1. The hand (daaman) of a Sheikh (spiritual teacher) is very wide. It must be held on to tightly and by Allah’s Will, there will be success afterwards. 2. A Sheikh (spiritual teacher) is made a source of Waseela (intercessor) and sake to gain complete blessings. 3. It is important to consider a Sheikh a center of caste and characteristic. 4. A student (Mureed) is of two kinds: (i) one is for religious work and (ii) the other is for worldly work. 5. To love an orphan is equal to loving the Holy Prophet Muhammad (s.a.w.s.) 6. At every level, a human’s own passion (to enter this path of Sufism) works for him. Bring out the interest in it, and Allah will Grant everything. 7. It is important to keep asking for the love of Allah and His Messenger (s.a.w.s.) 8. A request (dua) is Heard (by Allah) when a person requests (makes dua) by pure intention. 9. If you go for helping an elderly person (buzurg) then go with pain or fear. 10. The spiritual love for Allah is not only given start by doing ‘wazeefa’ or other readings; but only a Sheikh can give it a start, just like the Holy Prophet (s.a.w.s) gave the spiritual start for the love of Allah in the hearts of his (s.a.w.s) companions, so much so that whenever a companion felt hungry, he would simply turn towards the Holy Prophet (s.a.w.s.) which would give him peace and eliminate his hunger. (This is the spiritual connection between man and Allah via a Sheikh) 11. The speech of a worldly man is like that of a donkey. 12. I did a wrong act – why did you destroy your hereafter. 13. Complaints are for those who are loving. 14. It is important to see whether the student (Mureed) is regular for work or for us. 15. Blessings (Rehmat) are present everywhere, but there is no sense of seeing it. 16. Money is something which comes and leaves. 17. Whatever is said to a Mureed, he must keep doing that till the Day of Judgement; Don’t focus on what he is doing. 18. There are no changes in the commands of the Holy Prophet (s.a.w.s.); Love needs to be developed. 19. An animal is like a person who cannot talk; who understands every sign very well and identifies love. 20. Everyone knows that bribe is Haraam (forbidden), but they still accept it. 21. Hazrat Umar Farooq (Radi Allahu ‘Anhu) had seen the Holy Prophet (s.a.w.s) before embracing Islam, but when the time of love (i.e. embracing Islam) came, just one look worked and remained steady for the rest of his life. 22. A son is a representative of his father; A messenger is a representative of his Sender. 23. Haraam (unlawful) is that to which the Holy Prophet (s.a.w.s.) has not agreed. 24. To accept and implement the commands of the Prophet (s.a.w.s.) means ensuring that they are followed by all. 25. When the ability to do any good is taken away (by Allah), it is equal to Allah’s famine. 26. The biggest of Allah’s famine on a person is when he disobeys the Prophet (s.a.w.s.) 27. The acts of a messenger can be adopted. 28. To find out and learn about the acts of Muhammad (s.a.w.s.), one must refer to Ahadith. 29. When you do acts of goodness only then will you ponder; you will not ponder if doing bad acts. 30. An enemy will never listen to what you say; if anyone will listen, will be a friend only. 31. A bad act is nothing but disobeying the Prophet (s.a.w.s) is a bad act; the punishment for which is embarrassment. 32. You look for the nearness of the one you love. 33. To love a Sheikh is the love of the Prophet (s.a.w.s) 34. Always stay in a state of ablution. 35. The Ka’ba is a creation. 36. Why was Hajr-e-Aswad (The Black Stone) sent? Because the pagans used to worship idols made of stone. To get rid of 360 idols, it was important to prove and show the superiority of just one stone. 37. Manners create identity. That’s why the Holy Prophet (s.a.w.s.) wore humanity. 38. Nowdays, earning money is the biggest race in this world and religion is given no importance. The Kalma is read, but heartlessly. The value of Kalma will not be firm unless the value of the Holy Prophet (s.a.w.s.) is made firm (in your hearts). 39. The respect of the one who eats is more than the one who offers food. If the person being offered food abuses you, even then welcome him and feed him. 40. Allah is so Merciful that He never closes the Rizq of the sinner. 41. Sins do not close the Blessing of Rizq. If that was the case, then a whore would not get her share of Rizq. 42. The Dhikr of Kalma Tayyiba is the Sultan of all Kalmas. 43. Shari’at refers to accepting all rules and regulations of Islam. - Welcome to faizan-e-umoor.com
-- - O - -- شیخ کا دامن بہت وسیع ہے ۔ اس کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے اس کے بعد انشاء اللہ کامیابی ہی کامیابی ہے۔ -- - O - -- شیخ کو رحمت کاملہ کی شناخت کے لئے واسطہ اور وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ -- - O - -- شیخ کو ذات و صفات کا مرکز سمجھنا پڑتا ہے۔ -- - O - -- مرید دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک دین کے کام کا اور دوسرے دنیا کے کام کا۔ -- - O - -- یتیم سے محبت کرنانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ہے۔ -- - O - -- ہر مقام پر انسان کا اپنا جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کرو، اللہ تعالی ہر چیز عطا کر دے گا۔ -- - O - -- اللہ اور اس کے رسول ؐکی محبت کی طلب رکھنی چاہئے۔ -- - O - -- فریاد جب ہی سنی جاتی ہے،جب فریادی کی شکل بنائی جائے۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاوء تو درد لے کر جاؤ یا ڈر۔ -- - O - -- اہل اللہ اور فقرائے محمدی ؐکی نظر ہی کام کرتی ہے جو زندگی بھر قائم و دائم رہتی ہے۔ -- - O - -- عشق مجازی ۔۔۔۔۔۔مشکل بازی -- - O - -- عشق مجازی اور ادو وظائف سے طے نہیں ہوتا بلکہ شیخ ہی اس کو طے کرا سکتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺنے صحابہ کرامؓ کا عشق مجازی طے کرایا کہ اگر کسی صحا بی کو بھوک پیاس لگتی تو وہ رسا لتماب ﷺکے رخ مبارک کو دیکھ لیتے تو ان کو تسکین ہو جاتی تھی۔ -- - O - -- بیعت کسی صورت میں بھی نہیں ٹوٹ سکتی البتہ پیر عاق کر سکتا ہے جس کی وجہ سے فیضان بند ہو جائے گااور وہ مرد خدا نہیں بن سکتا ۔ -- - O - -- مردود کی شناخت یہ ہے کہ اس کے نیک اعما ل کرنے کی صلاحیت سلب کر لی جاتی ہے خواہ اس کا دنیاوی کاروبارجتنا مرضی بڑھ جائے۔ -- - O - -- معقول سے شکوہ ہوتا ہے،نا معقول سے کوئی شکوہ نہیں۔ -- - O - -- دنیا دارکی زبان گدھے کی زبان ہے۔ -- - O - -- برا فعل میں نے کیا تو نے عاقبت کیوں خراب کی۔ -- - O - -- فقیر کے مذاق میں خرابی نہیںآتی۔ ٓٓٓٓٓ -- - O - -- جب صورت بنتی ہے تو خدا سیرت بھی بنا دیتاہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والے سے شکوہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- دیکھنا ہوتا ہے کہ مرید کام کا پابند ہے یا ہمارا۔ -- - O - -- رحمت ہر جگہ موجود ہے مگر اسکو دیکھنے کا شعور نہیں ہے۔ -- - O - -- روپیہ آنے جانے والی چیز ہے۔ -- - O - -- جس سے جو کہہ دیا جائے،وہ قیامت تک اسی طرح اسے پورا کرے ، اس چیز کی طرف مت دیکھیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ -- - O - -- احکام رسالتماب ﷺمیں کوئی تغیرو تبدل نہیں۔عشق پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ -- - O - -- جانور ایک گونگے کی طرح ہے جو ہر طرح کے اشارات کو بخوبی سمجھتا ہے اور محبت کی نظریں پہنچانتا ہے۔ -- - O - -- قول مقدسہ ہے:زر، زمین،زن۔۔۔۔۔۔جنگ -- - O - -- روزی کے لئے ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ رشوت حرام ہے مگر لے رہا ہے۔ -- - O - -- بے عمل کیوں ہیں کہ حضورﷺسے رشتہ نہیں بنا۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاو تو درد لے کر جاؤ۔ -- - O - -- حضرت عمر فاروقؓ نے نبی کریم ﷺکو اسلام لانے سے پہلے بھی دیکھا ہوا تھا مگر جب محبت کا وقت آگیا تو پھر ایک ہی نظر کام کر گئی جو زندگی بھر قائم رہی۔ -- - O - -- بیٹا اپنے باپ کا نمونہ ہوتاہے۔مرسل اپنے بھیجنے والے کا نمونہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- حرام وہ ہے جس میں نبی کریم ﷺکی رضامندی نہیں ہے۔ -- - O - -- نبی کریم ﷺکے تمام احکامات مانے جانیں اور ماننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ سب احکامات کی پیروی کی جائے۔ -- - O - -- بدکار بہت روتا ہے مگر اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا ۔ -- - O - -- جب نیک عمل کی طاقت سلب ہو جاتی ہے، وہ ہی قہر ربی ہوتا ہے۔ -- - O - -- اور ادووظائف عظمت شیخ اور محبت شیخ کو مد نظر رکھ کر پڑھنے چاہیں۔ -- - O - -- سب سے بڑا قہر ربی نیک عمل سے رو گردانی ہے یعنی نا فرمانی رسولﷺ۔ -- - O - -- فرمان رسولﷺ کی تحقیق ضروری ہے کیونکہ بہت عربی مقولوں کو بھی لوگوں نے حدیث کی شکل دے دی ہے۔ -- - O - -- عدل و انصاف ایسی جگہ پیدا ہوتا ہے جس دل میں برائی کے اثرات واضح ہو جاےءں۔ -- - O - -- یار کے سب فرمان پورے کرنے چاہیں۔ -- - O - -- مرسل کے فعل کو اختیا ر کیا جا سکتا ہے۔ -- - O - -- افعال محمدیہؐکی تلاش کے لئے حدیث پڑھی جائے۔ -- - O - -- روپیہ پیسہ بیوی بچوں پر خرچ کیا جاتا ہے،ماں پر نہیں، کتنی بڑی بد بختی ہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والا ہی عمل کر سکتا ہے۔ -- - O - -- گور اور گھر اپنا ہونا چاہئے۔ -- - O - -- جب کرو گے نیک کام کی انجام وہی پر ہی سوچ بچار کرو گے، برے کام پر نہیں۔ -- - O - -- دشمن کبھی کہنا نہیں مانے گا، جب بھی مانے گا دوست ہی کہنا مانے گا۔ -- - O - -- برا کا م کوئی نہیں صرف نا فرمانی رسالتماب ﷺ برا کام ہے جس کی سزا شرمندگی ہے۔ -- - O - -- جس سے محبت ہوتی ہے، اس کے قرب کی تلاش ہوتی ہے۔ -- - O - -- شیخ سے محبت کرنا ، نبی کی محبت ہے۔ -- - O - -- ہر وقت با وضو رہنا چاہئے۔ شیخ کو با وضو دیکھے اور اس کی خدمت میں حاضر رہے۔ -- - O - -- آداب شیخ بھی اسی وقت سمجھ آئیں گے ، جب شیخ سے تعشق ہو گا،ورنہ پھر منا فق ہے۔ -- - O - -- اتباع اہل محبت کا شیوہ ہے، بغیر محبت کے اتباع نہیں ہو سکتی۔ -- - O - -- کعبہ مخلوق ہے۔ -- - O - -- حجرا سود کو کیوں بھیجا گیاصرف اس لئے کہ وہ لوگ پتھر کے بتوں کو پوجتے تھے،تین سو ساٹھ بتوں کی بجائے ایک پتھر کی عظمت قائم کرنا ، مقصود تھی۔ -- - O - -- تہذیب پہچان پیدا کراتی ہے اس لئے حضورکریمﷺنے انسانیت کا لباس پہنا۔ -- - O - -- آجکل دنیا داری دولت کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور مذہب کی کوئی پرواہ نہیں۔کلمہ پڑھاجاتا ہے مگر وقعت کچھ نہیں۔جب تک دل میں نبی کریم ﷺکی عظمت قائم نہیں ہو گی،کلمہ کی عظمت قائم نہیں ہو گی۔ -- - O - -- وہ اتنا کریم ہے کہ کسی کے گناہ پر روٹی بند نہیں کرتا اور نہ عبادت پر روٹی بڑھاتا ہے۔ -- - O - -- کھانا کھانے والے کی عزت کھانا کھلانے والے سے زیادہ ہے۔اگر کسی کو کھانا کھلایا جا رہا ہے اور وہ گالیاں دے تب بھی اس کو خوشامد کر کے کھانا کھلایا جائے۔ -- - O - -- شیخکا دامن وسیع ہے، اس کو مضبوطی سے پکڑا جائے، انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔ -- - O - -- اولاد کو عاق کیا جا سکتا ہے ، اس سے نزول رحمت بند ہو جاتا ہے مگر شفقت کی رگیں پھڑ کتی رہتی ہیں۔ -- - O - -- آجکل دنیا دار صرف روٹی کا درجہ پہچانتا ہے اسی لئے اس کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔ -- - O - -- ماں اور پیرو مرشد کے درجہ کو پہچاننا چاہئے ۔ -- - O - -- دنیا دار مانتا ہے، دنیا کے نفع کے لئے ، پیرو مرشد کو مانا جاتا ہے بغیر نفع و نقصان کے۔ -- - O - -- ہر کام میں صالح جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کر و۔ ہر چیز اللہ تعالٰی دے گا، طلب محبت رکھو ۔ -- - O - -- شیر کے شکار سے اور بھی فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ شیر بنو ، گیدڑ مت بنو۔ -- - O - -- فقر کے کو چہ میں سب سے بڑا کفر سہارا ہے۔ سہارا صرف محمد ی ﷺہے۔ اس اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو جس کو ذات محمدی ﷺنے بتلایا۔ -- - O - -- غریب کا ٹھکانہ کہیں نہیں ہوتا سوائے فقیر کے۔ -- - O - -- بندہ جب ہی ثابت ہو گا، جب اپنی عاجزی دکھائے گا۔ -- - O - -- مرید اپنے پیر کا نمونہ ہوتا ہے۔ فقیر ایک ضرور نمونہ چھوڑتاہے۔ -- - O - -- گناہ کسی کی روزی بند نہیں کرتا ، اگر گناہ سے روزی بند ہوتی تو طوائف کو روزی نہ ملتی۔ ؂ -- - O - -- اگر کوئی نیک بندہ راہ راست پر چلتا ہے تو سینکڑوں بندگان خدا سد راہ ہو جاتے ہیں۔ -- - O - -- کلمہ طیبہ کا ذکر سلطا ن الذکر ہے۔ -- - O - -- شریعت کے معنی ہیں۔ اسلام کی تمام شرائط ماننا۔ -- - O - -- طریقت دراصل طوق بندگی گلے میں ڈالنا ہے۔ -- - O - -- حقیقت سے مراد ہے، قناعت و توکل یعنی اپنے نفس کو قابو کرنا۔ -- - O - -- معرفت حقیقت میں ہمیشہ راضی بہ رضا رہنا ہے۔ رب ذولجلال کی خوشی میں خوش رہنا ، مگن رہنا۔ -- - O - -- ولی کامل وہ ہے جس کا تعلق مع اللہ کے ساتھ ساتھ مع المخلوق کا سلسلہ بھی قائم رہے تاکہ ختم نبوت کے بعد صالحین امت کا ایسا گروہ دنیا میں موجود رہے جس کے عمل و کردار پر بڑی حد تک نبوت کی چھا پ ہو اور ان کے اعمال و افعال میں قرآن و سنت کی روح جھلکتی نظر آئے تاکہ عامتہ الناس ا ن سے عملی طور پر استفادہ کر سکیں۔ -- - O - -- تصوف اصلاح باطن اور تصحیح نیت کا نام ہے۔(یہ تزکیہ اور احسان ہے) -- - O - -- صوفی حقیقیت میں قرآن و سنت کا عالم اور سنت نبوی ﷺ و آثار صحابہ کا متبع ہوتا ہے اور یہی اصل دین ہے۔ -- - O - -- ہمزاد اور جناب کو قید نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی نے جب اپنی مخلوق کو آزاد پیدا کیا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں ، کسی کو قید کرنے والے۔ مخلوق کی ضروریا ت ہیں ، پھر اس مخلوق کی بھی ضرورت پوری کرنی ہو گی۔ -- - O - -- ہم کلام کے نہیں کلیم کی قائل ہیں۔ -- - O - -- تم صر ف اس بات پر نظر رکھو گے کہ میں کسی سے کیسے ملتا ہوں ۔ کوئی مجھ سے کیسے ملتا ہے، باقی باتوں کو صرف نظر کر دو مگر اپنے شیخ سے اپنی عقیدت اور محبت کو استوار رکھو۔ -- - O - -- جو بھی کام کرنا ہے، اسی زندگی میں کرنا ہے۔ عمل کرو گے تو نتیجہ تمہارے سامنے آجائے گا۔ -- - O - -- خوش خبری یہ ہے کہ قیامت کے روز فرشتوں کو پروردگار حکم دیں گے کہ میرے تمام دوست میزان کے چاروں طرف جمع ہو جائیں پھر پروردگار ان سے فرمائیں گے کہ دنیا میں ایک لقمہ جس نے روٹی کا کھلایا ہے۔ ایک گھونٹ جس نے پانی کا پلایا ہے۔ ایک نظر جس نے محبت سے دیکھا ہے، نبی کریمﷺ اس کا بازو پکڑ کر جنت میں جس دروازے سے چاہیں ، اس کو داخل کر دیں ۔ -- - O - -- قیامت کے دن جبکہ نفسا نفسی کا عالم ہو گا، نبی بھی اس میں مبتلا ہو ں گے اور کو ئی کسی کو پہچا ننے والا نہ ہو گا ۔اللہ کے دوست اور ولی حسب مرا تب ہا تھو ں میں ان کے علم ہوں گے اور بڑ ے خوبصو ر ت اور سا یہ دا ر درختو ں کے نیچے اپنے مر ید ین کو لئے کھڑ ے ہوں گے تو پھر سر کا ر دو جہاں نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس تشر یف لا ئیں گے اور ان سے پو چھیں گے 'آپ کے سب آ دمی آ گئے 'یعنی تصدیق کرکے ۔ -- - O - -- جہاں دو پیر بھا ئی مو جو د ہو تے ہیں وہاں تیسرا پیر مو جو د ہو تا ہے ۔ -- - O - -- صو فی وہ ہے جو دونوں طر ف سے صا ف ہو یعنی نہ تو وہ کسی کی ملکیت میں ہو نہ کو ئی اس کی ملکیت میں ہو ۔ما سوا "اللہ "کے۔ -- - O - -- فقر یہ ہے کہ جو کچھ انسا ن کے پاس ہو اس پر قنا عت کر ے اور زیا دہ کی تمنا نہ کر ے اور نفس کی ہمیشہ مخالفت کر ے ۔ رمو ز خدا وند ی کی کسی پر ظا ہر نہ کر ے ۔ -- - O - -- تصو ف یہ ہے کہ دو نوں چیز و ں میں زیا دتی کا پہلو تر ک کر دے ۔یعنی فقر اور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقر ا ور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقرا سے تعلق رکھے 'عا جز ی سے ثا بت قد م رہے ۔بخشش و عطا ر پر معتر ض نہ ہو اور اعما ل صا لح کر ے ۔ -- - O - -- اپنے نفس کا حکم نہ ما ننا پر ہیز گا ر ی ہے اور نفس کو تا بع کر نا پر ہیز گا ری کا فعل ہے ۔ -- - O - -- ترک شکا یت کا نا م صبر ہے ۔ -- - O - -- جو شخص احکا م الہی کا استقبا ل خند ہ پیشا نی سے کر تا ہے ۔ اس فعل کو را ضی بہ رضا الہی کہا جا تا ہے ۔ -- - O - -- قلب کی تین قسمیں ہیں ۔ اول وہ قلب ہے جو کو ہ گراں کی طر ح اپنی جگہ اٹل رہتا ہے ۔ دوم وہ قلب ہے جو تنا و ر در خت کی طر ح مستحکم اور مضبو ط ہوتا ہے مگر اس قلب کو با د تند کے تھپیڑ ے ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور کبھی کبھی اس کواکھاڑ پھینکتے ہیں ۔سو م وہ قلب ہوتا ہے جو پرندوں کی طر ح پروا ز کر تا رہتا ہے ۔ -- - O - -- زند گی کے لئے کو ن سی چیزیں ضر و ری ہیں ۔ اول: کھانا مگر بقا ئے زند گی کی حد تک 'دو م : پا نی صر ف رفع تشنگی کے لئے 'سو م :لبا س صرف ستر پو شی کی حد تک 'چہا رم : علم صر ف عمل کی حد تک ۔ -- - O - -- فقیر بنا ہے : ف سے فنا ہو نے والا 'ق سے قنا عت 'ی سے یا ر 'ر سے رقت قلب۔ -- - O - -- محبت اور ملکیت ایک جگہ جمع نہیں ہوتیں ۔ جو اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اپنی جا ن 'ما ل 'نفس سب کچھ اللہ کے حوالے کر دیتا ہے ۔ اور اللہ کے تصر فا ت پر اعترا ض نہیں کرتا ۔ اللہ کی طر ف سے جو کچھ اس کو ملتا ہے 'قبو ل کر لیتا ہے ۔ صرف ایک سمت (یعنی اللہ) کے سوا جملہ سمتیں اس کے لئے بند ہو جا تی ہیں تب اس کی محبت کا مل ہو تی ہے ۔ -- - O - -- تند ر ست وہ ہے جو جھوٹ نہ بو لے اور دوسروں کو جھوٹ بو لنے کی تلقین نہ کر ے ۔ خو د بھی مکمل طو ر پر سچا ہو اور دوسروں کو بھی سچ کی تلقین کر ے ۔ سچ کو پر کھنے کی تین کسوٹیاں ہیں ۔ اللہ کی کتا ب 'رسولؐ اللہ کی سنت اور سچے کا قلب۔اس قلب پر جب کو ئی عکس پڑ تا ہے تو یہ قلب اس وقت تک مطمئن اور را ضی نہیں ہو تا جب تک کتا ب اور سنت سے اس کی تصدیق نہیں ہو جا تی ۔ -- - O - -- علم پر عمل کر نے سے قلب صاف اور پا ک ہو جا تا ہے ۔ جب قلب درست ہو جا تا ہے تو با قی اعضا ء بھی درست اور پا ک صا ف ہو جا تے ہیں ۔ جب قلب کو تقو یٰ عطا ہو تا ہے ۔ تو جسم کی بھی اصلا ح ہو جا تی ہے ۔ -- - O - -- با طن پر ند ہ ہے اور دل اس کا پنجر ہ ۔ دل پر ند ہ ہے تو بد ن اس کا پنجر ہ ۔ اور قبر سا ری مخلو ق کا پنجر ہ ہے کیوں کہ انجا م کا ر سبھی کو اس میں جا نا ہے ۔ -- - O - -- اللہ کے سوا کسی سے مت ڈرو ۔ انسا ن کے دُکھ درد میں شر یک رہو ۔ دُنیا میں اس طر ح رہو جس طر ح کو ئی لا ئق رہتا ہے ۔ اپنے دل و دما غ کو تکبر اورغر و ر سے پا ک رکھو کیو نکہ اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں چیزیں با لکل ناپسند ہیں ۔ -- - O - -- کا ئنا ت کا وجو د خالق سے الگ نہیں سمندر کی لہریں سمندر سے الگ نظر آتی ہیں لیکن فر یب نظر ہے ۔ نا م جد ا سہی لیکن حقیقت ایک ہے ۔ شعا ئیں آفتا ب سے لہریں سمند ر سے الگ نہیں ہو تیں ۔ جس طر ح پھو ل کے مر جھا جا نے اور نغمے کے ختم ہو نے کے بعد بھی خوشبو اور مو سیقی کی لہریں کا ئنا ت میں با قی رہ جا تی ہیں ۔ اس طر ح انسا ن مو ت کے بعد "کل "میں جذ ب ہو جا تا ہے ۔ کا ئنا ت کا ایک ظا ہر ہے جو ہم سب کو نظر آرہا ہے ۔ اور کا ئنا ت بظا ہر کثر ت ہے ۔ لیکن حقیقت میں وحد ت ہے ۔ -- - O - -- تقد یر خد ا کی رضا ہے ۔ اور انسا نی اعما ل خدا کی تخلیق ہے ۔ انسا ن تقدیر کے سا منے مجبو ر اور بے بس ہے لیکن اعما ل پر قادر ہے ۔ بر ے کر ے یا اچھے ۔ -- - O - -- سما ع جا ئز ہے یا نا جا ئز سما ع اہل حق کے لئے مستحب ہے ۔ اہل زہد کے لئے مبا ح اور اہل نفس کے لئے مکر و ہ ہے -- - O - -- فقیر ی یہ ہے کہ مر ید کے دما غ میں ایک ایسی تصو یر گھس جا ئے کہ وہ جد ھر دیکھے اس کو وہی تصو یر نظر آ ئے ۔ -- - O - -- انسا ن چلہ کشی سے شر ک میں مبتلا ہو جا تاہے کیونکہ اس کی نظر اسبا ب پر چلی جا تی ہے مسب سے اُٹھ جا تی ہے ۔

