اور اہل نفس کے لئے مکر و ہ ہے -- - O - -- فقیر ی یہ ہے کہ مر ید کے دما غ میں ایک ایسی تصو یر گھس جا ئے کہ وہ جد ھر دیکھے اس کو وہی تصو یر نظر آ ئے ۔ -- - O - -- انسا ن چلہ کشی سے شر ک میں مبتلا ہو جا تاہے کیونکہ اس کی نظر اسبا ب پر چلی جا تی ہے مسب سے اُٹھ جا تی ہے ۔

Islamic Calender

Prayer Time

Country United States
City Ashburn
Date

Fajr
Sunrise
Zuhr
Asr
Maghrib
Isha

القرآن الكريم

ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ

الآية رقم 26

من سورة فاطر

Quran-e-Pak

Asmaul Husna

Ayat of the day


حضرت سید ابوالحسن علی بن عثمان الجلابی الہجویری ثم لاہوری معروف بہ داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ (400ھ تا 465ھ / 1009ء تا 1079ء) ہجویر اور جلاب غزنین کے دو گائوں ہیں شروع میں آپ کا قیام یہیں رہا اس لیے ہجویری اور جلابی کہلائے۔ سلسلہ نسب حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے۔ روحانی تعلیم جنیدیہ سلسلہ کے بزرگ حضرت ابوالفضل محمد بن الحسن ختلی رحمۃ اللہ علیہ سے پائی ۔ مرشد کے حکم سے 1039ء میں لاہور پہنچے کشف المحجوب آپ کی مشہور تصنیف ہے۔ لاہور میں بھاٹی دروازہکے باہر آپ کا مزار مرجع خلائق ہے ۔

عوام آپ کو گنج بخش (خزانے بخشنے والا) اور داتا صاحب کہتے ہیں اور آپ انہی القابات سے مشہور ہیں۔

 نام ونسب

آپ کا پورا نام شیخ سیّد ابو الحسن علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ ہے۔ لیکن عوام و خواص سب میں “گنج بخش” یا “داتا گنج بخش” کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ ۴۰۰ ہجری میں غزنی شہر سے متصل ایک بستی ہجویر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد بزرگوار کا اسم گرامی سید عثمان جلابی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ ہے۔ جلاب بھی غزنی سے متصل ایک دوسری بستی کا نام ہے جہاں سید عثمان رحمتہ اللہ علیہ رہتے تھے۔ حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ، حضرت زید رحمتہ اللہ علیہ کے واسطے سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اولاد سے ہیں۔

اساتذہ

آپ رحمتہ اللہ علیہ کے اساتذہ میں حضرت شیخ ابو العباس اشقاقی رحمتہ اللہ علیہ، شیخ ابو جعفر محمد بن المصباح الصید لانی رحمتہ اللہ علیہ، شیخ ابو القاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیری رحمتہ اللہ علیہ، شیخ ابوالقاسم بن علی بن عبداللہ الگرگانی رحمتہ اللہ علیہ، ابو عبداللہ محمد بن علی المعروف داستانی بسطامی رحمتہ اللہ علیہ، ابو سعید فضل اللہ بن محمد مہینی اور ابو احمد مظفر بن احمد بن حمدان رحمتہ اللہ علیہ کے نام ملتے ہیں۔

