-- - O - -- شیخ کا دامن بہت وسیع ہے ۔ اس کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے اس کے بعد انشاء اللہ کامیابی ہی کامیابی ہے۔ -- - O - -- شیخ کو رحمت کاملہ کی شناخت کے لئے واسطہ اور وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ -- - O - -- شیخ کو ذات و صفات کا مرکز سمجھنا پڑتا ہے۔ -- - O - -- مرید دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک دین کے کام کا اور دوسرے دنیا کے کام کا۔ -- - O - -- یتیم سے محبت کرنانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ہے۔ -- - O - -- ہر مقام پر انسان کا اپنا جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کرو، اللہ تعالی ہر چیز عطا کر دے گا۔ -- - O - -- اللہ اور اس کے رسول ؐکی محبت کی طلب رکھنی چاہئے۔ -- - O - -- فریاد جب ہی سنی جاتی ہے،جب فریادی کی شکل بنائی جائے۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاوء تو درد لے کر جاؤ یا ڈر۔ -- - O - -- اہل اللہ اور فقرائے محمدی ؐکی نظر ہی کام کرتی ہے جو زندگی بھر قائم و دائم رہتی ہے۔ -- - O - -- عشق مجازی ۔۔۔۔۔۔مشکل بازی -- - O - -- عشق مجازی اور ادو وظائف سے طے نہیں ہوتا بلکہ شیخ ہی اس کو طے کرا سکتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺنے صحابہ کرامؓ کا عشق مجازی طے کرایا کہ اگر کسی صحا بی کو بھوک پیاس لگتی تو وہ رسا لتماب ﷺکے رخ مبارک کو دیکھ لیتے تو ان کو تسکین ہو جاتی تھی۔ -- - O - -- بیعت کسی صورت میں بھی نہیں ٹوٹ سکتی البتہ پیر عاق کر سکتا ہے جس کی وجہ سے فیضان بند ہو جائے گااور وہ مرد خدا نہیں بن سکتا ۔ -- - O - -- مردود کی شناخت یہ ہے کہ اس کے نیک اعما ل کرنے کی صلاحیت سلب کر لی جاتی ہے خواہ اس کا دنیاوی کاروبارجتنا مرضی بڑھ جائے۔ -- - O - -- معقول سے شکوہ ہوتا ہے،نا معقول سے کوئی شکوہ نہیں۔ -- - O - -- دنیا دارکی زبان گدھے کی زبان ہے۔ -- - O - -- برا فعل میں نے کیا تو نے عاقبت کیوں خراب کی۔ -- - O - -- فقیر کے مذاق میں خرابی نہیںآتی۔ ٓٓٓٓٓ -- - O - -- جب صورت بنتی ہے تو خدا سیرت بھی بنا دیتاہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والے سے شکوہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- دیکھنا ہوتا ہے کہ مرید کام کا پابند ہے یا ہمارا۔ -- - O - -- رحمت ہر جگہ موجود ہے مگر اسکو دیکھنے کا شعور نہیں ہے۔ -- - O - -- روپیہ آنے جانے والی چیز ہے۔ -- - O - -- جس سے جو کہہ دیا جائے،وہ قیامت تک اسی طرح اسے پورا کرے ، اس چیز کی طرف مت دیکھیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ -- - O - -- احکام رسالتماب ﷺمیں کوئی تغیرو تبدل نہیں۔عشق پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ -- - O - -- جانور ایک گونگے کی طرح ہے جو ہر طرح کے اشارات کو بخوبی سمجھتا ہے اور محبت کی نظریں پہنچانتا ہے۔ -- - O - -- قول مقدسہ ہے:زر، زمین،زن۔۔۔۔۔۔جنگ -- - O - -- روزی کے لئے ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ رشوت حرام ہے مگر لے رہا ہے۔ -- - O - -- بے عمل کیوں ہیں کہ حضورﷺسے رشتہ نہیں بنا۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاو تو درد لے کر جاؤ۔ -- - O - -- حضرت عمر فاروقؓ نے نبی کریم ﷺکو اسلام لانے سے پہلے بھی دیکھا ہوا تھا مگر جب محبت کا وقت آگیا تو پھر ایک ہی نظر کام کر گئی جو زندگی بھر قائم رہی۔ -- - O - -- بیٹا اپنے باپ کا نمونہ ہوتاہے۔مرسل اپنے بھیجنے والے کا نمونہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- حرام وہ ہے جس میں نبی کریم ﷺکی رضامندی نہیں ہے۔ -- - O - -- نبی کریم ﷺکے تمام احکامات مانے جانیں اور ماننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ سب احکامات کی پیروی کی جائے۔ -- - O - -- بدکار بہت روتا ہے مگر اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا ۔ -- - O - -- جب نیک عمل کی طاقت سلب ہو جاتی ہے، وہ ہی قہر ربی ہوتا ہے۔ -- - O - -- اور ادووظائف عظمت شیخ اور محبت شیخ کو مد نظر رکھ کر پڑھنے چاہیں۔ -- - O - -- سب سے بڑا قہر ربی نیک عمل سے رو گردانی ہے یعنی نا فرمانی رسولﷺ۔ -- - O - -- فرمان رسولﷺ کی تحقیق ضروری ہے کیونکہ بہت عربی مقولوں کو بھی لوگوں نے حدیث کی شکل دے دی ہے۔ -- - O - -- عدل و انصاف ایسی جگہ پیدا ہوتا ہے جس دل میں برائی کے اثرات واضح ہو جاےءں۔ -- - O - -- یار کے سب فرمان پورے کرنے چاہیں۔ -- - O - -- مرسل کے فعل کو اختیا ر کیا جا سکتا ہے۔ -- - O - -- افعال محمدیہؐکی تلاش کے لئے حدیث پڑھی جائے۔ -- - O - -- روپیہ پیسہ بیوی بچوں پر خرچ کیا جاتا ہے،ماں پر نہیں، کتنی بڑی بد بختی ہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والا ہی عمل کر سکتا ہے۔ -- - O - -- گور اور گھر اپنا ہونا چاہئے۔ -- - O - -- جب کرو گے نیک کام کی انجام وہی پر ہی سوچ بچار کرو گے، برے کام پر نہیں۔ -- - O - -- دشمن کبھی کہنا نہیں مانے گا، جب بھی مانے گا دوست ہی کہنا مانے گا۔ -- - O - -- برا کا م کوئی نہیں صرف نا فرمانی رسالتماب ﷺ برا کام ہے جس کی سزا شرمندگی ہے۔ -- - O - -- جس سے محبت ہوتی ہے، اس کے قرب کی تلاش ہوتی ہے۔ -- - O - -- شیخ سے محبت کرنا ، نبی کی محبت ہے۔ -- - O - -- ہر وقت با وضو رہنا چاہئے۔ شیخ کو با وضو دیکھے اور اس کی خدمت میں حاضر رہے۔ -- - O - -- آداب شیخ بھی اسی وقت سمجھ آئیں گے ، جب شیخ سے تعشق ہو گا،ورنہ پھر منا فق ہے۔ -- - O - -- اتباع اہل محبت کا شیوہ ہے، بغیر محبت کے اتباع نہیں ہو سکتی۔ -- - O - -- کعبہ مخلوق ہے۔ -- - O - -- حجرا سود کو کیوں بھیجا گیاصرف اس لئے کہ وہ لوگ پتھر کے بتوں کو پوجتے تھے،تین سو ساٹھ بتوں کی بجائے ایک پتھر کی عظمت قائم کرنا ، مقصود تھی۔ -- - O - -- تہذیب پہچان پیدا کراتی ہے اس لئے حضورکریمﷺنے انسانیت کا لباس پہنا۔ -- - O - -- آجکل دنیا داری دولت کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور مذہب کی کوئی پرواہ نہیں۔کلمہ پڑھاجاتا ہے مگر وقعت کچھ نہیں۔جب تک دل میں نبی کریم ﷺکی عظمت قائم نہیں ہو گی،کلمہ کی عظمت قائم نہیں ہو گی۔ -- - O - -- وہ اتنا کریم ہے کہ کسی کے گناہ پر روٹی بند نہیں کرتا اور نہ عبادت پر روٹی بڑھاتا ہے۔ -- - O - -- کھانا کھانے والے کی عزت کھانا کھلانے والے سے زیادہ ہے۔اگر کسی کو کھانا کھلایا جا رہا ہے اور وہ گالیاں دے تب بھی اس کو خوشامد کر کے کھانا کھلایا جائے۔ -- - O - -- شیخکا دامن وسیع ہے، اس کو مضبوطی سے پکڑا جائے، انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔ -- - O - -- اولاد کو عاق کیا جا سکتا ہے ، اس سے نزول رحمت بند ہو جاتا ہے مگر شفقت کی رگیں پھڑ کتی رہتی ہیں۔ -- - O - -- آجکل دنیا دار صرف روٹی کا درجہ پہچانتا ہے اسی لئے اس کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔ -- - O - -- ماں اور پیرو مرشد کے درجہ کو پہچاننا چاہئے ۔ -- - O - -- دنیا دار مانتا ہے، دنیا کے نفع کے لئے ، پیرو مرشد کو مانا جاتا ہے بغیر نفع و نقصان کے۔ -- - O - -- ہر کام میں صالح جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کر و۔ ہر چیز اللہ تعالٰی دے گا، طلب محبت رکھو ۔ -- - O - -- شیر کے شکار سے اور بھی فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ شیر بنو ، گیدڑ مت بنو۔ -- - O - -- فقر کے کو چہ میں سب سے بڑا کفر سہارا ہے۔ سہارا صرف محمد ی ﷺہے۔ اس اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو جس کو ذات محمدی ﷺنے بتلایا۔ -- - O - -- غریب کا ٹھکانہ کہیں نہیں ہوتا سوائے فقیر کے۔ -- - O - -- بندہ جب ہی ثابت ہو گا، جب اپنی عاجزی دکھائے گا۔ -- - O - -- مرید اپنے پیر کا نمونہ ہوتا ہے۔ فقیر ایک ضرور نمونہ چھوڑتاہے۔ -- - O - -- گناہ کسی کی روزی بند نہیں کرتا ، اگر گناہ سے روزی بند ہوتی تو طوائف کو روزی نہ ملتی۔ ؂ -- - O - -- اگر کوئی نیک بندہ راہ راست پر چلتا ہے تو سینکڑوں بندگان خدا سد راہ ہو جاتے ہیں۔ -- - O - -- کلمہ طیبہ کا ذکر سلطا ن الذکر ہے۔ -- - O - -- شریعت کے معنی ہیں۔ اسلام کی تمام شرائط ماننا۔ -- - O - -- طریقت دراصل طوق بندگی گلے میں ڈالنا ہے۔ -- - O - -- حقیقت سے مراد ہے، قناعت و توکل یعنی اپنے نفس کو قابو کرنا۔ -- - O - -- معرفت حقیقت میں ہمیشہ راضی بہ رضا رہنا ہے۔ رب ذولجلال کی خوشی میں خوش رہنا ، مگن رہنا۔ -- - O - -- ولی کامل وہ ہے جس کا تعلق مع اللہ کے ساتھ ساتھ مع المخلوق کا سلسلہ بھی قائم رہے تاکہ ختم نبوت کے بعد صالحین امت کا ایسا گروہ دنیا میں موجود رہے جس کے عمل و کردار پر بڑی حد تک نبوت کی چھا پ ہو اور ان کے اعمال و افعال میں قرآن و سنت کی روح جھلکتی نظر آئے تاکہ عامتہ الناس ا ن سے عملی طور پر استفادہ کر سکیں۔ -- - O - -- تصوف اصلاح باطن اور تصحیح نیت کا نام ہے۔(یہ تزکیہ اور احسان ہے) -- - O - -- صوفی حقیقیت میں قرآن و سنت کا عالم اور سنت نبوی ﷺ و آثار صحابہ کا متبع ہوتا ہے اور یہی اصل دین ہے۔ -- - O - -- ہمزاد اور جناب کو قید نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی نے جب اپنی مخلوق کو آزاد پیدا کیا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں ، کسی کو قید کرنے والے۔ مخلوق کی ضروریا ت ہیں ، پھر اس مخلوق کی بھی ضرورت پوری کرنی ہو گی۔ -- - O - -- ہم کلام کے نہیں کلیم کی قائل ہیں۔ -- - O - -- تم صر ف اس بات پر نظر رکھو گے کہ میں کسی سے کیسے ملتا ہوں ۔ کوئی مجھ سے کیسے ملتا ہے، باقی باتوں کو صرف نظر کر دو مگر اپنے شیخ سے اپنی عقیدت اور محبت کو استوار رکھو۔ -- - O - -- جو بھی کام کرنا ہے، اسی زندگی میں کرنا ہے۔ عمل کرو گے تو نتیجہ تمہارے سامنے آجائے گا۔ -- - O - -- خوش خبری یہ ہے کہ قیامت کے روز فرشتوں کو پروردگار حکم دیں گے کہ میرے تمام دوست میزان کے چاروں طرف جمع ہو جائیں پھر پروردگار ان سے فرمائیں گے کہ دنیا میں ایک لقمہ جس نے روٹی کا کھلایا ہے۔ ایک گھونٹ جس نے پانی کا پلایا ہے۔ ایک نظر جس نے محبت سے دیکھا ہے، نبی کریمﷺ اس کا بازو پکڑ کر جنت میں جس دروازے سے چاہیں ، اس کو داخل کر دیں ۔ -- - O - -- قیامت کے دن جبکہ نفسا نفسی کا عالم ہو گا، نبی بھی اس میں مبتلا ہو ں گے اور کو ئی کسی کو پہچا ننے والا نہ ہو گا ۔اللہ کے دوست اور ولی حسب مرا تب ہا تھو ں میں ان کے علم ہوں گے اور بڑ ے خوبصو ر ت اور سا یہ دا ر درختو ں کے نیچے اپنے مر ید ین کو لئے کھڑ ے ہوں گے تو پھر سر کا ر دو جہاں نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس تشر یف لا ئیں گے اور ان سے پو چھیں گے 'آپ کے سب آ دمی آ گئے 'یعنی تصدیق کرکے ۔ -- - O - -- جہاں دو پیر بھا ئی مو جو د ہو تے ہیں وہاں تیسرا پیر مو جو د ہو تا ہے ۔ -- - O - -- صو فی وہ ہے جو دونوں طر ف سے صا ف ہو یعنی نہ تو وہ کسی کی ملکیت میں ہو نہ کو ئی اس کی ملکیت میں ہو ۔ما سوا "اللہ "کے۔ -- - O - -- فقر یہ ہے کہ جو کچھ انسا ن کے پاس ہو اس پر قنا عت کر ے اور زیا دہ کی تمنا نہ کر ے اور نفس کی ہمیشہ مخالفت کر ے ۔ رمو ز خدا وند ی کی کسی پر ظا ہر نہ کر ے ۔ -- - O - -- تصو ف یہ ہے کہ دو نوں چیز و ں میں زیا دتی کا پہلو تر ک کر دے ۔یعنی فقر اور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقر ا ور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقرا سے تعلق رکھے 'عا جز ی سے ثا بت قد م رہے ۔بخشش و عطا ر پر معتر ض نہ ہو اور اعما ل صا لح کر ے ۔ -- - O - -- اپنے نفس کا حکم نہ ما ننا پر ہیز گا ر ی ہے اور نفس کو تا بع کر نا پر ہیز گا ری کا فعل ہے ۔ -- - O - -- ترک شکا یت کا نا م صبر ہے ۔ -- - O - -- جو شخص احکا م الہی کا استقبا ل خند ہ پیشا نی سے کر تا ہے ۔ اس فعل کو را ضی بہ رضا الہی کہا جا تا ہے ۔ -- - O - -- قلب کی تین قسمیں ہیں ۔ اول وہ قلب ہے جو کو ہ گراں کی طر ح اپنی جگہ اٹل رہتا ہے ۔ دوم وہ قلب ہے جو تنا و ر در خت کی طر ح مستحکم اور مضبو ط ہوتا ہے مگر اس قلب کو با د تند کے تھپیڑ ے ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور کبھی کبھی اس کواکھاڑ پھینکتے ہیں ۔سو م وہ قلب ہوتا ہے جو پرندوں کی طر ح پروا ز کر تا رہتا ہے ۔ -- - O - -- زند گی کے لئے کو ن سی چیزیں ضر و ری ہیں ۔ اول: کھانا مگر بقا ئے زند گی کی حد تک 'دو م : پا نی صر ف رفع تشنگی کے لئے 'سو م :لبا س صرف ستر پو شی کی حد تک 'چہا رم : علم صر ف عمل کی حد تک ۔ -- - O - -- فقیر بنا ہے : ف سے فنا ہو نے والا 'ق سے قنا عت 'ی سے یا ر 'ر سے رقت قلب۔ -- - O - -- محبت اور ملکیت ایک جگہ جمع نہیں ہوتیں ۔ جو اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اپنی جا ن 'ما ل 'نفس سب کچھ اللہ کے حوالے کر دیتا ہے ۔ اور اللہ کے تصر فا ت پر اعترا ض نہیں کرتا ۔ اللہ کی طر ف سے جو کچھ اس کو ملتا ہے 'قبو ل کر لیتا ہے ۔ صرف ایک سمت (یعنی اللہ) کے سوا جملہ سمتیں اس کے لئے بند ہو جا تی ہیں تب اس کی محبت کا مل ہو تی ہے ۔ -- - O - -- تند ر ست وہ ہے جو جھوٹ نہ بو لے اور دوسروں کو جھوٹ بو لنے کی تلقین نہ کر ے ۔ خو د بھی مکمل طو ر پر سچا ہو اور دوسروں کو بھی سچ کی تلقین کر ے ۔ سچ کو پر کھنے کی تین کسوٹیاں ہیں ۔ اللہ کی کتا ب 'رسولؐ اللہ کی سنت اور سچے کا قلب۔اس قلب پر جب کو ئی عکس پڑ تا ہے تو یہ قلب اس وقت تک مطمئن اور را ضی نہیں ہو تا جب تک کتا ب اور سنت سے اس کی تصدیق نہیں ہو جا تی ۔ -- - O - -- علم پر عمل کر نے سے قلب صاف اور پا ک ہو جا تا ہے ۔ جب قلب درست ہو جا تا ہے تو با قی اعضا ء بھی درست اور پا ک صا ف ہو جا تے ہیں ۔ جب قلب کو تقو یٰ عطا ہو تا ہے ۔ تو جسم کی بھی اصلا ح ہو جا تی ہے ۔ -- - O - -- با طن پر ند ہ ہے اور دل اس کا پنجر ہ ۔ دل پر ند ہ ہے تو بد ن اس کا پنجر ہ ۔ اور قبر سا ری مخلو ق کا پنجر ہ ہے کیوں کہ انجا م کا ر سبھی کو اس میں جا نا ہے ۔ -- - O - -- اللہ کے سوا کسی سے مت ڈرو ۔ انسا ن کے دُکھ درد میں شر یک رہو ۔ دُنیا میں اس طر ح رہو جس طر ح کو ئی لا ئق رہتا ہے ۔ اپنے دل و دما غ کو تکبر اورغر و ر سے پا ک رکھو کیو نکہ اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں چیزیں با لکل ناپسند ہیں ۔ -- - O - -- کا ئنا ت کا وجو د خالق سے الگ نہیں سمندر کی لہریں سمندر سے الگ نظر آتی ہیں لیکن فر یب نظر ہے ۔ نا م جد ا سہی لیکن حقیقت ایک ہے ۔ شعا ئیں آفتا ب سے لہریں سمند ر سے الگ نہیں ہو تیں ۔ جس طر ح پھو ل کے مر جھا جا نے اور نغمے کے ختم ہو نے کے بعد بھی خوشبو اور مو سیقی کی لہریں کا ئنا ت میں با قی رہ جا تی ہیں ۔ اس طر ح انسا ن مو ت کے بعد "کل "میں جذ ب ہو جا تا ہے ۔ کا ئنا ت کا ایک ظا ہر ہے جو ہم سب کو نظر آرہا ہے ۔ اور کا ئنا ت بظا ہر کثر ت ہے ۔ لیکن حقیقت میں وحد ت ہے ۔ -- - O - -- تقد یر خد ا کی رضا ہے ۔ اور انسا نی اعما ل خدا کی تخلیق ہے ۔ انسا ن تقدیر کے سا منے مجبو ر اور بے بس ہے لیکن اعما ل پر قادر ہے ۔ بر ے کر ے یا اچھے ۔ -- - O - -- سما ع جا ئز ہے یا نا جا ئز سما ع اہل حق کے لئے مستحب ہے ۔ اہل زہد کے لئے مبا ح اور اہل نفس کے لئے مکر و ہ ہے -- - O - -- فقیر ی یہ ہے کہ مر ید کے دما غ میں ایک ایسی تصو یر گھس جا ئے کہ وہ جد ھر دیکھے اس کو وہی تصو یر نظر آ ئے ۔ -- - O - -- انسا ن چلہ کشی سے شر ک میں مبتلا ہو جا تاہے کیونکہ اس کی نظر اسبا ب پر چلی جا تی ہے مسب سے اُٹھ جا تی ہے ۔