Islamic Calender

Prayer Time

Country
City
Date

Fajr
Sunrise
Zuhr
Asr
Maghrib
Isha

Islam Info

القرآن الكريم

أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ

الآية رقم 8

من سورة الرحمن

Quran-e-Pak

Asmaul Husna

Islamic books

Ayat of the day


تعلیما ت شیخ

حضرت سید امو رالحسن شا ہ علیہ الر حمتہ کی ذا ت با بر کا ت نے بے شما ر مواقع پر اپنے دوستوں ‘مر یدوں ‘محبت کر نے والوں اور عا متہ الناس کی رو حا نی ‘علمی اور دینی و دنیا وی معا ملا ت کے سلسلہ میں جو تعلیم فر ما ئی ‘ان تما م ملفو ظا ت شیخ کو یہ تما م و کما ل نقل نہیں کیا جا سکا البتہ جو چند مختلف مواقع پر ارشا دا ت تعلیم و تر بیت کی غر ض سے فر ما ئے اور جو کسی نہ کسی طر ح محفو ظ رہ گئے ‘قلمبند ہو ئے یا سینہ بہ سینہ مر یدوں سے پتہ چل سکے ‘انہیں آ ئندہ اورا ق میں اختصار کے سا تھ دی جا رہا ہے تا کہ اس سے عا م و خاص استعفا دہ کر سکیں ۔

لفظ حق کی تشر یح

سلسہ عالیہ صا بر یہ چشتیہ میں جب ہم اکثر فر ض نما ز کے بعد حق حق حق کا ورد کر تے ہیں تو اس سے در اصل اس حقیقت کی وضا حت مقصود ہے کہ اس کی حقیقت سے بڑ ھ کر کو ئی حقیقت نہیں جو ثا بت ‘لا زوال اور اٹل ہو سکتی ہے ۔ فطر ت اور قد رت کا یہ لا زمی قا نو ن ہے کہ وہ حق و با طل کی جنگ میں صر ف حق ہی کو با قی رکھتا ہے اس لئے کسی بات کے امر حق ہو نے سلسلہ میں یہ کہہ دینا کا فی ہے کہ وہ حق ہے یعنی لا زوال اور ہمیشہ قا ئم رہنے والی حقیقت ۔ اہل سلسلہ اس کو تین بار پکار تے ہیں ۔ یہ تقلید حضرت احمد عبد الحق ردولو ی علیہ الر حمتہ سے شروع ہو ئی کیو نکہ وہ اکثر و بیشتر حق حق حق کا نعرہ بلند فر ما تے رہتے تھے ۔

 

ذکر الہٰی کی فضیلت

یا د الہی ہی کو ذکر کہتے ہیں ۔ اجتما عی طور پر جو ذکر کیا جا تا ہے ۔ اس کی غر ض و غا یت تربیت ہے تا کہ دل ہر لمحہ اس سے غا فل نہ ہو ۔ قر آ ن مجید میں ذکر کے متعلق 164سے بھی زا ئد اور 40 سے زا ئد احا دیث نبو ی ؐ میں اس کی فضیلت کا بیا ن ہے ۔ حافظ ابن قیم علیہ الر حمتہ نے ذکر الہی کے سو سے زا ئد فوا ئد تحر یر فر ما ئے ہیں ۔ذکر الہی اور ذکر نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کو ئی تعد ا د معین اور مقر ر نہیں ہے ۔ جس طر ح ہوا ور جس قد ر ہو سکے ادب و احترا م اور خلو ص و عقید ت ‘عجز و عا جز ی اور انکسا ر ی سے انسا ن کو ذکر الہی اور درود و سلا م کی کثر ت میں مشغو ل رہنا چا ہیے ۔ یہ خیا ل نہیں کر نا چا ہیے ۔ یہ خیا ل نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارا منہ کہاں کہ ہم ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کر سکیں ۔ اس خیال نے بہت سے لوگوں کو اس نعمت عظمیٰ کے حصو ل سے روک رکھا ہے ۔اسلا م ظا ہر ہے اور اس سے بڑ ھ کر کو ئی عبا دت نہیں اور نہ ہی کو ئی اطا عت ۔ تما م عبا دا ت کا رتبہ اس سے کم ہے ۔ تم حالت نا پا کی میں کلمہ طیبہ پڑھ سکتے ہواس لئے کہ زبا ن پا ک ہے تو اس لحا ظ سے ذکر الہی بھی ہر وقت کر نا درست ہے ۔ اگر کو ئی یہ بہا نہ طرا ز ی کر ے کہ ہم گنہگا ر ‘ہمارا منہ خُدا کی یا د کے قا بل کہاں ؟ اس معا ملہ میں شر یعت کا یہ حکم ہے کہ قا بل ہو یا نہ ہو کا م کر نا چاہیے ۔ شر ف قبو لیت سے نوا زنے والی ذات الہ العا لمین رحیم و کریم ہے ۔ اس میں بھی ایک را ز مضر ہے وہ یہ کہ اگر کو ئی بغیر طہا ر ت غیر ما سوا کے ‘اطاعت نہ کر ے ۔ جب بھی ذکر یا اطاعت کر ے گا تو پھر خو د کو پا ک و طا ہر اور اس کو سمجھے گا حا لا نکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت حقو ق کے اعتبا ر سے کو ئی بھی اس قا بل اور طا ہر نہیں ہو سکتا ۔ اس طر ح جب بھی ہم کو ئی اطاعت کر یں گے وہ نا قص ہی ہو گی تو وہ لو گ جو اس انتظار میں ہیں کہ جب ذکر کے قا بل ہو ں گے ‘کریں گے تو وہ خدا کی عظمت کی نسبت کے لحا ظ سے نا قص رہیں گے ۔ کبھی بھی اس کی شا یا ن شا ن بند گی کا حقو ق بجا لا نے کے قا بل نہ ہو سکیں گے ۔ اہل تر بیت کا معقو لہ اور ارشا د ہے کہ خو د کو ریا کا ر سمجھ کر کا م شروع کر دو ۔ یہی ریا بعد میں عبا د ت بن جا ئے گی ۔ اللہ تعالیٰ کا در با ر عالیٰ عجیب ہے کہ خود کو نا قص جا نتے ہو ئے عبا د ت کر نے سے بھی تکمیل ہو جا تی ہے ۔ اور رحمت حق تو بہت وسیع اور بے کراں ہے ۔ ایک حا ئز ہ عورت جس کو ہر وقت خو ن جا ری رہتا ہے ‘شر یعت اس کو حکم دیتی ہے کہ تو ایسی حا لت میں نما ز پڑھ سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے قبو لیت کا شر ف بخشیں گے ۔ بندہ وہی بہتر ہے جو اپنی کو تا ہی کا عذ ر در بار خدا وند ی میں لا ئے ور نہ کو ئی شخص ایسا نہیں کہ اس کی عظمت کے لا ئق طا عت بجا لا ئے ۔یا د الہی بہت بڑی نعمت اور لا زوال دولت ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جسے نما ز اور جہا د وغیر ہ تمام عبا دا ت کی رو ح کہہ سکتے ہیں ۔ اگر یہ نہ ہو تو عبا د ت کیا ۔ ایک جسد بے رو ح اور لفظ بے معنی ہے ۔حضرت ابو دردا ء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘وغیر ہ کی احا دیث کو دیکھ کر علما ء نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ ذکر الہی سے بڑ ھ کر کو ئی عبا د ت نہیں ۔ اصل فضیلت اسے ہی حا صل ہے ۔ یو ں عا رضی اور وقتی طو ر پر کو ئی ذکر الہی سے سبقت لے جائے وہ دوسر ی با ت ہے لیکن اگر غو ر کیا جا ئے تو ما ننا پڑ ے گا کہ ایسے عمل میں بز رگی و بر تر ی بھی ذکر ہی کی و جہ سے آ ئی ‘بہر حا ل ذکر الہیتما م اعما ل سے افضل ہے اور جب وہ نما ز کے ضمن میں ہو تو افضل تر ہو گا۔ قرآ ن و حد یث میں وارد ہے کہ جب بند ہ اللہ تعالیٰ کو یا د کر تا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو یا د کرتا ہے ۔ ذکر اس لحا ظ سے بہت بڑ ی نعمت ہے ۔ اس کی انتہا ئی قد ر کر نی چا ہیے ۔ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عر ض کی کہ مجھے کو ئی چیز بتا دیجئے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :تیر ی زبا ن ہر وقت اللہ کے ذکر سے تر ہو نی چا ہیے ۔