شیخ ابو العباس اشقاقی رحمتہ اللہ علیہ

شیخ ابو العباس اشقاقی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں حضرت علی ہجویری بیان کرتے ہیں کہ آپ علم اصول اور فروع میں امام اور اہل تصوف میں اعلٰی پایہ کے بزرگ تھے۔ مجھے آپ سے بڑی محبت تھی اور آپ بھی مجھ پر سچی شفقت فرماتے تھے۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، آپ کے مانند کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ نہ آپ سے بڑھ کر شریعت کی تعظیم کرنے والا کوئی دیکھا۔ اکثر فرمایا کرتے: اشتھی عدماً لا وجود لہ۔ یعنی میں ایسی نیستی چاہتا ہوں جس کا کوئی وجود نہ ہو۔ یہ وہی بات ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمائی۔ آپ نے ایک مرتبہ ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا: اے کاش میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا۔ اے کاش میں یہ تنکا ہوتا ۔ ایک دفعہ میں شیخ اشقاقی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا تو آپ پڑھ رہے تھے: ضَرَبَ اللہُ مَثَلاً عَبدً امَہلُو ًکاًلاَیَقدِرُعَلٰی شَیئیً (۷۵:۱۶)۔ یعنی “اللہ ایک مثال دیتا ہے، ایک غلام ہے جو دوسرے کا مملوک ہے اور کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا”۔ بار بار اسے پڑھ رہے تھے اور رو رہے تھے، حتٰی کہ آ پ بے ہوش ہو گئے۔ اور میں نے سمجھا کہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ میں نے عرض کیا، اے شیخ! یہ کیا حالت ہے؟ فرمایا کہ گیارہ سال ہو گئے ہیں، میرا ورد یہی ہے، اس سے آگے نہیں گذر سکا۔

 شیخ ابو جعفر محمد بن المصباح الصید لانی رحمتہ اللہ علیہ

شیخ ابو جعفر محمد بن المصباح الصید لانی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ صوفیائے متاخرین میں منجلمہ روسائے متوصفین میں سے تھے۔ علم حقیقت میں بہت فصیح البیان تھے۔ حسین بن منصور کے طریقہ کی طرف مائل تھے۔ آپ کی بعض تصانیف میں نے ان سے پڑھی ہیں۔

 شیخ ابو القاسم بن علی بن عبداللہ الگرگانی رحمتہ اللہ علیہ

شیخ ابو القاسم بن علی بن عبداللہ الگرگانی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ اپنے وقت میں بے نظیر تھے۔ وقت کے تمام طالبان حق کا آپ پر اعتماد تھا ۔ علوم و فنون میں بہت ماہر تھے۔ آپ کا ہر مرید زیور علم سے آراستہ تھا۔مجھ سے بہت احترام سے پیش آتے تھے۔ اور بہت توجہ سے بات سنتے تھے، حالانکہ میں آپ کے مقابلہ میں نو عمر بچہ تھا۔ ایک روز میں آپ کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ آپ مجھ سے اس قدر عاجزی اور انکساری سے پیش آتے ہیں۔ بغیر اس کے کہ میں کوئی بات کہوں، آپ نے فرمایا: اے میرے باپ کے دوست! خوب جان لے کہ میری یہ عاجزی اور انکساری تیرے لیے نہیں، میری یہ عاجزی احوال کے بدلنے والے کے لیے ہے اور یہ تمام طالبان حق کے لیے عام ہے۔ یاد رکھ کہ آدمی خیالات کی قید سے کبھی بھی رہائی حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے بندگی کرنا لازمی ہے۔ خدا کے ساتھ بندگی کی نسبت سے کام رکھ۔ اس ایک نسبت کے سوا دوسری تمام نسبتوں کو اپنے سے دور کر دے۔ آپ کی کتابیں مشکل ہیں۔

 شیخ ابو القاسم بن ہوازن القشیری رحمتہ اللہ علیہ

شیخ ابو القاسم بن ہوازن القشیری رحمتہ اللہ علیہ کے حالات میں تحریر فرماتے ہیں کہ اپنے زمانہ میں نادرالوجود اور بلند مرتبہ بزرگ تھے۔ ہر فن میں آپ کی تصانیف محققانہ اور عمدہ ہیں۔ بے کار بحث و گفتگو اور لغو باتوں سے آپ بالکل الگ رہتے تھے۔ حسین بن منصور کے بارے میں صوفیاء میں بحثیں ہوتیں۔ ایک گروہ کے نزدیک وہ مردود اور دوسرے کے نزدیک مقبول بارگاہ تھے۔ آپ فرماتے کہ اگر منصور ارباب معافی وحقیقت میں سے تھا تو کوئی چیز اسے خداوند کریم سے علیحدہ نہیں کر سکتی اور اگر خدا کی درگاہ سے مردود تھا تھو مخلوق میں سے کوئی اسے بارگاہ خداوندی میں مقبول نہیں بنا سکتا۔ ہم اسے حوالہء خدا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایاَ مَثَلَ الصّوفِی کَعِلَّۃِ البَرسَامِ اّوَّلہ ھِذیَان وَاٰخِرُہ سَکُوًتُ فَاِزَاتَمَکَّنَ خَرَسَ۔ یعنی جو خیال آئے اسے پاگلوں کی طرح بیان کرتے چلے جانا، ہے اور اس کا آخر سکوت ہے۔ اور جب آدمی درجہ تمکین کو پہنچ جاتا ہے تو گونگا ہو جاتا ہے۔