Islamic Calender

Prayer Time

Country United States
City Ashburn
Date

Fajr
Sunrise
Zuhr
Asr
Maghrib
Isha

القرآن الكريم

مَا أَشْهَدتُّهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَا خَلْقَ أَنفُسِهِمْ وَمَا كُنتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّينَ عَضُداً

الآية رقم 51

من سورة الكهف

Quran-e-Pak

Asmaul Husna

Ayat of the day


شیخ عبدالقادرجیلانی

(470تا561ہجری)(جنہیں حضور سیدنا عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ،شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت شیخ سیدناعبدالقادرجیلانی الگیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ناموںسے بھی جاناجاتاہے)(1077-1166)جوکہ سُنّی حنبلی طریقہ کے نہایت اہم صوفی شیخ اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں۔آپ کی پیدائش رمضان کے درمیان 1077عیسوی میں فارس کے صوبہ گیلان(ایران) میں ہوئی۔جس کو کیلان بھی کہا جاتاہے اوراسی لئے آپ کا ایک اورنام شیخ عبدالقادر کیلانی بھی ماخوذہے۔ شیخ عبدالقادرجیلانی کاتعلق جنید بغدادی کے روحانی سلسلے سے ملتاہے۔شیخ عبدالقادرجیلانی کی خدمات و افکارکی وجہ سے شیخ عبدالقادرجیلانی کو مسلم دنیامیں غوثِ اعظم دستگیر کاخطاب دیاگیاہے۔

اکابرینِ اسلام کی عبدالقادر جیلانی کے لئے پیشن گوئیاں

1۔شیخ عبدالقادرجیلانی کی ولادت سے چھ سال قبل حضرت شیخ ابواحمد عبداللہ بن علی بن موسیٰنے فرمایاکہ میں گواہی دیتاہوں کہ عنقریب ایک ایسی ہستی آنے والی ہے کہ جس کا فرمان ہوگا کہ

قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللہ کہ میرا قدم تمام اولیاءاللہ کی گردن پر ہے

حضرت شیخ عقیل سنجیرضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اس زمانے کے قطب کون ہیں؟ فرمایا، اس زمانے کا قطب مدینہ منورہ میں پوشیدہ ہے۔ سوائے اولیاءاللہ کے اُسے کوئی نہیں جانتا۔ پھر عراق کی طرف اشارہ کرکے فرمایاکہ اس طرف نوجوان عجمی ظاہر ہوگا۔ وہ بغداد میں وعظ کہے گا۔ اس کی کرامتوں کو ہر خاص و عام جان لے گااور وہ فرمائیگا کہ

قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللہ کہ میرا قدم تمام اولیاءاللہ کی گردن پر ہے

سالک السالکین میں ہے کہ جب عبدالقادر جیلانی کو مرتبہء غوثیت و مقام محبوبیت سے نوازا گیا توایک دن جمعہ کی نماز میں خطبہ دیتے وقت اچانک آپ پر استغراقی کیفیت طاری ہو گئی اوراسی وقت زبانِ فیض سے یہ کلمات جاری ہوئے

قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللہ کہ میرا قدم تمام اولیاءاللہ کی گردن پر ہے۔