مر ید اور مرا د

ایک مجلس میں آپ نے ارشا د فرما یا : مر ید و ہ شخص ہے جو اپنے نفس کے لئے وہی با ت چا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس کے لئے چاہے اور مرا د وہ شخص ہے جو دونوں جہا ن میں اللہ تعالیٰ کے سوا کو ئی چیز اس سے نہ ما نگے ۔ بس وہ اپنے اراد ہ میں ارادہ حق پر را ضی ہو جا ئے تا کہ وہ مراد ہو ۔ اس لحا ظ سے عا شق الہی کا اپنا کو ئی اراد ہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ حق تعالیٰ کی مرا د ہے ۔ اس لحا ظ سے جو شخص اللہ تعالیٰ کو چا ہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں چا ہے گا مگر جو اللہ چا ہے گا ۔ ارا دہ حق پر را ضی ہو نا ، طا لب حق کے مقا ما ت کی ابتد ا ء ہے ۔

تقد یر اور اس کا مفہو م

پیر جی امو ر الحسن شا ہ علیہ الر حمتہ نے ایک دن قسمت اور تقد یر کے با ر ے میں یو ں ارشا د فر ما یا : جان لو کہ ہرحکم کا ایک سببہو تا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ چا ہتا ہے کہ کسی عا م بچے کو تخت و تا ج کا ما لک بنا دے تو پہلے اس کو تو بہ کی تو فیق بخشتا ہے اور پھر اسے اپنی کسی دوست کی خدمت میں بھیج دیتا ہے تا کہ اس کی یہ خدمت نجا ت کا سبب بن جا ئے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے اولیا ء کو ان لوگو ں کےدر میان جو اہل زما نہ کی دین سے غفلت اور سستی اور ان کی آ فتوں میں مبتلا ہیں ‘پو شید ہ رکھا ہے اور ان لوگو ں کو اولیا ء سے دور کر رکھا ہے ۔ جہاں تک تقد یر کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ اب تو معا ملہ بہت آ گے بڑ ھ گیا ہے ۔ لو گو ں نے تقد یر کو با لا ئے طاق رکھ کر بزر گو ں سے مرا دیں ما نگنے پر اتر آ ئے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے سوال کر نے کی بجا ئے غیر اللہ سے سوال کر تے ہیں کہ فلاں بز ر گ کے نا م پر مجھے دے یا فلاں ولی کا واسطہ ۔ اس کی اصل یہ ہے کہ جب اہل دیو ان (اولیا ء اللہ ) نے اللہ کے سا تھ بے تعلقی رکھنے والوں کی اور دل میں قو ی ظلمت رکھنے والوں کی تعد اد میں کثر ت دیکھی کہ ان کی ذات خبیث اور گند گی بن گئی ہے تو اہل دیو ان کا دل چا ہا کہ ہما ر ے خا لق جل جلا لہ کا وہی نام لے جو پا ک اور صا ف ہو تو ان لوگوں کے قلو ب کو غیر اللہ کے سا تھ مر بو ط کر دیا ۔ اس میں بھی یہ ایک را ز ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دُعا قبو ل کر تا ہے جو دُعا ما نگتے وقت اپنے قلب و با طن سے ہمہ تن اپنے خالق کی طر ف متو جہ ہوں ۔دُعا کی قبو لیت کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ جو دعا ما نگ رہا ہو ‘اللہ تعالیٰ وہ شئے اس کو عطا کردے یا عطا نہ فر ما ئے مگر عطا نہ فرما نے کے راز سے اس کو مطلع کردے ۔ یہ مقا م اہل اللہ اور اولیا ئے کبا ر کا ہے نہ کہ اہل حجا ب کا ۔اس حا لت میں قوی ظلمت رکھنے والوں کے دلوں میں طر ح طرح کے شک اور غلط وسو سے لا حق ہو جا ئیں گے کہ نعوذ با للہ کوئی وجو د ہو تا تو ضر و ر اس کی کر یہ و زاری اور آہ و بکا پر تر س کھا تا وغیر ہ۔ اس حا لت میں اس سے ایما ن بھی گیا ۔ انہی وجو ہا ت کو مد نظر رکھتے ہو ئے ‘اہل اللہ اور فقر ا ء نے عوام النا س کی عقو ل کی نیک بندوں کے سا تھ وابستہ کر دیا تاکہ مرا د پو ری نہ ہو نے کی صو رت میں ان کے دل میں وسواس و شکو ک اور جملہ شبہا ت جو وارد ہوں تو وہ صر ف اولیا ء اللہ کی ولا یت اور بزر گی تک ہی محدود رہیں اور وہ شخص کفر کے زمر ے میں نہ آئے ۔ ولا یت سے انکا ر کفر نہیں جبکہ ذات اور احد یث سے انکا ر کفر ہے ۔

 

مرشد سے تعلق کی بر کا ت

ایک مجلس میں آپ نے مر شد سے تعلق کے ثمرا ت کے با ر ے میں یوں ارشا د فرما یا : مر شد کے سا یے تلے آ نے کا مقصد اور مطلب اس سے تعلق پیدا کر نا ہے ۔ ان کی مجا لس میں آپ کو علو م ملیں گے ۔ جتنا تعلق بڑ ھا ؤ گے اتنی ہی محبت بڑ ھے گی ۔ اس سے دو قسم کے ثمر ا ت میسر آ ئیں گے ۔ ایک یہ کہ ان کی دعا قبو ل ہو تی ہے ۔ ان کی زبا ن سے دعا کا نکلنا اس با ت کی وا ضح اور بین علا مت ہے کہ حق تعالیٰ کے فضل و کر م کا وقت آگیا ہے ۔ دوسر ی و جہ مخفی اور پو شید ہ ہے ‘وہ یہ کہ تمہا رے اعما ل میں ان کی محبت سے بر کت ہو جا ئے گی ۔دراصل مقنا طیس کی طر ح ان کے قلب میں کشش ہو تی ہے جو طا لب کو اپنی طر ف کھینچتی ہے ۔ فقرا ئے محمد ی ؐ کا قلب حق تعالیٰ سے ملا ہو تا ہے ۔ وہ طا لب کو حق سے ملا دیتے ہیں ۔ یا د رہے کہ طا لب میں خلو ص ہو نا انتہا ئی ضر و ری ہے ۔

ادب کی تین قسمیں

آ پ علیہ الر حمتہ نے ارشا د فر ما یا : جا ن لو کہ لو گ آ دا ب میں تین قسم کے ہو تے ہیں ۔ پہلی قسم اہل دنیا ہیں ۔ ان کے نز دیک’فصا حت ‘بلا غت ‘علوم و فنو ن اور تحقیق و تد و ین ہو تی ہے ۔ دوسر ی قسم اہل دین ہیں ۔ ان کے نز دیک ادب ‘نفس کو ریا ضت و مجا ہد ہ کا عا دی بنا نا ‘اعضا ء کوتا دیب ‘حد و د الہی کی حفا ظت اور خوا ہش نفسا نی کو تر ک کر نا ہے ۔تیسر ی قسم اہل خصو صیت ہیں ۔ ان کے نز دیک دل کو پاک رکھنا ‘با طن کے بھید کی رعا یت کر نا ‘عہد پورا کر نا ‘وقت کی نگہدا شت ‘اور پرا گند ہ خیا لا ت کو کم کر نا ہے نیز طلب اور قرب کے مقا ما ت اور حضور ی کے اوقا ت میں بہت اچھا ادب کر نا ہے ۔
یہ تینوں با تیں ایک دوسر ے سے وا بستہ ہیں اس لئے کہ جس کو مر و ت حا صل نہیں اس کو سنت کی بھی حفا ظت حا صل نہیں ‘اس کو حر مت کی بھی رعا یت حا صل نہیں کیو نکہ معا ملا ت میں آ دا ب کی حفا ظت اس وقت حا صل ہو تی ہے جب دل سے مطلو ب کی تعظیم کی جا تی ہے ۔
اور بیٹا اد ب ہی ہے طر یقت کالب لبا ب۔

بیعت کی حقیقت اور ضر و رت

سلا سل اولیا ء اللہ میں داخل ہو نا معر فت حق حا صل کر نے کے لئے یہ اجما ع اولیا ء و صلحا ء ‘مشا ئخ و علما وا جب اور لا زمی ہے۔ اس پر محقق ظا ہر ی و با طنی ‘متقد مین و متا خر ین سب کا اتفا ق اور اجما ع ہے ۔ اس مقد س طر یقہ کا اختیا ر کر نا سبب قر ب ربا نی اور مو جب بر کا ت و فیو ض و صفا ت ہے ۔ اس مبا رک اور پسند ید ہ طر یقہ کو دید ہ دا نستہ تر ک کر نا ‘چشم پو شی یا ردو نزاع کا در واز ہ کھو لنا درا صل مسلما نوں کا شیرا ز ہ بکھیر نے اور فسا د پیدا کر نے کے متر ادف ہے اور یہ امر رب جلیل کے نز دیک سب سے زیا دہ ناپسند ید ہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے “لا تفسد و فی الا ر ض” ( زمین میں فسا د نہ کر و ) فر ما یا کہ ایسے لوگو ں کی مذمت کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس پسند ید ہ طریقہ کےبا رے میں اختیا ر کرنے کی نسبت فر ما یا ہے :تر جمہ : اے ایما ن والو خو ف الہی رکھتے ہو ئے اس کی طر ف وسیلہ تلا ش کر و اور اللہ کی راہ میں مجا ہد ہ کر و تا کہ تم فلا ح حا صل کر سکو ۔” (سو رہ ما ئد ہ )
حضرت شا ہ ولی اللہ علیہ الر حمتہ کی بھی یہی تحقیق ہے ‘انہوں نے اپنی کتا ب القول الجمیل میں لکھا ہے ۔ اس کا تر جمہ شفا ء الطیل میں یہ در ج ہے :
“اس آیت میں وسیلہ سے مرا د بیعت مرشد ہے ۔”

پھر اس کے بعد مجا ہد ہ اور ریا ضت ہے ‘ذکر و فکر میں تا کہ فلا ح حا صل ہو کہ عبا د ت ہے وصول ذا ت پا ک سے ۔”
نیز ارشا د خدا وند ی ہے :
تر جمہ :”اپنے رب کی طر ف وسیلہ تلا ش کر تے ہیں کہ ان میں سے کو ن اللہ سے زیا دہ قر یب ہے کہ اس سے توسل کریں اور رحمت الہی کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذ اب سے ڈر تے ہیں ۔”( سو رہ بنی اسرا ئیل )
تما م حضر ا ت سلف صا لحین جن کا صا دق القو ل ہو نے کا جمہور اسلا م کو یہاں تک یقین ہے کہ وہ با لا تفا ق اولیا ء اللہ تسلیم کئے جا تے ہیں ۔ ان کا انہی آیا ت شر یفہ پرعمل رہا ہے ۔ وہ خود بھی مر ید ہو ئے اور دوسروں کو مر ید کیا ۔ جن میں بڑ ے بڑ ے خلفا ء ‘سلا طین و امرا ء کے علا وہ علما ء ‘صفحا ء اور زہا د بھی شا مل ہیں۔
عورتوں کی بیعت کے بار ے میں سو رہ ممتحنہ میں ارشا د خد ا وند ی ہے :
“اے نبی جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی خد مت میں مسلما ن عورتیں حا ضر ہوں تا کہ وہ بیعت ہوں اس شر ط پر کہ اللہ کے سوا کسی کو شر یک نہ کریں ‘چو ری نہ کریں اور زنا نہ کریں ‘اور اپنی اولا د کو قتل نہ کریں اور کو ئی افترا ء و بہتا ن آ گے پیچھے نہ با ند ھیں اور کسی نیک کا م میں آپ ؐ کی نا فر ما نی نہ کریں تو انہیں بیعت فرما لیجئے اور ان کی بخشش طلب فر ما ئیے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربا ن ہے ۔”
نکتہ :اس سے یہ با ت وا ضح ہو ئی کہ شیخ کا کا م مر ید کے لئے بخشش طلب کر نا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہر با ن ہے ۔
بیعت نہ فر ض ہے نہ وا جب بلکہ سنت ہے ۔ اگر و اجب ہو تی تو ضر و ر اُس کے تا رک پر افکا ر وارد ہو تے معلو م ہواکہ بیعت سنت ہے اور حقیقت سنت میں فعل مسنو ن بلا دلیل و جوب تقر ب الی اللہ کا مو جب ہے ۔

مر ید کے لئے شرا ئط

مر ید کے لئے عا قل و با لغ ہونا شر ط ہے کیو نکہ نا با لغ اور پا گل و مجنو ن خو د ایما ن کا مکلف نہیں تو تقو یٰ اور اجتہا د فی الطا عا ت کا اس کے حق میں کیا ذکر ۔
بعض مشا ئخ بچوں کی بیعت کو جا ئز سمجھتے ہیں ۔ اس کی و جہ صر ف بر کت اور نیک فال ہے ۔ اس کی دلیل مسلم شر یف کی حد یث ہے کہ حضرت زبیرؓ اپنے بیٹے عبد اللہؓ کو بیعت کے واسطے لا ئے اس وقت وہ سا ت بر س کے تھے ۔ سو بنی کر یم صلی اللی علیہ وسلم کو اپنی طر ف متو جہ دیکھ کر تبسم فر مایا پھر ان سے بیعت لی ۔

اقسا م بیعت

بیعت کی کئی قسمیں ہیں :
بیعت کی پہلی قسم معا صی اور گنا ہوں سے تا ئب ہو نے کے لئے ۔ بیعت کی دوسر ی قسم بیعت تبر ک ہے ۔ اس بیعت کا مقصد صا لحین کے سلسلہ میں دا خل ہو کر حصول بر کت ہے ۔ بیعت کی تیسر ی قسم خلو ص کے لئے مصمم ارادہ کر نا ہے ۔ امر الہی اور تر ک منا ہی کے ظا ہر اور با طن سے ‘یہی طر یقہ اصل ہے اور اسی میں ہما ر ے بز ر گا ن بیعت لیا کر تے ہیں ۔
بیعت کے نو ر کی آبیا ری اور دیکھ بھا ل کا تعلق سراسر مر ید کے اراد ہ ‘محبت شیخ اور تقلید شیخ پر مبنی ہے ۔
احسا س
احسا س ہی ایما ن ہے ۔اگر نیکی کر نے کے بعد دل کو را حت ہوتو یہ امر ایما ن کی پختگی کی د لیل ہے ۔ اگر برا ئی کر کے اس برا ئی کا احسا س ہو جا ئے تو یہ بھی ایما ن کی سلا متی کی نشا نی ہے ۔ اگر برا ئی کر کے احسا س ہی نہ ہو تو اللہ ہی حا فظ ہے ۔