ابو عبداللہ محمد بن علی المعروف داستانی بسطامی رحمتہ اللہ علیہ

اپنے استاد ابو عبداللہ محمد بن علی المعروف داستانی بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ آپ تمام علوم کے عالم اور درگاہ حق کے اہل حشمت میں سے تھے۔ بہت نیک خُلق تھے۔ آپ کا کلام مہذب اور اشارات لطیف ہیں۔ میں نے ان کی کتاب ۔معانی انفاس۔ کی چند جزیں ان سے سُنی ہیں۔ شیخ سہلکی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ بسطام میں ٹڈی دل آیا۔ تمام درخت اور کھیت اس کے بیٹھنے کی وجہ سے سیاہ ہو گئے۔ لوگوں نے بہت شور مچایا۔ شیخ نے پوچھا، یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ٹڈی دل آئی ہے اور لوگ سخت غمزدہ ہیں۔ شیخ اُٹھے اور کوٹھے پر تشریف لے گئے اور منہ آسمان کی طرف کیا۔ اُسی وقت ٹڈی اُڑ گئی اور عصر کی نماز تک ایک ٹڈی بھی کہیں نظر نہیں آتی تھی، اور کسی کھیتی کا ایک پتہ تک بھی ضائع نہ ہوا۔

ابو سعید فضل اللہ بن محمد مہینی رحمتہ اللہ علیہ

ابو سعید فضل اللہ بن محمد مہینی رحمتہ اللہ علیہ کے زکر میں لکھتے ہیں کہ آپ طریقت کے جمال اور وقت کے صاحب دبدبہ بادشاہ تھے، اور تمام اہل زمانہ آپ کے گرویدہ تھے۔ تعلیم ابتداء میں ابو علی زاہد رحمتہ اللہ علیہ سے سرخس میں حاصل کی۔ ایک دن میں تین دن کا سبق لیتے اور تین دن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے۔ آپ نے مسلسل ریاضت اور مجاہدہ کیا۔ یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اعلیٰ مرتبہ پر پہنچایا۔ بہت شاہانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ زیخ ابو مسلم فارسی نے مجھے بتایا کہ میری گودڑی بہت میلی کچیلی تھی۔ آپ کے پاس پہنچا، تو آپ بہت شاہانہ لباس میں تخت پر دراز تھے اور اوپر مصری دیبا کی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ میں نے یہ دیکھ کر دل میں خیال کیا کہ اس ٹھاٹھ کے ساتھ فقر کا دعویٰ بھی عجیب بات ہے۔ مجھے دیکھو کہ میں اس گودڑی میں فقر کا دعویٰ کرتا ہوں۔ لیکن میرے کوئی بات زبان پر لائے بغیر آپ نے فرمایا کہ نے یہ باتیں کس دیوان میں لکھی پائی ہیں؟ میں اس پر اپنے دل میں بہت شرمندہ ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ؛ اَلَتّصَوَّفُ قَیَامُ القَلبِ مَعَ اللہِ، یعنی تصوف تو اللہ سے دل لگانے کا نام ہے۔ ایک دفعہ آپ نیشا پور سے طوس کو جارہے تھے۔ راستے میں سرد گھاٹی پڑتی ہے۔ آپ اپنے پاؤں میں سردی محسوس کر رہے تھے۔ ساتھ جو درویش تھا وہ بیان کرتا ہے کہ میرے دل میں خیال آیا کہ اپنے رومال کے دو ٹکڑے کر کے آپ کے پاؤں پر لپیٹ دو۔ لیکن پھر خیال آیا کہ میرا رومال بہت اچھا ہے اسے ضائع کیوں کروں۔ لیکن میں نے کچھ کہا نہیں۔ طوس پہنچ کر ہم مجلس میں بیٹھے تھے کہ میں نے آپ سے سوال کیا۔ اے شیخ حقّانی! الہام اور وسوسہ میں کیا فرق ہے؟ آپ نے فرمایا کہ الہام تو وہ ہے جس نے تیرے دل میں یہ خیال پیدا کیا کہ اپنے رومال کر ابو سعید کے پاؤں کے گرد لپیٹ دوں تاکہ اس کے پاؤں کو سردی نہ لگے اور شیطانی وسوسہ وہ تھا کہ جس نے تجھے ایسا کرنے سے روکا۔