معاًمنادیءغیب نے تمام عالم میں ندا کردی کہ جمیع اولیاءاللہ اطاعتِ غوثِ پاک کریں۔ یہ سنتے ہی جملہ اولیاء اللہ جو زندہ تھے یا پردہ کرچکے تھے سب نے گردنیں جھکادیں۔

حالاتِ زندگی

ایامِ طفولیت

تمام علماءواولیاء اس بات پر متفق ہیں کہ سیدناعبدالقادرجیلانی مادرزاد یعنی پیدائشی ولی ہیں۔ آپ کی یہ کرامت بہت مشہور ہے کہ آپ ماہِ رمضانالمبارک میں طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کبھی بھی دودھ نہیں پیتے تھے اور یہ بات گیلان میں بہت مشہور تھی۔

ولد للاشراف ولد لایرضع فی رمضان یعنی سادات کے گھر انے میں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو رمضان میں دن بھر دودھ نہیں پیتا۔[2]

کھیل کود سے لاتعلقی

بچپن میں عام طور سے بچے کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں لیکن آپ بچپن ہی سے لہو ولہب سے دور رہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ

کلما ھممت ان العب مع الصبیان اسمع قائلا یقول الی یا مبارک ترجمہ: یعنی جب بھی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتا تو میں سنتا تھا کہ کوئی کہنے والا مجھ سے کہتا تھااے برکت والے، میری طرف آجا۔ [3]

ولایت کا علم

ایک مرتبہ بعض لوگوں نے سید عبدالقادرجیلانی سے پوچھا کہ آپ کو ولایت کا علم کب ہوا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ دس برس کی عمر میں جب میں مکتب میں پڑھنے کے لئے جاتا تو ایک غیبی آواز آیا کرتی تھی جس کو تمام اہلِ مکتب بھی سُنا کرتے تھے کہ

افسحوالولی اللہ ترجمہ: اللہ کے ولی کے لئے جگہ کشادہ کردو۔[4]

پرورش وتحصیلِ علم

آپ کے والد کے انتقال کے بعد ،آپ کی پرورش آپ کی والدہ اور آپ کے نانانے کی۔ شیخ عبدالقادرجیلانی کاشجرہ ءنسب والد کی طرف سے حضرت امام حسن علیہ السلام اوروالدہ کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام سے ملتاہے اوریوںآپ کاشجرہ ءنسب حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جاملتاہے۔اٹھارہ ( 18)سال کی عمر میں شیخ عبدالقادرجیلانی تحصیل ِ علم کے لئے بغداد(1095)تشریف لے گئے۔جہاں آپ نے فقہ کا علم ابوسیدعلی مخرمی ،حدیث کا علم ابوبکر بن مظفراورتفسیرکے لئے ابومحمدجعفرجیسے اساتذہ میسرآئے۔

ریاضت و مجاہدات

تحصیل ِ علم کے بعد شیخ عبدالقادرجیلانی بغدادشہر کوچھوڑااورعراق صحراؤںاورجنگلوںمیں 25سال تک سخت عبادت وریاضت کی[5]۔1127میں آپ نے اللہ کے حکم پر دوبارہ بغدادمیں سکونت اختیارکی اوردرس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ جلد ہی آپ کی شہرت و نیک نامی بغداداورپھردوردورتک پھیل گئی۔ 40سال تک آپ نے اسلا م کی تبلیغی سرگرمیوںمیں بھرپورحصہ لیانتیجتاًہزاروںلوگ مشرف بہ اسلام ہوئے ۔اس سلسلہ تبلیغ کو مزید وسیع کرنے کے لئے دوردرازوفودکوبھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔ خودشیخ عبدالقادرجیلانی نے تبلیغِ اسلام کے لئے دوردرازکاسفرکیااوربرِ صغیرتک تشریف لائے اورملتان(پاکستان)میں قیام پذیرہوئے ۔

حلیہ

جسم نحیف قد متوسط، رنگ گندمی، آواز بلند، سینہ کشادہ، ڈاڑھی لمبی چوڑی، چہرہ خوبصورت، سر بڑا، بھنوئیں ملی ہوئی۔ [6]

فرموداتِ غوثِ اعظم

Pages: 1 2