تصو ف

تصو ف کی تعر یف ایک جملہ میں یوں ہے کہ خود کسی کا ہو جا ئے اور اپنے مطلو ب کو رو ح اور قلب دونوں میں جگہ دے تو عین تصو ف ہے ۔

فیو ض و بر کا ت شیخ

شیخ کا کا م ہے کہ وہ مر ید کا اللہ تعالیٰ کے سا تھ تعلق پیدا کرے ۔ وہ دینو ی فر وعا ت میں نہ پڑ ے ۔ اس کی و جہ سے ابتدا ء میںمر یدکو تکلیف محسو س ہو تی ہے مگر اصل کو دیکھ کر وہ ہرلحا ظ سے مطمئن ہو جا تاہے ۔
جب تک طا لب خو د کو “لا “نہ کر ے “الہ “تک اس کی رسا ئی نہ ہو گی ۔ اور وہ بھی حضور اکر م صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخ کے توسل سے ‘کیو نکہ خالق اور مخلو ق کے در میا ن ایک پر دہ ہے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و بر کا ت سے متعلق ہے کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس نو ر کو پیدا فرما یا وہ نور حقیقت محمد ی ؐ ہے ۔ اس کے بعد دیگر مخلو ق کو جس میں فر شتے ‘انبیا ء اور انسا ن شا مل ہیں ‘پیدافرما یا ۔ اللہ تعالیٰ کی رسا ئی حا صل کر نے کے لئے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتا ئے ہو ئے راستہ پر چلنا ہو گا گو یہ مشکل ہے
اس لئے اس آ دمی کو وسیلہ پکڑو جو وہاں تک رسا ئی حا صل کر چکا ہو ۔ وہ آپ کو منز ل مقصو د تک پہنچا دے ۔

اور ادو وظا ئف

شیخ کامل کی تو جہ کے بغیر تما م وظا ئف بے سو د ہیں اور اگر تو جہ مو جو د ہے تو وظا ئف کی ضر و رت نہیں البتہ حکم عدو لی در ست نہیں ۔ شیخ کی جا نب سے جن اوراد کی تلقین کی جا ئے ‘ان کو پو را کر تے رہنا چاہیے کیو نکہ فرما ن شیخ کی اطا عت بھی شیخ کی تو جہ قائم رکھتی ہے ۔ شیخ کی حیثیت ظل نبی کی ہو تی ہے ۔ اس کی یا د تم کو ان کی تو جہ میں رکھے گی اس طر ح تم خود قا بو پا ئے رکھو گے اور فیضا ن نظر بھی جا ری رہے گا ۔

نا فع محبت

محبت انسا ن کو دیوا نہ بنا دیتی ہے ۔ خوا ہ یہ محبت کسی سے ہی کیوں نہ ہو تو بہتر اور افضل بات یہی ہے کہ پھر محبت برا ئے خد ا وند قد و س آ قا ئے نا مدا ر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی جا ئے تا کہ دین و دنیا دونوں میں آ سا نی میسر آ ئے ۔ اس کے لئے بھی کسی کے جو تے سیدھے کرنے ہوں گے اور وہ ہے ذات شیخ ۔

حفظ مرا تب

عورت عورت ہی ہے ۔ وہ ماں ہو ‘بیو ی ہو یا بہن مگر لذا ت نفسا نی کے لئے بیو ی کو ماں اور بہن پر تر جیح دے دی جا تی ہے حا لا نکہ وہ بھی عورت ہے ۔فرما ن نبو یؐ کی روشنی میں ما ں بڑی چیز ہے مگر نفس اس کو بھی پا ما ل کر دیتا ہے اور اگر نفس کو پا ما ل کر دیا جا ئے تو پھر ہر ایک کو اس کا مر تبہ مل جا تاہے ، اس سر کش گھو ڑ ے کی سوا ری کے لئے انسا ن کو ایک رہبر یا محتسب کی ضر و ر ت ہو گی ۔

ظن

انسا ن انعا م کا حقدا ر نیت کے مطا بق ہی ہو گا اس لئے ضر و ری امر یہ ہے کہ جب بھی کسی درویش کے پا س جا ئے تو اس کےبار ے میں ظن و گما ن بھلا ئی کا رکھے ۔آ قا ئے نا مدا ر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت للعا لمین ہیں ۔ اس کے با و جو د بھی جو آپ ؐ کے پا س آیا اور جس ظن کے سا تھ آیا ‘اس نے اس کے مطا بق حا صل کیا ۔ تو خیا ل رہے کہ ظن ہمیشہ اچھا رکھے تا کہ فلا ح حا صل ہو سکے ۔

اللہ کا فضل

اس با ت کو دل میں جگہ دے دو کہ رز ق اور روزی اللہ کے فضل سے ملتی ہے ۔ خدا کی یا د سے غا فل ہو کر ‘مھنت اور مشقت سے
رو زی نہیں ملتی ۔

گر فت

خیا ل رہے کہ انسا ن ابلیس کی گر فت سے تو نکل جا تا ہے ۔ خدا کی گر فت سے ہر گز نہیں نکل سکتا ۔ اسی لئے حکم ہے کہ ذکر الہی سے دل کو روشن کر و تا کہ ابلیس کی گر فت سے بچے رہو ،

رحمت خدا و ند ی

سید امو ر الحسن علیہ الر حمتہ نے ایک دن اپنی مجلس میں مسلم شر یف کی ایک حدیث مبا رکہ رحمت خد ا وند ی کے ضمن میں سنا ئی :
” خدا کی قسم جس کے قبضے میں میر ی جا ن ہے اگر تم ایسے ہو جا ؤ کہ گنا ہ تم سے سر ز د ہی نہ ہو تو خد اتعالیٰ تمہیں زمین سے ہٹا دے گا اور پھر تمہا ر ی جگہ دوسرا گر وہ پیدا کر دے گا ۔ جس کا شیو ہ یہ ہو ا اور پھر خد اسے بخشش کا طلب گا ر ہو ۔”

تغیر اور ارتقا ء

وجو د حیو انی اپنے ما ضی میں ہمیشہ یکے بعد دیگر ے متغیر ہو تا اور تر قی کر تا رہا اور مستقبل میں بھی تغیر اور ارتقا ء جا ری رہے گا یا نہیں ؟ اس کے بار ے میں غو ر طلب امر یہ ہے کہ ما ضی میں بے شما ر صو ر تیں مٹیں اور نئی زند گیاں ظہو ر میں آ ئیں تو پھر اس با ت پر بھی حیر ا نی یا تعجب کا اظہا ر کس طر ح کر سکتے ہیں کہ مو جو د ہ زند گا نی نہیں مٹے گی ۔ درا صل اس کے بعد بھی ایک اعلیٰ تر صو رت اور زند گا نی کا و جو دمو جو د ہے ۔

نظا م ربو بیت

کا ئنا ت ہستی کی پر و ر ش نظا م ربو بیت ہے ۔ درا صل اس کا ئنا ت کو اگر بنظر غا ئر دیکھا جا ئے تو اس میں صر ف پر ور ش ہی نہیں بلکہ پر و ر ش سے زیا دہ بنا نے ‘سنوا رنے اور فا ئد ہ پہنچا نے کی حقیقت کا ر فر ما ہے ۔اس کی فطر ت میں بنا ؤ ہے ۔ اس کے بنا ؤ میں حسن و خو بی مضمر ہے ۔ اس کے مز ا ج میں اعتد ال ہے ۔ اس کے افعال میں خوا ص ہیں ۔ اس کی صو ر ت میں حسن ہے ۔ اس کی صدا ؤ ں میں نغمہ ہے ۔ اس کی بو میں عطر بیز ی ہے ۔ اور اس کی کو ئی با ت ایسی نہیں جو اس کے کار خا نے کی تعمیر و در ستگی اور آئینہ بند ی کے لئے مفید نہ ہو ۔ لہذ ا یہ حقیقت جو اپنے بنا ؤ اور فیضا ن میں ربو بیت سے بھی زیا دہ وسیع اور عام ہے وہ ر حمت ہے اور خا لق کا ئنا ت کی رحمت اور تر حم کا ظہو ر ہے ۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔

پیرو ی اور مر ید ی

ایک مجلس میں آپ نے ارشا د فر ما یا : شر یعت کی نو را نی مشعل کو ہا تھ میں لئے بغیر کو ئی بھی عا ر ف نہیں بنے گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب مکر م و معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نصیب فرما ئے ۔ (آ مین )عا ر ف کو چا ہیے کہ شر یعت محمد یہ ؐ کو اپنا جسم اور طریقت ( جو محا فظ شر یعت ہے ) کواپنی رو ح قرار دے کر دونوں نعمتو ں سے سر فرا ز ہو (آمین )
پیر ی اور مر ید ی با طنی نو ر حا صل کرنے کا ایک ذر یعہ ہے ۔ پیر ی اور مر ید ی وہی نا فع ‘کا مل اور اکمل ہے جس سے اللہ او ر اس کے رسول کی عظمت اور محبت دل میں مو جز ن ہو ۔ اطا عت اور عبا د ت میں حلا وت اور دل بستگی ہو ۔
کسی ولی کے ہا تھ پر بیعت ہو نے سے ہدا یت کی جو بھی خو بی ظا ہر ہو تی ہے۔ وہ آ نحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی بر کت ہے کیو نکہ ایما ن جو اس خیر و بر کت کا سبب ہوا وہ ولی تک بواسطہ حضو ر بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیکے پہنچا ہے ۔

مر ید اور پیر کا تعلق

شیخ اپنے مر ید کی ذات میں متمکن ہو تا ہے اور اس کے سا تھ سا تھ رہتا ہے ۔ مگر یہ خو بی مر ید کی ہے کہ جب شیخ کے سا تھ محبت کا ملہ ہو تی ہے تو وہ شیخ کو اپنے اند ر جذب کر لیتا ہے اور مر ید کی ذا ت شیخ کا مسکن بن جا تی ہے ۔ یہ وا ضح رہے کہ مر ید کی تین حا لتیں ہو تی ہیں :
کبھی تو شیخ کے سا تھ اس کی محبت کا مل و خالص اور دا ئمی ہو تی ہے ۔ اس صو ر ت میں شیخ کے تصر فات مر ید کے اند ر متواتر ظہو ر پا تے ہیں اور بڑ ھتے ہیں حتیٰ کہ نسبت سلسلہ حاصل ہو جا تی ہے ۔بسا اوقا ت ایسا ہو تا ہے کہ شر و ع میں سچی اور کا مل محبت ہو تی ہے مگر کچھ عرصہ بعد کسی حا دثہ یا واقعہ کے پیش آ نے سے منقطع ہو جا تی ہے اور شیخ کے متعلق نیت بد ل جا تی ہے ۔ اس صو ر ت میں شیخ کے اسرا ر اور انوا ر بھی بند ہو جا تے ہیں اور جو شعا عیں پھیل رہی ہو تی ہیں ‘ وہ نورا نی کر نیں رک جا تی ہیں اور کبھی ۔ ایسا ہو تا ہے کہ محبت چلتے چلتے ٹھٹھک جا تی ہے ۔ اور اس کی رفتا ر رک جا تی ہے مگر پھر کبھی جلد ی یا چند دنوں بعد یا پھر کبھی طو یل مد ت کے بعد آ گے بڑ ھنے لگتی ہے ایسی صو ر ت حا ل میں شیخ کے اسرا ر بھی رک جا تے ہیں اور جب محبت عو د کر آ تی ہے تو اسرا ر بھی عود کر آ تے ہیں ۔اب مرید کو اپنی حا لت کا خو د امتحا ن کر لینا چاہیے کہ وہ ان تینوں قسموں میں سے کس قسم کے اند ر دا خل ہے اور اللہ تعالیٰ سے تو فیق اورہدا یت کی در خواست کر نی چا ہیے ۔نیز یا د رہے کہ اگر مر ید کو اپنے شیخ کے سا تھ محبت اس کی ولا یت یا علم یا کر م وغیر ہ کی و جہ سے سے تب بھی محبت کچھ فا ئد ہ نہ دے گی ۔ سو د مند اور نفع بخش محبت صر ف وہی ہے جو غر ض کے لوث سے مبرا ہے اور خلو ص سے ذات شیخ کی طر ف متو جہ ہے ۔ کبھی غو ر کیا محبت بچو ں میں بھی ایک دوسر ے کے سا تھ ہو تی ہے کہ اس میں ابھا ر نے والی کو ئی غر ض نہیں ہو تی نہ سبب ۔ محض الفت اور ذاتی کشش ہو تی ہے ۔ پس اگر مرید کو شیخ کے سا تھ اس قسم کی محبت ہے تو وہ جاذب اسرا ر و انو ا ر ہے اگر اس میں غر ض کا دخل ہے تو وہ ضر و ر شیطا ن کا دخل ہو گا ۔ اس حا لت میں طر ح طر ح کے وسو ے پیش آ ئیں گے ۔مرید کے لئے لا زم ہے کہ وہ ذا ت شیخ سے محبت استوار رکھے کہ نفع لینے کا یہی طر یقہ ہے ۔

اسما ئے الیہ

آپ علیہ الر حمتہ نے ایک با ر اپنی مجلس میں اسما ئے الہیہ کے با ر ے میں ارشا د فر ما یا : اسما ئے الہیہ کی تعداد ہز اروں میں ہے ۔ہر ولی اپنی منا ز ل کے مطا بق ان کے انوا ر کا مشا ہد ہ کر تا ہے مگر عام طو ر پر ننا نو ے مشہو ر ہیں ۔ اس سے معلو م ہوا کہ ننا و ے حصر نہیں ۔ درا صل اس غیر متنا ہی ذات کی غیر متنا ہی صفا ت ہیں ۔ جس ولی کو جتنی تر قی ہو تی ہے ۔ اسی قد ر زا ئد اسما ئے الہیہ کے با ر ے میں اس کامشا ہد ہ بڑ ھتا ہے ۔

در جا ت اولیا ء

آپ علیہ الر حمتہ کی ایک مجلس میں ولی کے ایک وقت میں کئی جگہوں پر اپنی ذات کے سا تھ مو جو د ہو نے کے با رے میں گفتگو ہو رہی تھی ۔آپ نے اس ضمن میں ار شا د فر ما یا : چھوٹے در جے کا ولی تفکر اور ہمت سے کا م لیتا ہے اور اپنے گھر سے غا ئب نہیں ہو تا کیو نکہ بڑ ے در جے کا ولی جس شکل و صو ر ت کو چا ہتا ہے اختیا ر کر سکتا ہے اور کما ل رو ح کی و جہ سے اگر چا ہے تو تین سو سا ٹھ (360)ذوا ت میں متکو ن بن سکتا ہے ۔

 

کو ن سی چیز بہتر ہے

دنیا میں جنت میں بھی دا خل ہو نے سے کو نسی چیز بہتر ہے اور کو نسی چیز جہنم میں دا خل ہو نے سے بھی بد تر ہے ‘ان معا ملا ت کے با رے میں آپ علیہ الر حمتہ نے اپنی ایک مجلس میں ارشا د فرما یا : وہ چیز جو جنت میں جا نے سے بدر جہا بہتر اور افضل ہے ۔ وہ ہے سید کا ئنات حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روا یت مبا رکہ کہ بحا لت بیدا ری کہ ولی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صو ر ت و سرا پا مبار کہ میں دیکھے جس میں صحا بہ کبارؓ کے دیکھا ۔ پس یہ جنت کے دا خلہ سے بھی بد ر جہا افضل ہے کیو نکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیا ر ت مبا رکہ تما جنتو ں کی نعمتوں کی عمو می لذ ت سے بد رجہا بہتر ہے ۔ جو چیز دو ز خ میں بھی جا نے سے زیا دہ بر ی اور بد تر ہے ‘وہ ہے فتح نصیب ہو نے کے بعد اس کا سلب ہو جا نا ۔