تعلیم طریقت

طریقت میں آپ کے شیخ شیخ ابو الفضل محمد بن حسن ختلی رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ ان کے حالات قلمبند کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ طریقت میں میری اقتداءآپ رحمتہ اللہ علیہ ہی کے ساتھ ہے۔ تفسیر، حدیث اور تصوف تینوں کے آپ عالم تھے۔ تصوف میں آپ حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ کے مذہب پر تھے۔ حضرت شیخ حضرمی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید اور حضرت سروانی رحمتہ اللہ علیہ کے مصاحب تھے۔ ساٹھ سال تک مخلوق سے گم اور پہاڑوں میں گوشہ نشین رہے۔ زیادہ تر قیام جبل لگام پر رہتا تھا۔ میں نے آپ سے زیادہ بارعب اور صاحب ہیبت کوئی شخص نہیں دیکھا۔ صوفیوں کے لباس سے ہمیشہ کنارہ کش رہے۔ ایک مرتبہ میں آپ کو وضو کرانے کے لیے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہا تھا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ میں ایک آزاد آدمی ہوں آخر میں ان پیروں کی کیوں غلامی کروں جو قسمت میں لکھا ہے وہ ضرور پورا ہو گا۔ آپ نے فرمایا، بیٹا کو خیال تیرے دل میں پیدا ہوا ہے میں اسے جانتا ہوں، ہر کام کا ایک سبب اور زریعہ ہوتا ہے۔ یہ خدمت اور ملازمت آدمی کی بزرگی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حق تعالیٰ چاہتا ہے تو ایک سپاہی زادے کو تاج شاہی پہنا دیتا ہے۔ جس روز آپ کی وفات ہوئی تو آپ بانیاں اور دمشق کے درمیان پہاڑ پرواقع ایک گاؤں بیت الجن میں تھے، اور آپ کا سر میری گود میں تھا۔ میرا دل سخت مضطرب اور تکلیف میں تھا، جیسے کہ ایسے محسن اور دوست کی علیحدگی کے خیال سے ہونا ہی چاہیے تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا، بیٹا! میں اعتقاد کا مسئلہ بیان کرتا ہوں۔ اگر تو اپنے آپ کواس کے مطابق درست کر لے گا تو تیرے دل کی یہ تمام تکلیف دور ہو جائے گی۔ یہ بات یاد رکھ کہ اللہ عزل و جل کوئی کام الل ٹپ نہیں کرتا، وہ تمام حالات کو ان کے نیک وبد کا لحاظ رکھ کر پیدا فرماتا ہے۔ تیرے لیے لازم ہے کہ خدا کے فعل میں اس سے جھگڑا نہ کر اور جو کچھ وہ کرتا ہے۔ اس پر رنجیدہ نہ ہو۔ آپ نے ابھی اتنی بات فرمائی تھی کہ اپنی جان خداوند کریم کے سپرد کر دی۔ اِنّاَلِلّہِ وَاِنّاَ اِلَیہِ رَاجِعُون۔ کسب روحانی کے لیے آپ (حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ) نے شام، عراق، فارس، قہستان، آزربائیجان، طبرستان، خوزستان، کرمان، خراسان، ،وراء النہر اور ترکستان وغیرہ کا سفر کیا۔ ان ممالک میں بے شمار لوگوں سے ملے اور ان کی صحبتوں سے فیض حاصل کیا۔ صرف خراسان میں جن مشائخ سے آپ ملے ان کی تعداد تین سو ہے۔ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے خراسان میں تین سو اشخاص ایسے دیکھے ہیں کہ ان میں سے صرف ایک سارے جہان کے لیے کافی ہے۔

دوسرے ہم عصر جن سے متاثر ہوئے

اپنے زمانے کے جن بزرگوں سے آپ خاص طور پر متاثر ہوئے ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ ان کے بارے میں تاثرات بھی قوسین میں درج ہیں۔ شیخ محمد زکی بن العلا رحمتہ اللہ علیہ (زمانے کے سردار اور محبت کا شعلہ)، شیخ القاسم سدسی رحمتہ اللہ علیہ (پیر مجاہدہ)، شیخ الشیوخ ابو الحسن بن سالبہ رحمتہ اللہ علیہ (توحید میں روشن بیان)، شیخ ابواسحاق بن شہریار(صاحب دبدبہ)، شیخ ابوالحسن علی بن بکران (بزرگ صوفی)، شیخ ابو عبداللہ جلیدی رحمتہ اللہ علیہ (بہت احترام والے)، شیخ ابو طاہر مکشوف (جلیل القدر بزرگ)، شیخ احمد بن شیخ خرقانی، خواجہ علی بن الحسین السیر کانی(وقت کے سیاح)، شیخ مجتہد ابوالعباس دامغانی (خدا کے اقبال کا سایہ)، خواجہ ابو جعفر محمد بن علی الجومینی (محقق بزرگ)، خواجہ رشید مظفر بن شیخ ابو سعید (دلوں کا قبلہ)، خواجہ شیخ احمد جمادی سرخسی (وقت کے پہلوان) اور شیخ احمد نجاّر سمرقندی (زمانے کے بادشاہ) رحمہم اللہ۔