عبا د ت کی حقیقت

آپ کے ایک با ر ارشا د فر ما یا : عبا د ت الہی کی حقیقت اسما الہی کے حقو ق ادا کر نا ہے ۔ مثلا معبو د :اس کا حق ہے کہ اس کی عبا د ت کی جا ئے ۔ ر حمن : اس کا حق ہے کہ اس کی رحمت حا صل کی جا ئے ۔ اسما ئے الہیہ چو نکہ لا متنا ہی ہیں تو اس کے حقو ق بھی لا متنا ہی ہیں اور لا متنا ہی کے اوپر قدر ت محا ل ہے تو ثابت ہوا کہ حق تعالیٰ کی عبا د ت کر نے پر کو ئی قا در نہیں اس لئے بند ہ وہی بہتر ہے جو اپنی کو تا ہی کا عذ ر در با ر خد اوند ی میں لا ئے ور نہ کو ئی شخص ایسا نہیں کہ اس کی عبا د ت عظمت خد ا وند ی کے لا ئق ہو ۔
بقو ل سعد ی علیہ الر حمتہ من نگو یم کہ طا عتم بہ پذیر قلم عضو بر گنا ہم کش تر جمہ: میں نہیں چا ہتا کہ میر ی اطا عت قبو ل کریں کیونکہ میر ے پا س اطاعت ہے ہی کہاں ۔ صر ف التجا ہے کہ بخشش کا قلم میر ے گنا ہوں پر پھیر دیجئے ۔

دُعا کی اہمیت

انسا ن کا مقد ر روز اول لکھا جا چکا ہے ۔ اس لحا ظ سے دعا کر نا یا نہ کر نا دو نوں برا بر ہیں تو پھر دعا ہر گز نہ کر نی چاہیے ۔ اس مسئلہ کے جوا ب میں سید امور الحسن علیہ الر حمتہ نے ارشا د فر ما یا : بعض کا م ایسے بھی مقد ر کی لو ح (تختی ) پر در ج ہو تے ہیں ۔ جن کا حل دعا ہی میں لکھا ہو تا ہے ۔ اس لئے دعا سے اجتنا ب اور احتر ا ز حما قت سے خا لی نہیں بلکہ اس کا التز ا م خیر و بر کت سے خا لی نہیں ۔مو من کو ایما ن لا نے کا حکم دیا گیا ہے اور جتنے امو ر شر عیہ ہیں ‘ان کی پا بند ی ضر و ر ی ہے خوا ہ ان احکا م کو عقل تسلیم کر ے یا نہ کر ے اس
سے کو ئی سر و کا ر نہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ جب کو ئی ایما ن لے آ ئے تو ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کی عقل میں کو ئی با ت نہ آ ئے ۔ ایما نی قو ت میں ایسی تاثیر ہے کہ اس کے حا مل کو تما م امو ر روز روشن کی طر ح وا ضح ہو جا تے ہیں اور وہ بلا چوں و چرا ں اس پر عمل کر تا ہے ۔اللہ تعالی کی طر ف سے ارشا د ہے کہ ہر چیز میر ی پیدا کر دہ ہے تو ہم پر وا جب ہے کہ ہم اس کو تسلیم کریں ۔اگر ارشا د ہو کہ تمہا ر ے اعما ل تمہا رے قبضہ اور اختیا ر میں ہیں تو اس کے جو اب میں بھی یہی کہیں کہہم اسے بھی ما نتے ہیں ۔ اگر ارشا د ہو کہ تما م نیک کا م میر ی طر ف سے ہو تے ہیں اور تما م بر ے کا م تمہا ر ی طر ف سے تو پھر جوا ب یہی ہوکہ تما م نیک کا م تیر ے ہا تھ میں ہیں اور تما م بر ے کا م میر ی طر ف سے (یعنی اے اللہ ! بھلا ئی کا صد و ر تیری جانب سے ہے اور بر ائی تیر ی طر ف سے نہیں ہے ) اس کا نا م بند گی اور ایما ن ہے’اور تما م مقبو ل اور بز ر گ لوگو ں کا یہی طریق رہا ہے کہ جو دلبر کہے اسے قبو ل کر ے ۔
اپنی عقل کو حکم اور ممانعت (اوا مرنو اہی ) کے تا بع کر کے خا مو شی اختیا ر کی جا تی ہے اور پھر دُعا کر کے اس سے قبو لیت کی امید رکھی جا تی ہے ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی حد ہے وہ کلا م پا ک میں فرما تا ہے کہ مجھ سے ما نگو میں دو ں گا ‘تمہا را کا م ہے مجھ سے ما نگتے رہنا میرا کا م ہے نوا ز تے رہنا ۔بند ہ کا کا م ہے دعا کر نا اور ما نگتے رہنا کیو نکہ وہ چا ر صفتوں سے مو صو ف ہے : (1)فقر (2 )ضعف
(3)عجز (4) خو ا ری
اور اللہ تعالیٰ میں چا ر صفا ت ہیں “جن میں سے وہ مو صو ف ہے :۔
1۔ غنا 2۔ قو ت 3۔ قد ر ت اور 4۔ عز ت اور بند ے کے اندر جو صفا ت ہیں ‘وہ اوصا ف الیہہ کی صفتو ں کا پر تو اور عکس ہیں ۔ اور جب بند ہ اس کی صفا ت میں کا مل و اکمل ہو جا تاہے تو خد ا وند کر یم کے انوا ر اور صفا ت کا اثر اس کے اندر پیدا ہوتا ہے یعنی اس کی تا ریکی روشنی سے بد ل جاتی ہے ۔ بند ے کے لئے لا ز م ہے کہ وہ دعا کر تا ہرے اور رب العا لمین سے عافیت کا طلبگا ر رہے کیو نکہ اس میں ظا ہر و با طن کی سب نعمتیں شا مل ہیں ۔

عا ر ف

عا رف اسے کہتے ہیں جو امرا ض نفس سے واقف ہو اور ان کا علا ج در ست طو ر پر کر سکتا ہو ۔ آ پ علیہ الر حمتہ نے اس سلسلہ میں مزید فر ما یا :انسا ن کو اتنی بے فکر ی بھی در ست نہیں کہ اپنے نفسا نی امرا ض کا علا ج بھی نہکر ے اور اتنی فکر بھی بر ی ہے کہ با و جو د شیخ کے سپر د کر نے کے ہر وقت متفکر رہے ۔ شیخ کے سپر د ہو نے کے بعد بے فکر ہو جا ئے اور اس کی اتبا ع کی فکر کر ے ۔

حفا ظت اسلا م

آپ علیہ الر حمتہ کا ارشا د گرا می ہے کہ اہل اللہ سے بیعت کا عمل حفا ظت اسلا م (سلا متی ایما ن ) کے لئے بڑا سنگین پہر ہ دار ہے ۔ تقویٰ حا ل سے پیدا ہو تا ہے اور حا ل کسی کی جوتیاں سید ھی کر نے سے ‘کیو نکہ نفس اس کے بغیر سید ھا نہیں ہوتا ۔

توا ضع و تو جہ

ایک با ر ارشا د فر ما یا : میاں ہم اس نیت سے بیعت کر لیتے ہیں کہ اگر مرید زور دار ہوا تو ہم کو لے جا ئے گا اور اگر ہم ذمہ دار
ہو ئے تو اس کو لئے جا ئیں گے ۔نہد شا خ پر میو ہ سر بر زمین

تو بہ

جو مشا ئخ اہل ادرا ک ہیں وہ را ت دن دیکھتے رہتے ہیں کہ مر ید ین کو ان سے کیا کیا فیض ہو ئے لیکن اس کا اظہا ر ان سے نہیں کر تے اس لئے کہ ان کا دما غ بگڑ نہ جا ئے اور کبر ‘عجب ‘اور نخو ت و تکبر میں مبتلا نہ ہو جا ئیں اس لئے شیخ کی اتبا ع کر نا علا ج اعظم ہے ۔

تلقین ذکر

سید امو ر الحسن علیہ الر حمتہ نے ار شا د فرما یا : ذکر کی تلقین ہم اس لئے کر تے ہیں کہ یہ وصول الی اللہ کے لئے ہے ۔اگر ایک مر تبہ بھی لفظ “اللہ “خلو ص کے سا تھ منہ سے نکل جائے تو یہ کافی ہے، وصول الی اﷲ کے لئے۔ ذکر ہمت سے زیادہ نہیں کرنا چاہیے لیکن جتنا بھی ہو سکے،کافی ہے، اور اسے بیکار نہ سمجھو۔قاعدہ سے بے قاعدہ سے،ناغہ سے بلا ناغہ سے کرتے رہو ایک دن عنایت ہو ہی جائے گی۔

ناراضگی

آپ علیہ الرحمتہ نے ایک بار اپنی ایک مجلس میں ارشادفرمایا: شیخ جو اپنے خدام سے کبھی کبھی باراض ہو جاتے ہیں حتٰی کہ کبھی دور بھی کر دیتے ہیں تو وہ صرف زبان سے ناراض ہوتے ہیں، دل سے نہیں بلکہ دل سے کشش رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نکالنے سے وہ جاتا نہیں بلکہ معزرتکرتا ہے اور معافی کا خواستگار ہوتا ہے۔یہ شیخ ہی کے جذبکا اثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مضبت اول شیخ ہی کو ہوتی ہے۔

غذائے جسمانی و روحانی

جس طرح ذکراﷲ کی کثرت سے غذائے جسمانی میں کمی آ جاتی ہے۔ اسی طرح غذائے جسمانی سے غذائے روحانی یعنی ذکر اﷲ میں کمی آجاتی ہے۔

دعا میں انکساری

دعا میں صرف معنی مقصود ہے اور عبادات میں گومعنی ہی اصل مقصود ہے مگر تا ہم ایک درجہ میں صورت بھی مقصود ہے اور وہ ہے بیاز، انکسار، خشوع قلب ہور جب یہ بھی نہ ہو تو وہ دعا کیا ہوئی۔
جتنی بھی عبادات ہیں اگر وہ تمام دنیا کے لئے ہوں تو عبادات نہیں راتیں مگر دعا ایک ایسی چیز ہے کہ دنیا کے لئے بھی ہو تب بھی عبادت ہے اور اس کا ثواب ملتا ہے یہاں تک کہ مور اختایر یہ میں بھی اس کی سخت ضرورت ہوتی ہے ہر چند کہ ان کا وجود اور ترتیب بظاہر تدبیر اور اسباب پر مبنی ہے اگر اس پر گور کیا جائے تو ان اسبب کا جمع ہوتا حقیقت میں غیر اختیاری ہے مثلاً کھیتی میں ہل چلانا اور بیج بونا اختیاری ہے مگرپالا (سردی وغیرہ) زیادہ پڑجانا یا کسی اور آفت کا آنا غیر اختیاری اور اس کا علاج دعا کے سوا اور کوئی نہیں۔

فہم اور تقویٰ

نور فہم سے اور تقویٰ حال سے پیدا ہوتا ہے اور وہ بھی کسی کی جوتیاں سیدھی کرنے سے کیونکہ یہ نفساس کے بغیر سیدھا نہیں ہوتا۔

اصلاح

بزرگوں کی صحبت سے اگر اصلاح کا مل بھی نہ ہو تو کم از کم اپنے عیوب پر نظر ہونے لگتی ہے اور یہ بھی کافی ہے اور مفتوح ہے طریق کی۔ جس شخص کو اپنے عیب بھی نظر نہ آئیں تو پھر اس سے بڑھ کر کون محروم ہو سکتا ہے۔

فیضان نبوت

اگر حق تعالیٰ کے اتھ قلب میں صحیح رابطہ نصیب ہو جائے تو بغیر کتاب ہور استاد کے علوم نبوت کا فیضان قلب میں موجزن دیکھو گے۔
وہ گھڑاجس کو سمندر سے رابطہ ہو جائے اس کے سامنے دریا بھی زانوئے ادب طے کرتے ہیں کیونکہ دریا تو خشک ہو سکتا ہے مگر وہ مٹکا جس کا رابطہ سمندر سے قائم ہے باوجود اپنی افادیت کے کبھی خشک نہ ہوگا۔
کسی نے اپنے بے پایاں کرم سےمجھے خود کر دیا روح الماعانی جو ہو سکتا نہیں وہم و گماں میںاسے کیا پا سکیں لفظ و معانی

صراط مستقیم

آپ نے ایک مرتبہ اپنی محفل میں ارشاد فرمایا: اگر کوئی صراط مستقیم پر ہے تو اس کے لئے تمام ظلمتیں انور ہی ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آنکھیں منطع انوار ہیں مگر خود سیاہ ہیں۔ صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ لطیدہ خفی کا لون بھی سیاہ ہے اور تجلی ڈاتی سیاہ رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔پس اگر اعمال اختیار یہ میں خلل نہیں تو قلب میں کیسی ہی ظلمت ہو وہ سب خیرونور ہی ہیں، چاہے وسواس کیسے ہی کیوں نہ ہوں ، ان سے گھبرانا نہیں چاہئے البتہ استغفار کا ورد اس سے چھٹکارا دے سکتا ہے۔
کتانوں سے دین نہیں ملتا، ضابطہ دین تو کتاط سے آ سکتا ہے مگر حقیقی دین ببنا کسی کی جوتیاں سیدھی کئے بلکہ جوتیاں کھائے بغیر نہیں آتا کیونکہ دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا

اہل اﷲ کا تصرفاور فیض

بزرگوں کا فیض بعد وفات بھی ہوتا ہے۔یہ برکت بڑی وسیع چیز ہے۔ تجربہکر کے دیکھ لو اور اہل ظلمت کی تصنیف و تالیف میں گو اس میں باتیں نوری ہی ہوں، ظلمت ہوتی ہے اور ایہل اﷲ کی تحریر سے نور پیدا ہوتا ہے گو مضامین معمولی ہوں اور ذوق صحیح سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ اہل اﷲ کی تحریر سے نو ر پیدا ہوتا ہے گو محامین معمولی ہوں اور زوق صحیح سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ اہل اﷲ کے الفاظ میں ایک خاص اثر ہوتا ہے۔

کیمیا گری

تانبہ کی مانند کیمیا گر کی خدمت کرتا رہ، وہ اپنے فیضان محبت سے تجھے سونا بنا دے گا۔ ہاں اسی طرح سے صحبت شیخ پتھر کو متی بنا دیتی ہے۔
میری طلب بھی کسی کے فرم کا صدقہ ہےقدم یہ اٹھتے نہیں ہیں، اٹھائے جاتے ہیں

راہ عشق

راہ عشق کی منازل میں بے ہوشی مفید اور ہوش مضرت رساں ہے۔ اس لحاظ سے محبوب سے باہوش اور باخبر لیکن غیروں سے بے ہوش اور بے خبر ہوتا ہی تکمیل عشق ہے۔

مسئلہ وحدت الوجود

مسئلہ وحدت الوجود حقیقت میں حالی ہے قالی نہیں۔وہ حال یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی ذات پیش نظر ہوتی ہے تو اس وقت دوسروں کا اور خود اپنا وجود کالعدم نظر آتا ہے جیسے کسی خیا میں منہمک شخس کو دوسری چیزوں کی مطلق خبر نہیں ہوتی یہاں تک کہ اگر اس کے قریب آ کر بھی اگر کوئی اس کو آواز سے تو وہ مطلق بے خبر ہوگا۔
اسی طرح صاحب حال جب کی چیز کو دیکھتا ہے تو اس کی نظر پہلے ذات کی طرف پڑتی ہے اور پھر صفات پر یعنی وہ صفات میں بھی ذات ہی کا مشاہدہ کرتا ہے۔یہ ہے، مسئلہ وحدت الوجود۔