 دو اہم واقعات

اپنے تلاش و جستجو کے زمانے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے ایک مشکل پیش آئی۔ اس کے حل کے لیے میں نے بہت مجاہدے کیے۔ مگر یہ مشکل حل نہ ہوئی۔ اس سے پہلے بھی مجھے ایک مشکل پیش آئی تھی اور اس کے حل کے لیے میں نے حضرت شیخ ابو یزید رحمتہ اللہ علیہ کی قبر کی مجاوری اختیار کر کے اس پر غور وفکر کیا تھا اور میری وہ مشکل وہاں حل ہو گئی تھی۔ اب کے میں نے پھر ایسا کیا۔ برابر تین ماہ تک ان کا مجاور (پڑوسی) بنا رہا۔ ہر روز تین مرتبہ غسل کرتا رہا۔ اور تیس دفعہ وضو کرتا رہا۔ لیکن میری یہ مشکل حل نہ ہوئی۔ بالآخر میں نے خراسان جانے کا ارادہ کیا اور راستے میں رات کے وقت ایک خانقاہ میں رات بسر کرنے کے لیے ٹھہرا۔ وہاں صوفیوں کی ایک جماعت بھی تھی۔ میرے پاس اس وقت موٹے کھُردرے ٹاٹ کی ایک گودڑی تھی۔ اور وہی میں نے پہن رکھی تھی۔ ہاتھ میں ایک عصا اور کوزہ (لوٹا) تھا۔ اس کے سوا اور کوئی سامان میرے پاس نہیں تھا۔ ان صوفیوں نے مجھے بہت حقارت کی نظر سے دیکھا۔ اور اپنے خاص انداز میں ایک دوسرے سے کہا کہ یہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور وہ اپنی اس بات میں سچے تھے، کیونکہ میں فی الواقع ان میں سے نہ تھا۔ میں تو محض ایک مسافر کی حیثیت سے رات بسر کرنے کے لیے ان کے پاس پہنچ گیا تھا۔ ورنہ ان کے طور طریقوں سے میرا کوئی سروکار نہ تھا۔ انھوں نے خانقاہ کے نیچے کے ایک کمرہ میں مجھے بٹھا دیا۔ اور ایک سُوکھی روٹی اور وہ بھی روکھُی میرے آگے رکھ کر خود کھانے کے لیے اوپر چوبارہ میں جا بیٹھے۔ جو کھانے وہ خود کھا رہے تھے ان کی خوشبو مجھے آ رہی تھی۔ اور اس کے ساتھ چوبارہ پر سے وہ طنزیہ انداز میں مجھ سے باتیں کرتے تھے۔ جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو خربوزے کے کر بیٹھ گئے۔ اور چھلکے مجھ پر پھینکتے رہے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی طبیعت کی خوشی اس وقت میری توہین پر موقوف تھی۔ میں اپنے دل میں خدا سے کہہ رہا تھا، بارِ خدایا، اگر میں نے تیرے دوستوں کا لباس نہ پہنا ہوا ہوتا تو میں ضرور ان کی ان حرکات کا مزا ان کو چکھادیتا۔ لیکن چونکہ میں اسے خداوند تعالیٰ کی طرف سے ابتلا سمجھ کر برداشت کر رہا تھا، اس لیے جس قدر وہ طعن وملامت مجھ پر زیادہ کرتے تھے میں خوش ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ اس طعن کا بوجھ اٹھانے سے میری وہ مشکل جس کے لیے میں مجاہدوں اور اس سفر کی مشقت اٹھا رہا تھا وہیں حل ہو گئی۔ اور اسی وقت مجھ کو معلوم ہو گیا کہ مشائخ رحمہم اللہ جاہلوں کو اپنے درمیان کیوں رہنے دیتے ہیں اور ان کا بوجھ کس لیے اٹھاتے ہیں۔ نیز یہ کہ بعض بزرگوں نے ملامت کا طریقہ کیوں اختیار کیا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ اس سے بعض اوقات وہ عقدے حل ہو جاتے ہیں جو دوسرے طریقوں سے حل نہیں ہوتے۔ عراق کا ایک واقعہ اپنے متعلق بیان کرتے ہیں کہ عراق میں اپنے قیام کے زمانے میں ایک دفعہ میں دنیا کمانے اور اسے خرچ کرنے میں بہت دلیر ہو گیا تھا۔ جس کسی کو ضرورت پیش آتی وہ میری طرف رجوع کرتا اور میں نہ چاہتا کہ میرے دروازے سے کوئی خالی جائے۔ اس لیے اس کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتا، یہاں تک کہ میں بہت زیادہ مقروض اور اس صورتحال سے پریشان ہو گیا۔ آخر وقت کے بزرگوں میں سے ایک بزرگ نے مجھے لکھا؛ ۔بیٹا دیکھو! اس قسم کی مشغولیت میں کہیں خدا سے دور نہ ہو جاؤ، یہ مشغولیت ہوائے نفس ہے۔ اگر کسی کے دل کو اپنے سے بہتر پاؤ۔ تو اس کی خاطر پریشانی اُٹھاؤ۔ تمام مخلوق کے کفیل بننے کی کوشش نہ کرو۔ کیوں کہ اپنے بندوں کے لیے خدا خود کافی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس نصیحت سے مجھے سکون قلب حاصل ہوا۔ اور میں نے یہ جانا کہ مخلوقات سے دور رہنا صحت وسلامتی کی راہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خود اپنی طرف نہ دیکھے تاکہ کوئی اور بھی اس کی طرف نہ دیکھے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ آدمی خود ہی اپنے آپ کو اہم اور بڑی چیز عیاں کرتا ہے ورنہ دنیا اسے کچھ بھی نہیں سمجھتی۔ وہ تو صرف اس سے اپنا کام نکالتی ہے۔