خشوع

خشوع کے معنی ہیں کہ اپنے اختیار سے دوسرا خیا ل عبادت میں نہ لانا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے کا خیال دل میں نہ آئے دراصل خیال کا آنا تو اختیراری نہیں اور خیال کا لانا اختیاری ہے۔ پس نماز میں ازخود خیال نہ لانا چاہئے۔ اگر خیالات خود آئیں تو التفات نہ کریں، انشاء اﷲاز خود کم ہو جائیں گے۔

ذکر کے درجات

ذکر کے تین درجات ہیں ایک تو وہ جس میں صرف زبان کو حرکت دی جاتی ہے مگر دل متوجہ نہیں ہوتا۔ یہ درجہ سب سے کم ہے۔
دوسرا درجہ زبان کو حرکت نہ دی جائے صرف قلب سے ذکر کیا جائے، یہ پہلے درجہ سے افضل ہے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ زبان کو بھی حرکت دی جائے اور قلب بھی متوجہ ہر۔ یہ سب سے بڑھ کر افضل ہے کیونکہ اس وقت ذکر لسانی نہیں ہوسکتا۔
ذکر قلبی ذکر لسانی سے پیدا ہوتا ہے اس لئے زبان کو ہر وقت ذکر رکھنا چاہیے گو کسی وقت ذکر قلبی سے خالی ہو۔ یہ بھی اگر خلوص سے ہو تو اس میں اثر و تاثیر زیادہ ہوتی ہے۔

اعتدال فکر

اتنی فکر بھی درست نہیں کہ نفسیاتی مریض بن جائے اور اس کا علاج بھی نہ کرے اور اتنی فکر بھی بری ہے کہ باوجود خود کو شیخ کے سپرد کرنے کے ہر وقت متفکر رہے۔ شیخ کے سپرد ہو جانے کے بعد بے فکر ہو جائے اور اس کی اتباع کی فکر کرے۔

تصوف

تصوف سب کا سب ادب ہی سے تو عبادت ہے، ہر وقت ، ہر مقام، اور ہر حال کے لئے ادب ہے۔جو مرید آداب بجا لانے کو اپنے اوپر لازم کرے وہ مردان حق کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے اور جو آداب کو ضائع کر دے وہ اس لحاظ سے کہ اپنے آپ کو قریب سمجھتا ہے، بعید ہوتا ہے اور اس حیثیت سے مردود ہوتا ہے اور خود کو مقبول خیال کرتا ہے۔

تقدیر

تقدیر کا یہ مفہوم نہیں کہ ہم خیر و شر میں مجبور ہیں۔ تقدیر الہٰی کا مفلوم صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم اپنے اختیار اور ارادہ سے جو خیروشر کرنے والے تھے، حق تعالیٰ نے اپنے علم ازلی اندی سے اس کو محفوظ فرمایا ہے۔پس اس علم الہٰی کا نام تقدیر ہے۔اس سے یہ کیاں لازم آتا ہے کہ اس نے ہمیں مجبور کر دیا۔
اﷲ تعالیٰ ظلم سے پاک ہے، اسے اگر بندوں کی ہدایت عزیز نہ ہوتی تو سیدالانبیاء صلی اﷲ علیہ و سلم کا وہ خون مبارک جس کا ہر قطرہ بھی امام ہے تمام انسانیت کے قطرات لہو کا، بازار طائف میں ہعایت کے لئے نہ بہتا۔ حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: وہ ایسا رحیم ہے کہ وہ خوف بھی اور اس کے فرشتے بھی تم پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں تا کہ اﷲ تعالیٰ تم کو تاریکیوں سے نور
کی طرف لے آئے اور اﷲ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے۔ (سورہ احزاب رکوع 6 آیت 43)
فرقہ جطریہ کی رائے ہے کہ امرو نہی سب بے کار ہیں کیونکہ ہمارے اندر اختیار ہی نہیں ہم تو مجبور محض ہیں۔ فرض کرو کہ انسان کے سب افعال غیر اختیاری ہیں تو پھر یہ کیوں کہتے ہیں کہ یہ کام تو نے ایسا کیوں کیا، اس طرح دنیا میں داروگیر کا دجود ہی نہ ہوتا اور آپس میں یہ کیوں کہتے ہیں کہ یہ کام کراو اور یہ نہ کرو۔

کفر

کفر کی دو حیثیتیں ہیں۔ایک یہ کہ حق تعالیٰ اس کا خالق ہے اور دوسری حیثیت یہ کہ اس کفر کا اختیار کرنے والا۔ پس پہلی صورت میں حکمت ہے اور دوسری صورت میں آفت ، یعنی ہر شر اور عیب اپنی پیدائش کے لحاظ سے حکمت ہے اور حق تعالیٰ کے کسی فعل کا حکمت سے خالی ہونامحال ہے لیکن اس شر اور عیب کو جب مخلوق اختیار کرتی ہے تو یہی شر اور عیب ضرر رساں بن جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خلق اور کسب کا فرق ضروری ہے۔ مرتبہ خلق میں ہر شر حکمت ہے اور مرتبہ کسب میں آفت۔

حمد باری تعالیٰ

اﷲ تعالیٰ کی حمدو ثنا کا حق ادا کرنے کا آخری درجہ یہی ہے کہ اس سے قاصر اور ناقابل ہونے کا اعتراف کر لیا جائے تاہم اس کی عجیب و بو قلموں صنائع اور صفات سے آگاہی کے لئے غور و فکر کرنا ضروری ہے۔
اس کائنات میں اس کی عظمت کے آثارو انوار نمایاں ہیں اور یہ تمام عجیب و غریب کارخانہ قدرت اس کی حکمت کے باعث ہے اور اس کے جمال کا پر تو ہر دور میں کارفرما ہے۔
سب تعریفیں اﷲ تعالیٰ کی ذات پاک ہی کے لئے ہیں جس نے اپنے دوسٹوں کے لئے عالم مکلوت اور اپنے برگزیدہ بندوں کے لئے عالم جبروت کے بھید ظاہر فرمائے اور اپنے عاشقوں کا خون اپنے جلال کی تلوار سے بہایا اور اپنے عارفوں کے دل کو اپنے وصال کی خوشی کا مزہ چکھایا۔ وہی اپنی کطریائی کے انوار سے دولوں کی مردہ زمین کو زیندہ کرنے والا ہے۔ اے اﷲ علی وسلم، ازواج مطہرات اور اہل بیت کے صدقے ہمیں اپنی خصوصی رحمت و کرم سے بواز دے۔ (آمین)

سید الکائنات صلی اﷲ علی وسلم

جس طرح دین اسلام اپنی اندی تعلیمات اور ان کی جامیعت کی وجہ سے دیگرمذاہب عالم میں ممتاز و منفرد ہے اسی طرح سے سید الکائنات، رحمت عالم ، پیکر خلق عظیم، باعث تخلیق کائنات، سید الانبیاء، حضرت محمد مصطفی صلی اﷲعلیہ و سلم کو ان کی تعلیمات کے نمونہ عمل ہونے کے لحاظ سے دیگر انبیاء و رسل میں ممتاز اور اعلیٰ و ارفع مقام حاصل ہے۔
نبی کریم صلی اﷲ علی و سلم کی حیا ت مبارکہ کے بارے میں اتنا کچھ ہر زمانے ، ہر ملک اور ہر زبان میں لکھا جا چکا ہے کہ یقین اور وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اتنا کسی اور شخصیت کے بارے میں آج تک نہیں لکھا گیا ہے۔یہ بھی آپ صلی اﷲ علی وسلم کا اعجاز ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے ایک ایک گوشے کو مورخین اور ارباب سیر نے دنیائے اسلام کے سامنے پیش کیا۔ جوں جوں زمانہ نے ترقی کی اسی رفتار سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات سراپا کمالات کی اہمیت بڑھتی رہی۔
کیا دل سے بیاں ہو تیرے اخلاق کی توصیفعالم ہوا مداح ترے لطف و کرم کابلغ العلیٰ بکمالہ کشف الدجیٰ بجمالہحسنت جمیع خسالہ صلو علیہ وآلہ

درود شریف

درود نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے ہے جنہیں اﷲ تعالیٰ نے سب سے برگزیدہ ہستی اور اپبا محبوب قرار دیا ہے۔ درود پاک واحد عباد ہے جو اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں فوراً قبول ہو جاتی ہے اور اس کا اجر بھی فوراً ملتا ہے۔ درود شریف پڑھنے والے سے اﷲ تعالیٰ راضی ہو جاتا ہے۔اور جب اﷲ تعالیٰ راضہ ہو جاتا ہے تو اسے دین و دنیا کی نعمتوں سے سرفراز کر دیتا ہے۔ اس لحاظ سے درود پاک سے سعادت دارین حاصل ہوتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا ارچاد پاک ہے: بے شک اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اپنے نبی مکرم پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو تم بھی آپ ؐ پر درود بھیجا کرو اور اچھی طرح سلام بھیجو۔ (پارہ 22 الاحزاب56)احادیث مبارکہ میں بھی درود پاک کی بے پناہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت انس رضہ اﷲ تعالیٰ عنہ سے رعایت ہے کہ جس نے مجھ پرایک بار درودپڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے دس گنا ہ معا ف کر دیتا ہے اور اس کے در جا ت بلند کر دیتا ہے ۔ اسی طر ح سے حضرت ابن مسعو د رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د پا ک ہے کہ قیا مت کے روز وہ شخص میر ے سب سے قر یب ہو گا جس نے مجھ پر اکثر درود پا ک پڑھا ہو گا ۔ ترمذی شر یف کی حد یث مبا ر کہ ہے کہ حضرت ابی ابن کعب رضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرما یا کہ میں در با ر رسالتما ب صلی اللہ علیہ وسلم میں حا ضر تھا اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عر ض ی یا رسول اللہ ؐ میں آپ پر کثر ت سے درود پڑھنا چاہتا ہوں تو میں کتنا درودھ پڑھوں آپ نے فر ما یا جتنا چا ہے پڑھ لیا کر و میں نے عر ض کیا اپنی فر صت کا چو تھا حصہ پڑھ لیا کر و ں تو فرما یا جتنا چا ہے پڑھ لیا کر اس سے بھی زیا دہ پڑھے تو تیر ے لئے بہتر ہے میں نے عر ض کی کہ اگر زیا دہ میں بہتر ی ہے تو میں وظا ئف کا نصف وقت درود پاک میں لگا دیا کرو ں فرما یا تیر ی مر ضی اور اگر تو اس سے بھی زیا دہ کر ے تو تیر ے لئے بہتر ہے ع ض کی سر کا ر و ظا ئف کے وقت میں دو تہا ئی میں درود پڑھ لیا کر وں فرما یا تیر ی مر ضی اور اگر تو اس میں زیا دہ پڑھے تو تیرے لئے بہتر ہے تو عر ض کی کہ حضور میں پھر سا ر ے وقت میں درود پا ک ہی پڑ ھ لیا کر وں گا تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د پا ک فرما یا کہ اگر تو ایسا کر ے تو تیر ے سا رے کا م سنو ر جا ئیں گے اور تمہا ر ے سب گنا ہ معا ف کر د ئیے جا ئیں گے۔
ہز ا ر با ر بشویم دہن زمشک و گلا ب ہنو ز نا م تو گفنن کما ل بے لو بیت

آ دا ب درو د شر یف

درو د و سلا م پڑ ھتے ہو ئے آ داب کو ملحو ظ خا طر رکھنا اشد ضر و ری ہے ۔ محبت کا تقا ضا یہی ہے کہ ادب و احتر ام اور عقید ت سے با ر گا ہ رسا لتما ب صلی اللہ علیہ وسلم میں درود پیش کیا جا ئے ۔ درود شر یف پڑ ھتے ہو ئے ظاہر ی اور با طنی آدا ب کو ملحو ظ خاطر رکھنا ضر و ر ی ہے ۔
جب بھی درود شر یف پڑ ھیں ‘پو ر ے ذو ق و شو ق اور لگن سے پڑھنا چا ہیے ۔ دل و دما غ کو پو ر ی طر ح حا ضر رکھا جا ئے اور دل سے ہر طر ح کے خیا لا ت نکا ل کر اپنی پو ری تو جہ درو د شر یف پر رکھنی چاہیے اور یہ خیا ل رکھنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل مقد سہ میں حا ضر ی ہے اس لئے ان کی شا ن ، عظمت اور رفعت کا نقشہ اپنی آ نکھو ں کے سا منے لا نا چاہیے ۔
درو د شر یف پڑ ھتے وقت اپنے چہر ے کا ر خ اس طر ف کر نا چاہیے جس طر ف نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کا رو ضہ اقد س ہے ۔ اس کے بعد آ نکھیں بند کر کے مر اقبہ کی صو ر ت میں درود پا ک پڑھنا شر وع کر ے ۔
در و دشر یف پڑھتے ہو ئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تصو ر کر نا چاہیے جب درو د شر یف کی کثر ت ہوجا ئے گی تو پھر درو د پڑھنے والے کی رو ح کا مجلس محمد ی سلی اللہ علیہ وسلم میں آ نا جا نا ہو جا ئے گا وہ رو ح کی آ نکھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یا د میں گم ہو جا ئے گا اور جوں جوں ان کی محبت بڑھتی جا ئے گی اسی نسبت سے اس کی رو ح پر اللہ تعالیٰ کے انوار کا نز و ل ہو گا اور دن بد ن اس پر رحمت خد ا وند ی بڑ ھتی جا ئے گی ۔ حتیٰ کہ ایک دن ایسا آ جا ئے گا کہ وہ اپنے گر د نو ر کا بحر بے کر ا ں محسو س کر ے گا اور اس بحر بے کرا ں میں درود پڑھنے والے کی روح غو طہ زن ہو کر رو حا نیت سے ما لا ما ل ہو جا ئے گی ۔
درود پا ک کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی اتبا ع تصو ر کرنا چاہیے اور درو د شر یف پڑھنے کا مقصد رضا ئے الہی ہونا چاہیے ۔
درود پا ک پڑ ھنے والے کا جسم اور لبا س صا ف ہو نا چاہے ۔ درو د شر یف با و ضو پڑھے تو زیا دہ بہتر ہے ۔ مسوا ک سے منہ کو صا ف رکھنا چاہیےخوشبو لگا نا اور بھی بہت ضر و ری ہے ۔ جس مقا م پر بیٹھ کر درود شر یف پڑھا جا ئے اس کا پا ک صا ف ہو نا بھی ضر و ری ہے ۔اس لئے ناپاک یا گند ی جگہ درود شر یف نہیں پڑ ھنا چاہیے ۔ نہ ہی ایسی جگہ پر جہاں حقہ نو شی ہو تی ہو ۔ غیر شر عی گفتگو ‘لطیفے با زی ‘لہو و لعب کی مجلس ‘عیش و عشر ت کی محفل ‘نا چ گا نے یا ایسی ہی دیگر جگہ جہاں سے نفر ت آتی ہو ان مقا ما ت پر درود شریف نہیں پڑھنا چاہیے ۔
درود پڑھتے ہو ئے شہر ت یا ریا کا ری سے بچنا چاہیے ۔ دنیا و ی جا ہ و جلا ل حا صل کر نے کی نیت نہیں ہو نی چاہیے ۔ اگر کسی کی دعوت پر محفل در ودھ شر یف میں شر کت کر ے تو دعوت دینے والے یا کسی اور پر احسان نہیں جتا نا چاہیے بلکہ اس میں رضا ئے الہی کا مقصد مد نظر ہو نا چاہیے ۔
نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب نا م سننے یا لکھے تو اس وقت درود ضر و ر پڑھے یعنی صلی اللہ علیہ وسلم ضر و ر کہے یا لکھے ۔ درود پاک آ ہستگی اور بلند آ وا ز میں دونوں طر ح پڑھا جا سکتا ہے البتہ اونچی آواز میں پڑ ھتے وقت آ وا ز کو دلکش آ وا ز میں محبت و عقید ت سے نکا لنا چاہیے ۔ درودآ ہستہ پڑھنے سے دلجمعی پیدا ہو تی ہے اور رو حا نی اثرا ت مر تب ہو تے ہیں ۔
درود شر یف میں جہاں اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم آ ئے اور وہاں سید نا کا لفظ اگر نہ لکھا ہو تو سید نا کا لفظ محبت و احتر ام اور ادب و عقید ت کے لحا ظ سے پڑ ھ لینا چاہیے۔
در و د پا ک ہر مسلما ن مر د اور عو ر ت کو کثر ت سے پڑھنا چاہیے اگر اس کے پڑ ھنے کے لئے شیخ کا مل سے اجا ز ت لے لی جا ئے توزیا دہ بہتر ہے اس طر ح سے شیخ کا مل کی اجا ز ت سے اس کی دعا بھی شا مل ہو جا تی ہے اور انسا ن شیطا نی وسوسوں سے نجا ت پا لیتا ہے اور پو رے ادب و احترا م سے درود شر یف پڑھتا ہے ۔ اس سے زیا دہ روحا نی فوا ئد حا صل ہو تے ہیں ۔ جو شخص کہیں بیعت نہ ہو ۔اسے درودشر یف پڑھنے سے گریز نہیں کر نا چاہیے ۔ جلد با ز ی سے درود شر یف پڑ ھنے کی کو شش نہیں کر نی چاہیے کیو نکہ جلد با زی شیطا ن کی طر ف سے ہے ۔ درود شر یف آہستہ آہستہ اور تر تیب کے سا تھ پڑھنا چاہیے ۔
درود شر یف ایک ایسا وظیفہ ہے جو ہر وقت پڑھا جاسکتا ہے ۔ اس کے نہ پڑ ھنے کی تعد اد مقر ر ہے ۔ اور نہ وقت بلکہ جب چاہے پڑ ھے جتنا چاہے پڑ ھے ‘دن کے وقت پڑ ھے ‘را ت کے وقت پڑ ھے ‘نما ز سے پہلے پڑ ھے یا نما ز کے بعد پڑ ھے ‘دعا سے پہلے پڑ ھے یا دعا کے بعد پڑ ھے کھڑ ے ہو کر پڑ ھے یا بیٹھ کر پڑ ھے گو یا ہر گھڑی ہر آ ن ہر لمحہ ہر پل درود شر یف ادب و احترا م سے پڑ ھے ۔ دعا کے آ غا ز اور اختتا م پر درود پا ک پڑھنا قبولیت دعا کے لئے اکسیر ہے ۔ دوران حج درود پا ک کا پڑھنا بہت افضل ہے ۔ کو ہ صفا ‘کو ہ مر وہ ‘حجر اسود کو
بو سہ دیتے وقت ‘قیا م ‘منیٰ ‘عر فا ت ‘مزدلفہ’میں بھی درود پا ک کاورد با عث بر کت ہے ۔ مد ینہ شریف اور مسجد نبو ی ؐ میں داخلہ کے وقت درود شر یف پڑھنا چاہیے ۔ زیا ر ت رو ضہ اقد س رسالتما ب صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت درود شر یف پڑھنا چاہیے ۔ ریا ض الجنہ’اصحا ب صفہ کے چبو ترے پر ‘نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبار ک آ ثا ر دیکھتے وقت ‘مقا م بد ر اور مقا م احد میں بھی درود شر یف کا ورد کر نا چا ہیے ۔ ہر رو زصبح و شا م ‘جمعہ کی نما ز سے پہلے ‘جمعہ کی نما ز کے بعد ‘نما ز تہجد کے بعد پیر کے رو ز صبح کے وقت جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلا د مقد س کا دن ہے ‘درود پا ک کا ورد بے پنا ہ فضیلت کا حا مل ہے ۔ رات کو سو تے وقت ‘سو کر اٹھتے وقت ‘رمضان المبا رک ‘شب برا ت ‘ختم قرآن کے وقت ‘گھر میں دا خل ہو تے وقت ‘مجلس ذکر کے آ غا ز اور اختتا م پر درود شر یف پڑھنا چاہیے ۔ حا لت غر بت و افلا س میں ‘مصیبت اور سختی کے وقت ‘معا نقہ و مصا فحہ کے وقت ‘ہر نیک کا م کر تے وقت ‘سفر پر روانگی سے پہلے ‘سفر سے واپسی پر ‘صا ف پا نی بہتا دیکھ کر ‘خوشبو سونگھتے وقت ‘تہمت سے بری ہو نے کے لئے ‘دوستوں اور رشتہ داروں سے ملا قات ہو نے پر کا رو با ر یا تجا ر ت کا آغا ز کر تے وقت اور ہرنیک کا م کر تے وقت درود پا ک کا پڑھنا انجا م بخیر کی دلیل ہے ۔الصلو ۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وعلی آ لک واصحا بک یا حبیب اللہ ۔

شر ف انسا نیت

اللہ تعالیٰ نے انسا ن کو اپنی تما م مخلو قات میں اعلیٰ اور برتر بنایا ہے ۔ انسا ن کو زبان ‘بصا ر ت ‘سما عت ‘ذوق و وجد ا ن کی نعمتوں سے نوا ز ا ہے۔ عقل و شعو ر اور فہم و ادراک خیر کی تبلیغ و تر و یج اور شر سے رو کنے کے لئے عطا کیا گیا ہے ۔ زبا ن کا وظیفہ یا د الہی ہے۔ نگا ہ حق و با طل میں امتیا ز عطا کر تی ہے ۔ نظر حق کا حسن و جما ل دیکھنے کے لئے ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ان تما م عطا کر دہ نعمتوں کو اس کی مشیت کے تابع رہ کر استعما ل کر نے سے انسا ن اشر ف المخلو قات کہلا تا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی ان عطا کر دہ نعمتوں کو غلط استعما ل کر نے کے سبب انسا ن شر ف انسا نیت کے رتبے اور مرتبے سے نیچے گر جا تا ہے ۔رو ح کا تعلق انسا نی جسم میں اس کے ہر رو گ و ریشہ میں مو جو د ہے ۔ رو ح کا جو رابطہ قلب انسا نی سے ہے وہ دما غ سے نہیں اور جو دما غ سے ہے وہ دیگر اعضا ء سے نہیں ۔ جس طر ح اللہ تعالیٰ کی ذا ت پا ک تک کسی برا ئی کی رسا ئی نہیں ہے ۔ اسی طر ح سے انسا نی خوا ہشا ت خواہ کتنی ہی مچلتی رہیں مگر رو ح کی پا کیز گی تک کسی کدورت یا غلا ظت کا اثر نہیں پہنچتا ۔ وہ اسی طر ح لطیف و حاکم و متصر ف رہتی ہے ۔ اس کو ذکر کی خو را ک سے مزین رکھنا چاہیے اور اس کی نسبت کسی پا ک رو ح سے کر دینی چاہیے ۔

نا ئب حق

اس کا ئنات کا سا ر ا نظا م اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت چل رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس اپنی مصلحتو ں کو بہتر سمجھتی ہے۔ کسی شخص کواس کے نظام ربو بیت میں اسے اپنی مر ضی سے ڈھا لنے کی قد رت میسر نہیں ہے ۔ آفتا ب کے طلو ع و غر و ب میں کو ئی رد و بد ل ممکن نہیں ۔ در یا ؤں کی روا نی و طغیا نی میں کسی کو اختیا ر حا صل نہیں ۔ کا ئنا ت کی ہر چیز اس خالق و ما لک کی مر ضی کے تحت جو خدمت جس کے ذمہ ہے ‘پو ری کر رہی ہے ۔
آ قا و مو لا کے فیصلو ں میں غلا م ترمیم کر اسکتا ہے بشر طیکہ و ہ خوا جہ کے مز ا ج میں ڈھل چکا ہو ۔ اس کی نگا ہیں محبو بیت کا در جہ حا صل کر چکی ہوں ۔ ہر غلا م ایا ز نہیں بن سکتا اور نہ ہر محمو د ہر زلف میں اسیر ہو سکتا ہے ۔ آ گ اس وقت گل و گلز ار بنتی ہے جب خلیل کا منصب حا صل ہو جا ئے اور چھر ی گلے پر اس وقت رکتی ہے جب اسما ئیل کی اطا عت میسر آ جا ئے ۔
تسلیم و رضا کا پیکر بننے کے بعد ہی بند ے کو یہ منصب عطا ہو تا ہے کہ اس سے پو چھا جا ئے کہ بند ے تیر ی رضا کیا ہے؟ بہت سے صحر ا ؤ ں او ربیا با نوں کی خا ک چھا ننے کے بعد حسن کی با ر گا ہ میں با ریا بی نصیب ہو تی ہے ۔ وہ محبت اور تعلق جو کسی کو کسی سے صر ف اللہ تعالیٰکی ر ضا اور خو شنو دی کے لئے ہو ‘وہ حق کی محبت میں ہی دا خل ہے ا ور اس میں استقا مت بھی منجا نب اللہ ہی عطا ہو تی ہے ۔

محبت

ایک مر تبہ سید امو ر الحسن شا ہ صا حب علیہ الر حمتہ اپنی ایک محفل میں ارشا د فرما نے لگے ۔ انسا ن کا اصل جو ہر اس کے با طن کی پا کیزگی اور صفا ئی ہے۔ دل کی پا کیز گی سے انسا ن ظا ہر ی آ را ئش کے بغیر بھی زند گی کے مقصد کو حا صل کر سکتا ہے ۔ اسی و جہ سے اس کی تخلیق کی گئی ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کا ارشا د پا ک ہے کہ انسا ن کے جسم میں گو شت کا ایک ٹکڑا ہے جس کو دل کہتے ہیں اگر یہ صحیح ہو جا ئے تو انسا ن کا جسم تند ر ست ہو جا تاہے اور اس کی صحت کے بغیر انسا ن کے جسم کی صحت ممکن نہیں رہتی ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبا رکہ کا مقصد پند و نصا ئح ہی نہ تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم تزکیہ نفس بھی فر ما تے تھے ۔ نگا ہنبو ت آلو دہ دلو ں کو پا ک اور صا ف کر دیتی ہے ۔ آ فتا ب کے سا منے آ نے سے ظلمتوں کا وجو د ختم ہو جا تا ہے اور دل کی کد ورتیں دھل جا تی ہیں ۔ محبت میں کشش ہو تی ہے اور یہ کشش اپنی عجیب و غر یب کر شمہ سا زیاں دکھا تی ہے ۔ محبت کے دل میں اپنے سے زیا دہ محبو ب کی طلب ہو تی ہے ۔ اور وہ محبت اغرا ض سے پاک ہو تی ہے ۔ بقا کی منزل کا مسا فر ہی بقا کی حقیقتوں سے آ شنا ہو سکتا ہے ۔ فا نی منزل کا مسا فر خود فا نی ہے ۔ اور اس کے عطیات بھی فا نی ہیں۔
اسلا م محبت اور اخوت کا در س دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی محبت بند وں کے لئے ان پر رحمت اور بھلا ئی کے ارادہ سے ہے ۔ ایما ن تو محبت ہے اور محبت کسی حا ل میں بھی ما یو س ہو نا نہیں جا نتی ۔ محبت کا گما ن ہمیشہ خوشگو ا ر ہو تا ہے ۔ وہ دوست پر بد اعتما د ی کو کفر جا نتی ہے ۔ اور اعتما د کو سر ما یہ حیا ت ۔ محبت کے دا من میں سب کچھ کھو دینے کے بعد اور سا ری ذلتیں اور رسوا ئیاں بر دا شت کر نے کے بعد بھی اگر اعتما د کا سر ما یہ مو جو د ہے تو محب سر ما یہ دار ہی کہلا ئے گا ۔ چر ا غ میں اگر تیل ختم ہو جا ئے تو وہ گل ہو جا تاہے اور کسی کو نو ر عطا نہیں کر سکتا ۔ محبت کے چرا غ کی سا ری نو ر پا شی اور جا ن نو ا زی کا انحصا ر یقین اور اعتما د پر ہو تا ہے ۔ شیخ پر اعتما د کامل سے اسکی نظر کر م بھی ہو گی اور ذات پا ک کا کر م بھی !

تخلیق انسا نی

تما م مظاہر قدرت کو انسا ن کی غلا می میں اس لیے دیا گیا ہے تا کہ وہ اپنی تخلیق کا مقصد سمجھ لے ۔ جو ذات ہو اؤں کو کنڑ ول کر رہی ہے ۔ جس نے ستا روں کو دل آ ویز یاں عطا کی ہیں ۔ سبز ے کو رو ئید گی کی صلا حیت عطا فرما ئی۔ پھو لوں کو تبسم دیا اور ہر چیز کی تکمیل کا ذمہ لیا اور وسا ئل نہ ہو نے کے با وجو د روزی عطا کر نے پر قا در ہے ۔ انسا ن کو لا ز م ہے کہ اس قا در و قیو م ذا ت پا ک کو اپنا ما لک و مختا ر سمجھے ۔ اور اسی کے سا منے عبو دیت کا اظہا ر کر ے ۔

گنا ہوں کی گر د

با ر ش اکثر گر د آلو د مطلع صا ف کر دیتی ہے ۔ فضا ؤ ں کے حسن کو نکھا رتی ہے جو فضا ئیں دھند لی ہوں وہ دل فر یب نہیں ہو تی ۔آ نکھوں سے جب ند امت کے آ نسو نکلتے ہیں تو گنا ہوں کی گر د دھل جا تی ہے ۔ دل کی فضا ؤ ں میں نیا روپ اور با نکپن آ جا تاہے اور یہ معلو م ہو تا ہے کہ اس پر کبھی خز ا ں آ ئی ہی نہیں ۔ تو بہ کر نے والا یو ں پا ک ہو جا تاہے جیسے اُس نے گنا ہ کیا ہی نہیں ۔ تو بہ زند گی کے مر غذ اروں میں نئی بہا ر کی حیثیت رکھتی ہے ۔ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د گر امی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بند ے کے سا تھ بھلا ئی کا ارادہ کر تا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے عیو ب کی دید فر ما دیتا ہے ۔ اور پھر اس طر ح سے اسے تو بہ کی تو فیق حا صل ہو جا تی ہے ۔ توبہ کے بغیر کو ئی عبا د ت در ست نہیں ۔ جب گنا ہ گا ر بند ہ اللہ کے حضو ر سچے دل سے تو بہ کر تا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو سب سے زیا دہ خو شی ہو تی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو تو بہ کر نے والا بہت محبو ب ہے ۔ فعل بد سے پشیما نی تو بہ ہے ۔ اور یہ ایک ایسا قو ل ہے ۔ جس میں تو بہ کی تما م شر طیں مو جو د ہیں کیو نکہ تو بہ کی ایک شر ط تو مخالفت احکا م الہی پر افسوس کر نا ہے ۔ دوسر ی شر ط لغز ش کو فو را چھوڑ دینا اور تیسر ی شر ط گنا ہ کی طر ف نہ لو ٹنے کا ارادہ کر نا ہے ۔ یہ تینوں شر طیں ندا مت کے سا تھ وابستہ ہیں کیو نکہ جب فعل بدپر ند امت پیدا ہو ئی تو با قی شرا ئط خو د بخود اس کے سا تھ آ جا تی ہیں ۔ اس لئے تو بہ و استغفا ر کا اہتما م نہا یت ضر و ری ہے ۔

تو بہ کا در وا ز ہ

گنا ہ گا ر کی تو بہ اس لئے قبو ل ہو تی ہے کہ وہ سعا دتوں سے محر و م ہو تا ہے ۔ اس کی بے کسی ، بے بسی ، حر ما ں نصیبی اور محر و می کے جذ با ت خا لق کا ئنات رحیم و کر یم خدا ئے قد و س کو ما ئل بہ کر م کر تے ہیں ۔ تو بہ کے بعد حسیں رو ح جس پر گنا ہوں کی کثا فتیں چھا ئی ہوتی ہیں ۔ جب وہ ندا مت کے آ نسوؤ ں سے غسل کر لیتی ہے تو اس کی تا بند گی اور تابا نی ظا ہر ہو نے لگتی ہے ۔