 آپ کا طریق

آپ کے نزدیک صوفی صفا سے مشتق ہے۔ اور صفا کی اصل دل کو غیر اللہ سے منقطع اور دنیاء غدار سے خالی کر کے اسے اللہ سے جوڑنا ہے۔ گویا اس کا مطلب اخلاص اور سچی محبت کے ساتھ خدا کی بندگی کی راہ اختیار کرنا ہے۔ نہ کہ کوئی خاص وضع قطع اختیار کرنا۔ آپ فرماتے ہیں؛ کہ طالب کو تمام احوال میں شرع اور علم کا پیرو ہونا چاہیے۔ کیونکہ سلطان علم سلطان حال پر غالب اور اس سے افضل ہے۔ چنانچہ آپ چالیس برس مسلسل سفر میں رہے لیکن کبھی نماز باجماعت ناغہ نہیں کی۔ اور ہر جمعہ کی نماز کے لیے کسی قصبہ میں قیام فرمایا۔ عام رہن سہن عام لوگوں کی طرح رکھتے۔ صوفیوں کی ظاہری رسوم اور وضع قطع سے آپ شیخ طریقت شیخ ابوالفضل محمد بن ختلی رحمتہ اللہ علیہ کی طرح ہمیشہ مجتنب رہے۔ بلکہ اس سے آپ کو ایک گونہ نفرت تھی، اور ان چیزوں کو ریا کاری ونمائش اور معصیت کا نام دیتے تھے۔

لاہور میں آمد اور قیام

آپ اپنے مرشد کے حکم سے خدا کے دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے سلطان محمود غزنوی کے بیٹے ناصر الدین کے زمانے ؁۱۰۳۰ ء تا۱۰۴۰؁ ء میں لاہور تشریف لائے۔ آپ سے پہلے آپ کے پیر بھائی حسین زنجانی اس خدمت پر مامور تھے۔ اس لیے جب آپ کو لاہور آنے کا حکم ہوا تو آپ فرماتے ہیں، کہ میں نے شیخ سے عرض کیا کہ وہاں حسین زنجانی موجود ہیں میری کیا ضرورت ہے؟ لیکن شیخ نے فرمایا، نہیں تم جاؤ۔ فرماتے ہیں کہ میں رات کے وقت لاہور پہنچا اور صبح کو حسین زنجانی کا جنازہ شہر سے باہر لایا گیا۔ تبلیغ و اشاعت دین کے سلسلے میں آپ نے برصغیر ہند کے دوسرے حصّوں کا بھی سفر کیا۔ چنانچہ آپ ۔کشف المحجوب۔ میں حضرت ابو حلیم حبیب بن اسلم راعی رحمتہ اللہ علیہ کے حالات میں لکھتے ہیں کہ شیخ رحمتہ اللہ علیہ کی اور بھی بہت سی روایتیں ہیں۔ وقت کی تنگی کی وجہ سے میں انھیں چھوڑتا ہوں اور مجھے یہ سخت دقت پیش آرہی ہےکہ میری کتابیں غزنی میں ہیں اور میں ملک ہندوستان کے ایک گاؤں بھنور میں ہوں جو کہ ملتان کے گردونواح میں واقع ہے۔ اور بالکل غیر جنسوں میں گرفتار ہوں۔ والحمدللہ علیالسّرّاءِولضّرّاء۔ لیکن آپ کا مقام اور مرکز لاہور ہی رہا۔ اور آخر کار لاہور ہی میں ۴۶۵ ھ میں انتقال فرمایا اور یہیں مدفون ہیں۔ اِنّاَلِلّہِ وَاِنّاَ اِلَیہِ رَاجِعُون۔

روضہ مبارک

آپ کا روضہ ناصر الدین مسعود کے بیٹے ظہیر الدین الدولہ نے تعمیر کروایا۔ اور خانقاہ کا فرش اور ڈیوڑھی جلال الدین اکبر بادشاہ ۱۵۵۵ء تا ۱۶۰۵ ء کی تعمیر ہیں۔ خواجہ معین الدین اجمیری رحمتہ اللہ علیہ ۱۶۳۹ء اور خواجہ فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے کسب فیض کے لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر چلہ کشی کی، اور خواجہ معین الدین اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے چلہ کے بعد رخصت ہوتے وقت یہ شعر کہا؛۔ گنج بخش فیضِ عالم مظہر نورِ خُدا ناقصاں راپیرِ کامل، کاملاں را رہنما اسی سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ۔ گنج بخش ۔ کے نام سے شہرت ہوئی۔

 آپ کی تصانیف

آپ نے حسب زیل کتب کی تصنیف فرمائی، لیکن اب کشف المحجوب کے سوا کوئی اور کتاب نہیں ملتی۔

Pages: 1 2