دل حقیقت آ گاہ

دل کی حقیقت سے آ گاہی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس کی حقیقت تک رسا ئی نہیں ہو تی ۔ یہاں دل سے مراد حقیقت رو ح ہے ۔ اگر یہ نہ ہو تو جسم مردار کہلا تاہے ۔ انسا ن کی تخلیق میں دو چیز وں کو عمل میں لا یا گیا ہے ایک تو یہ ظاہر ی ڈھا نچہ یعنی انسا نی قلب جو ظا ہری آ نکھ سے دیکھا جا سکتا ہے اور دو سر ی چیز انسا ن کا با طن ہے جسے دل و جا ن سے مو سوم کیا جا تاہے ۔ اس کو ظا ہر ی آ نکھ نہیں دیکھ سکتی بلکہ اس کو با طن کی آ نکھ ہی سے دیکھا جا سکتا ہے ۔
جب دل کو نسبت الیہ اور نسبت رسا لتما ب ؐ را سخ ہوجا ئے تو پھر اس وقت دل کو فی الحقیقت دل کہا جا سکتا ہے ۔ نوا ز ش اور کر م صر ف قلب سلیم کے لئے مخصو ص ہے ۔ پر ا گند ہ دل حق تعالیٰ کی با رگا ہ میں نہیں جھک سکتا ۔ قر ب الہی دل کے ذر یعے حا صل ہو تا ہے اور اگر عقل کے ذریعے حا صل ہو جا ئے تب بھی وہ قر ب نہیں کہلا تا کیو نکہ وعقل دل کا را ز پا نے سے قا صر ہے ۔

دل کی روشنی

نبی کر یم صلی اللہ علیہ ولم کا ارشا د گرا می ہے کہ دل کی روشنی اور نو ر کا با عث بننے والی چیز تو بہ ، استغفا ر اور گر یہ و ز ا ری ہیں ۔ قلب سلیم کی روشنی اور نورا نیت کے لئے استغفا ر کا نسخہ اکسیر و کیمیا ہے ۔

تو بہ سے نجا ت

اللہ تعالیٰ کی جا نب سے تو بہ کا حکم ہر بند ے کے لئے ہے ۔ نجا ت کے امید واروں کے لئے تو بہ ہی سے یہ نعمت مل سکتی ہے ۔ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د گرا می ہے کہ جو شخص تو بہ کر ے گا ۔ بیشتر اس کے کہ آ فتا ب مغر ب کی طر ف سے طلو ع ہو ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سو ر ج مغر ب کی طر ف سے نہ طلو ع ہو گا اور نہ یہ ہو گا کہ تو بہ کر نے والے کی تو بہ قبو ل نہ ہو ۔ پشیما نی بذ ات خو د تو بہ ہے ۔ جو شخص تو بہ استغفار کر تا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت سے وہ فر شتے جو گنا ہ لکھنے پر مقر ر ہیں ۔ اس کا گنا ہ لکھنا ہی بھو ل جا تے ہیں ۔ تا کہ وہ قلب سلیم کے سا تھ با ر گا ہ خدا و ند ی میں مو جو د ہو ۔

جسم اور رو ح کے تعلق کا جا ئز ہ

جسم اور رو ح کے تعلق کا نا م ز ند گی ہے ۔ اور ان دو نوں کی جد ائی مو ت ہے ۔ جسم اس وقت تک زند ہ و سلا مت ہے جب تک اس میں رو ح مو جو د ہے ۔ رو ح کے نکل جا نے کے بعد یہ بیکا ر ہو جا تاہے ۔ جسما نی زند گی رو ح سے ہے ۔
دل کو زند گی یا د الہی سے ملتی ہے ۔ محبت الہی مو جو د ہے تو دل زند ہ ہے ۔ دل سے یاد الہی نکل جا ئے تو وہ ایک گو شت کا ٹکڑا رہ جا تا ہے ۔ جو ہر حیو انو ں میں مو جو د ہے ۔
مو من کا دل جس میں یا د الہی سے نورا نیت آ چکی ہے وہ حیا ت افرو ز اور حیا ت آ فر یں ہے ۔ جب تعلق اللہ تعالیٰ سے بن جا ئے تو اس کی رحمت کا حصو ل لا زمی امر ہے اور اگر شیطا ن سے تعلق ہو تو اس کے اثرا ت کی جھلک وا ضح طو رپر نظر آ نے لگتی ہے ۔ اب انسا ن کو اختیا ر ہے کہ وہ کو نسی راہ اپنے لئے پسند کر تا ہے ۔
دل کی شا ن ایک آ ئینے کی طر ح ہے اور لو ح محفو ظ بھی ایک آ ئینہ ہے جس میں تما م مو جو دا ت کا عکس پڑ تا ہے ۔ جس طر ح دو آ ئینے اگر آ منے سا منے رکھ دئیے جا ئیں تو ایک کا عکس دوسر ے پر پڑ ے گا اسی طر ح اگر دل کا آ ئینہ صا ف ہو گا تو لو ح محفو ظ کی صورتیں اس میں دکھا ئی دیں گی ۔ اس طر ح دل کی نسبت لو ح محفو ظ سے ہو جا ئے گی ۔ مگر جتنی دیر تک اس کا تعلق عالم محسو سا ت سے استوا ر رہے گا اس وقت تک عالم ملکو ت سے حجا ب میں رہے گا ۔ اس کٹھن منزل کے حصو ل کے لئے مجا ہد ہ و ریا ضت اور مر شد کا مل سے نسبت ضر و ری امو ر ہیں ۔ یہ مقا م معرفت اور طلب الہی کی منزل ہے ۔

تو بہ کی تو فیق

دل میں ایما ن کی دولت ہو تو مشکلا ت کا ہجو م بھی انسا ن کو اللہ تعالیٰ کے قر یب کر دیتا ہے ۔ ایما ن کی قو ت سے محر و م انسا ن کے لئے معمو لی پر یشا نی اور مصیبت بھی گونا گوں آ لا م کا مو جب بن جا تی ہے۔
با ر گا ہ الہی میں شر ف قبو لیت پا نے والا حسن وہ نہیں جس کی شمع کو حو ادث کے جھو نکے بجھا یں۔
سچا انسا ن محبو ب حقیقی کے حصول کی راہ میں پیش آ نے والی مشکلا ت کو خند ہ پیشا نی سے قبو ل کر تا ہے اور ر اہ محبت کے ثمر ا ت مچجھ کر قبو ل کر لیتا ہے ۔ اور ایما ن سے خا لی انسا ن نا گو اری اور پر یشا نی آ نے پر بے چین اور بیقرار ہو جا تاہے ۔
اہل محبت کی مرا د اربا ب غر ض کی مر اد سے مختلف ہو تی ہے ۔ دونوں میں کو ئی مطا بقت نہیں ہو تی ۔ ایک با مر ا دہو تا ہے اور دوسرا نا مرا د دونوں کی را ہیں مختلف ہو تی ہیں ۔ با مر ادوہی ہو تا ہے جو عیب دا ر ہو نے کے با وجو د استغفا ر کا ذ اکر ہو ۔ وہ اس کا نٹے کی ما نند ہو تا ہے جو زنا ن حا ل سے رو رو کر التجا کر تا ہے کہ اے عیب چھپا نے والے اللہ ! میرا عیب کیسے چھپے گا ۔ میں تو کا نٹا ہوں ۔ اس کی التجا و فر یا د اور گر یہ و ز ا ری سے اللہ تعالیٰ کی ذا ت اپنے خاص کر م سے اس کی عیب پو شی اس طر ح کرتی ہے کہ اس پر پھو ل لگا دیتا ہے ۔ جس کی پنکھڑیوں کے د

امن

میں وہ خا ر اپنا منہ چھپا لیتا ہے ۔ پس اگر کو ئی کا نٹا بھی ہے تو اسے اہل لو گوں کی صحبت اختیا ر کر نی چاہیے تا کہ ان کی بر کت سے اسے خصلت گل سے نو از دے ۔ اللہ کے بندو ں کی یہ شا ن ہے کہ ان سے محبت رکھنے والا گنا ہ پر قائم نہیں رہتا اسے تو بہ کی تو فیق حا صل ہو جا تی ہے ۔ اس کے دل کی سیا ہی دل جا تی ہے ۔ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندو ں کو عطا کرتا ہے ، ان کی صحبت میں بیٹھنے والوں پر بھی ابر کر م کے چھینٹے اس کے فضل و کر م سے پڑ جا تے ہیں ۔ اور وہ لو گ بھی محر و م نہیں رہتے ۔

چشمہ فیض

مو من کا دل چشمہ فیض الہی ہو تا ہے وہ ہر طر ف تجلیاں بکھر تا ہے اگر ان خو بیوں کا حا مل نہ ہو تو اسے چشمہ فیضا ن الہی نہیں کہا جا ستا ۔وہ بخیل کہلا تا ہے اور بخیل فطر ت کا نما ئند ہ نہیں ہو سکتا ،

اضطرا ب اور سکو ن

انسا ن اپنے اعما ل ، افعال اور کر دا ر کی بد ولت اس دنیا کو جہنم بھی بنا سکتا ہے اور جنت کا نمو نہ بھی یہ زند گی بن سکتی ہے ۔ جو کچھ ہمیں پیش آتا ہے دراصل وہ ہمار ے ہی اعما ل کا ثمر ہ ہو تا ہے ۔ فر ق یہ ہے کہ فقرا ئے محمد ی کو جو مشکلا ت پیش آ تی ہیں وہ ان کے اعما ل کا نتیجہ نہیں بلکہ امتحا ن ہو تی ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کے زیا دہ قر یب کر نیکا مو جب بنتی ہیں ۔ عا م ہم جیسے انسا نوں کو جا نا گو اریا ں پیش آ تی ہیں وہ ہمار ے اعما ل کا ثمر ہو تی ہیں ۔

ایما ن کی حقیقت

ایما ن کی حقیقت تعلقات کی استوا ر ی اور درستگی کا نا م ہے ۔ وہ محبت کا وعدہ جو اپنی عبو د یت کا اعترا ف اور اس کی حا کمیت کے احسا س کے سا تھ بند ہ با ند ھ لیتا ہے ۔ اس ایما ن کہتے ہیں ۔ جو اعما ل صا لحہ کا نتیجہ اور ثمر ہے ۔
مو جو د ہ زمانے میں اس پیما ن محبت کو قائم رکھنے کے لئے تر بیت اور طلب کے زاویے کا رخ درست کر نے کی ضر و رت ہے جو کسی مر د حق آ گاہ کی تر بیت اور صحبت اختیا ر کئے بغیر حا صل نہیں ہو سکتا ۔
ایما ن خو ف و رجا امید و بیم یا س اور آس کے درمیان کی کیفیت کا نا م ہے یعنی انسا ن جب اپنی کو تاہیوں گنا ہوں لغزشوں اور نا فر ما نیوں پر نظر ڈالے تو اس پر ایک خو ف کی حا لت طا ری ہو جا ئے اوروہ اپنی بخشش سے نا امید ہو نے لگے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی شا ن غفا ر ی و ستا ری کا تصو ر کر ے تو اس کا دل بخشش اور اچھی امیدوں کے خیا ل سے مسرور ہو جا ئے ۔

اللہ تعالیٰ کی معر فت کا حصول

قرآ ن مجید میں جا بجا ارشا د ربی ہے کہ آ سما ن زمین چا ند ستا روں سو ر ج پہاڑو ں دریا ؤں اور اس کے دیگر مظا ہر پر غو ر و فکر کیا جا ئے ۔ یہ تما م اللہ تعالیٰ کی نشا نیاں ہیں اور ان پر غو ر و فکر کر نے سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حا صل ہو تی ہے اور اس کی قد رت و حکمت کا پتہ چلتا ہے ۔ اس کی ذا ت کا عرفا ن حا صل ہو تا ہے ۔ دل گو اہی دیتا ہے کہ یہ تما م مظا ہر فطر ت بیکا ر تخلیق نہیں کئے گئے ۔ صر ف بصیر ت اور بصا ر ت سے محر و م انسا ن کچھ دیکھ سکتا ہے نہ عبر ت حا صل کر سکتا ہے ۔ یہ دولت صر ف متلا شی کی حا صل ہو تی ہے ۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت

انسا ن زند گی کے کسی بھی مر حلے پر گنا ہ کا اعتر اف کر کے عا جز ی و انکسا ری کا سر ما یہ لے کر جب اس کی با ر گا ہ میں حا ضر ہو گا تو اس کی بے پا یا ں رحمتو ں کا حقدا ر بن جا ئے گا ۔ رحمت حق بہا نہ می جو ئید ۔ اس کی رحمت تو بہا نہ تلا ش کر تی ہے ۔

اتبا ع رسالتما ب صلی اللہ علیہ وسلم

محبت سر کا ر دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعو ے کا ثبو ت آپ کی مکمل اتباع ہے ۔ چلنے پھر نے میں کھا نے پینے میں اٹھنے بیٹھنے ملنے جلنے میں اخلا قیا ت میں معاملا ت میں سیا سیا ت میں خلو ت میں جلو ت میں بیر و نی زند گی میں گھر یلو زند گی میں غر ضیکہ زند گی کے ہر ہر عمل میں ہر ہر حر کت اور سکو ن میں ہر لمحہ ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ آپ کے معمو لا ت اورتعلیما ت کو مد نظر رکھنا ہو گا ۔ سچیمحبت کی تجلیاں انسا ن کو سر شا ر اور شا دماں رکھتی ہیں ۔

ایما ن اور محبت

تکیمل ایما ن کے لئے محبت لا ز می ہے ۔ ایما ن کے خیا با نوں میں اس وقت بہا ر آ تی ہے جب محبت صد یق بن جا تی ہے ۔ محبت میں کھوٹ ہو تو ایما ن میں کھو ٹ ظا ہر ہو کر رہتا ہے ۔ اگر محبت آ لا ئشوں سے پا ک ہو تو امتحا ن کی آ گ میں گز ر جا نے کے بعد ایما ن کند ن کی طر ح چمکتا ہے ۔

تو حید کا کما ل

تو حید کا کما ل یہ ہے کہ دل پر تو حید کے سوا کسی چیز کا گز ر ہی نہ ہو جب انسا ن کے دل پر تو حید کا پو ر ی طرح غلبہ ہو جا تا ہے تو اس کی
زند گی کے کسی گو شہ میں بھی تو حید کے سوا کو ئی چیز نظر نہیں آ تی ۔

مظا ہر قد رت

سو رج چا ند ستا ر ے پہاڑ دریا صحرا اور میدا نی علا قے سب پر غو ر و فکر اور تد بر کیا جا ئے تو ان سے یہ با ت ظا ہرہو تی ہے کہ یہ سب مظا ہر قد ر ت ہیں اور سب ایک قا عد ے اصول اور نظم و ضبط کے سا تھ اپنی اپنی خدمت انجا م دے رہے ہیں ۔ آ فتا ب و ما ہتا ب کی گر دش اور طلو ع و غر و ب میں کو ئی تبد یلی نہیں آ تی ۔ یہ سب مظا ہر فطر ت پو ری وفا د ار ی سے اپنا فر یضہ پورا کر رہے ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک سے بھی کسی لغز ش کا ہو نا ممکن نہیں ہے ۔

بھلا ئی کا امید وا ر

ہر و ہ شخص جو اپنی ذا ت کے لئے بھلا ئی کا امید وا ر ہو اس پر لاز م ہے کہ وہ ان لوگوں سے بہتر سے بہتر ین سلو ک کر ے جن پر اس کو اختیا ر دیا گیا ہے ۔ دوسروں پر بے جا سختی کر نے والا اللہ تعالیٰ کے کر م کا مستحق نہیں ہو سکتا ۔ رحمتیں اسی شخص کا سا تھ دیتی ہیں جن کے دل رحم و کر م کے پا کیز ہ جذ با ت سے معمو ر ہوں۔ دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں ۔ زیر دستوں ، کمز وروں اور ضعیفو ں کا سہا ر ا بنیں ۔ انتقا م لینے کی بجا ئے عفو اور در گز ر سے کا م لیں۔