-- - O - -- شیخ کا دامن بہت وسیع ہے ۔ اس کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے اس کے بعد انشاء اللہ کامیابی ہی کامیابی ہے۔ -- - O - -- شیخ کو رحمت کاملہ کی شناخت کے لئے واسطہ اور وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ -- - O - -- شیخ کو ذات و صفات کا مرکز سمجھنا پڑتا ہے۔ -- - O - -- مرید دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک دین کے کام کا اور دوسرے دنیا کے کام کا۔ -- - O - -- یتیم سے محبت کرنانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ہے۔ -- - O - -- ہر مقام پر انسان کا اپنا جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کرو، اللہ تعالی ہر چیز عطا کر دے گا۔ -- - O - -- اللہ اور اس کے رسول ؐکی محبت کی طلب رکھنی چاہئے۔ -- - O - -- فریاد جب ہی سنی جاتی ہے،جب فریادی کی شکل بنائی جائے۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاوء تو درد لے کر جاؤ یا ڈر۔ -- - O - -- اہل اللہ اور فقرائے محمدی ؐکی نظر ہی کام کرتی ہے جو زندگی بھر قائم و دائم رہتی ہے۔ -- - O - -- عشق مجازی ۔۔۔۔۔۔مشکل بازی -- - O - -- عشق مجازی اور ادو وظائف سے طے نہیں ہوتا بلکہ شیخ ہی اس کو طے کرا سکتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺنے صحابہ کرامؓ کا عشق مجازی طے کرایا کہ اگر کسی صحا بی کو بھوک پیاس لگتی تو وہ رسا لتماب ﷺکے رخ مبارک کو دیکھ لیتے تو ان کو تسکین ہو جاتی تھی۔ -- - O - -- بیعت کسی صورت میں بھی نہیں ٹوٹ سکتی البتہ پیر عاق کر سکتا ہے جس کی وجہ سے فیضان بند ہو جائے گااور وہ مرد خدا نہیں بن سکتا ۔ -- - O - -- مردود کی شناخت یہ ہے کہ اس کے نیک اعما ل کرنے کی صلاحیت سلب کر لی جاتی ہے خواہ اس کا دنیاوی کاروبارجتنا مرضی بڑھ جائے۔ -- - O - -- معقول سے شکوہ ہوتا ہے،نا معقول سے کوئی شکوہ نہیں۔ -- - O - -- دنیا دارکی زبان گدھے کی زبان ہے۔ -- - O - -- برا فعل میں نے کیا تو نے عاقبت کیوں خراب کی۔ -- - O - -- فقیر کے مذاق میں خرابی نہیںآتی۔ ٓٓٓٓٓ -- - O - -- جب صورت بنتی ہے تو خدا سیرت بھی بنا دیتاہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والے سے شکوہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- دیکھنا ہوتا ہے کہ مرید کام کا پابند ہے یا ہمارا۔ -- - O - -- رحمت ہر جگہ موجود ہے مگر اسکو دیکھنے کا شعور نہیں ہے۔ -- - O - -- روپیہ آنے جانے والی چیز ہے۔ -- - O - -- جس سے جو کہہ دیا جائے،وہ قیامت تک اسی طرح اسے پورا کرے ، اس چیز کی طرف مت دیکھیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ -- - O - -- احکام رسالتماب ﷺمیں کوئی تغیرو تبدل نہیں۔عشق پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ -- - O - -- جانور ایک گونگے کی طرح ہے جو ہر طرح کے اشارات کو بخوبی سمجھتا ہے اور محبت کی نظریں پہنچانتا ہے۔ -- - O - -- قول مقدسہ ہے:زر، زمین،زن۔۔۔۔۔۔جنگ -- - O - -- روزی کے لئے ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ رشوت حرام ہے مگر لے رہا ہے۔ -- - O - -- بے عمل کیوں ہیں کہ حضورﷺسے رشتہ نہیں بنا۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاو تو درد لے کر جاؤ۔ -- - O - -- حضرت عمر فاروقؓ نے نبی کریم ﷺکو اسلام لانے سے پہلے بھی دیکھا ہوا تھا مگر جب محبت کا وقت آگیا تو پھر ایک ہی نظر کام کر گئی جو زندگی بھر قائم رہی۔ -- - O - -- بیٹا اپنے باپ کا نمونہ ہوتاہے۔مرسل اپنے بھیجنے والے کا نمونہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- حرام وہ ہے جس میں نبی کریم ﷺکی رضامندی نہیں ہے۔ -- - O - -- نبی کریم ﷺکے تمام احکامات مانے جانیں اور ماننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ سب احکامات کی پیروی کی جائے۔ -- - O - -- بدکار بہت روتا ہے مگر اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا ۔ -- - O - -- جب نیک عمل کی طاقت سلب ہو جاتی ہے، وہ ہی قہر ربی ہوتا ہے۔ -- - O - -- اور ادووظائف عظمت شیخ اور محبت شیخ کو مد نظر رکھ کر پڑھنے چاہیں۔ -- - O - -- سب سے بڑا قہر ربی نیک عمل سے رو گردانی ہے یعنی نا فرمانی رسولﷺ۔ -- - O - -- فرمان رسولﷺ کی تحقیق ضروری ہے کیونکہ بہت عربی مقولوں کو بھی لوگوں نے حدیث کی شکل دے دی ہے۔ -- - O - -- عدل و انصاف ایسی جگہ پیدا ہوتا ہے جس دل میں برائی کے اثرات واضح ہو جاےءں۔ -- - O - -- یار کے سب فرمان پورے کرنے چاہیں۔ -- - O - -- مرسل کے فعل کو اختیا ر کیا جا سکتا ہے۔ -- - O - -- افعال محمدیہؐکی تلاش کے لئے حدیث پڑھی جائے۔ -- - O - -- روپیہ پیسہ بیوی بچوں پر خرچ کیا جاتا ہے،ماں پر نہیں، کتنی بڑی بد بختی ہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والا ہی عمل کر سکتا ہے۔ -- - O - -- گور اور گھر اپنا ہونا چاہئے۔ -- - O - -- جب کرو گے نیک کام کی انجام وہی پر ہی سوچ بچار کرو گے، برے کام پر نہیں۔ -- - O - -- دشمن کبھی کہنا نہیں مانے گا، جب بھی مانے گا دوست ہی کہنا مانے گا۔ -- - O - -- برا کا م کوئی نہیں صرف نا فرمانی رسالتماب ﷺ برا کام ہے جس کی سزا شرمندگی ہے۔ -- - O - -- جس سے محبت ہوتی ہے، اس کے قرب کی تلاش ہوتی ہے۔ -- - O - -- شیخ سے محبت کرنا ، نبی کی محبت ہے۔ -- - O - -- ہر وقت با وضو رہنا چاہئے۔ شیخ کو با وضو دیکھے اور اس کی خدمت میں حاضر رہے۔ -- - O - -- آداب شیخ بھی اسی وقت سمجھ آئیں گے ، جب شیخ سے تعشق ہو گا،ورنہ پھر منا فق ہے۔ -- - O - -- اتباع اہل محبت کا شیوہ ہے، بغیر محبت کے اتباع نہیں ہو سکتی۔ -- - O - -- کعبہ مخلوق ہے۔ -- - O - -- حجرا سود کو کیوں بھیجا گیاصرف اس لئے کہ وہ لوگ پتھر کے بتوں کو پوجتے تھے،تین سو ساٹھ بتوں کی بجائے ایک پتھر کی عظمت قائم کرنا ، مقصود تھی۔ -- - O - -- تہذیب پہچان پیدا کراتی ہے اس لئے حضورکریمﷺنے انسانیت کا لباس پہنا۔ -- - O - -- آجکل دنیا داری دولت کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور مذہب کی کوئی پرواہ نہیں۔کلمہ پڑھاجاتا ہے مگر وقعت کچھ نہیں۔جب تک دل میں نبی کریم ﷺکی عظمت قائم نہیں ہو گی،کلمہ کی عظمت قائم نہیں ہو گی۔ -- - O - -- وہ اتنا کریم ہے کہ کسی کے گناہ پر روٹی بند نہیں کرتا اور نہ عبادت پر روٹی بڑھاتا ہے۔ -- - O - -- کھانا کھانے والے کی عزت کھانا کھلانے والے سے زیادہ ہے۔اگر کسی کو کھانا کھلایا جا رہا ہے اور وہ گالیاں دے تب بھی اس کو خوشامد کر کے کھانا کھلایا جائے۔ -- - O - -- شیخکا دامن وسیع ہے، اس کو مضبوطی سے پکڑا جائے، انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔ -- - O - -- اولاد کو عاق کیا جا سکتا ہے ، اس سے نزول رحمت بند ہو جاتا ہے مگر شفقت کی رگیں پھڑ کتی رہتی ہیں۔ -- - O - -- آجکل دنیا دار صرف روٹی کا درجہ پہچانتا ہے اسی لئے اس کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔ -- - O - -- ماں اور پیرو مرشد کے درجہ کو پہچاننا چاہئے ۔ -- - O - -- دنیا دار مانتا ہے، دنیا کے نفع کے لئے ، پیرو مرشد کو مانا جاتا ہے بغیر نفع و نقصان کے۔ -- - O - -- ہر کام میں صالح جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کر و۔ ہر چیز اللہ تعالٰی دے گا، طلب محبت رکھو ۔ -- - O - -- شیر کے شکار سے اور بھی فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ شیر بنو ، گیدڑ مت بنو۔ -- - O - -- فقر کے کو چہ میں سب سے بڑا کفر سہارا ہے۔ سہارا صرف محمد ی ﷺہے۔ اس اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو جس کو ذات محمدی ﷺنے بتلایا۔ -- - O - -- غریب کا ٹھکانہ کہیں نہیں ہوتا سوائے فقیر کے۔ -- - O - -- بندہ جب ہی ثابت ہو گا، جب اپنی عاجزی دکھائے گا۔ -- - O - -- مرید اپنے پیر کا نمونہ ہوتا ہے۔ فقیر ایک ضرور نمونہ چھوڑتاہے۔ -- - O - -- گناہ کسی کی روزی بند نہیں کرتا ، اگر گناہ سے روزی بند ہوتی تو طوائف کو روزی نہ ملتی۔ ؂ -- - O - -- اگر کوئی نیک بندہ راہ راست پر چلتا ہے تو سینکڑوں بندگان خدا سد راہ ہو جاتے ہیں۔ -- - O - -- کلمہ طیبہ کا ذکر سلطا ن الذکر ہے۔ -- - O - -- شریعت کے معنی ہیں۔ اسلام کی تمام شرائط ماننا۔ -- - O - -- طریقت دراصل طوق بندگی گلے میں ڈالنا ہے۔ -- - O - -- حقیقت سے مراد ہے، قناعت و توکل یعنی اپنے نفس کو قابو کرنا۔ -- - O - -- معرفت حقیقت میں ہمیشہ راضی بہ رضا رہنا ہے۔ رب ذولجلال کی خوشی میں خوش رہنا ، مگن رہنا۔ -- - O - -- ولی کامل وہ ہے جس کا تعلق مع اللہ کے ساتھ ساتھ مع المخلوق کا سلسلہ بھی قائم رہے تاکہ ختم نبوت کے بعد صالحین امت کا ایسا گروہ دنیا میں موجود رہے جس کے عمل و کردار پر بڑی حد تک نبوت کی چھا پ ہو اور ان کے اعمال و افعال میں قرآن و سنت کی روح جھلکتی نظر آئے تاکہ عامتہ الناس ا ن سے عملی طور پر استفادہ کر سکیں۔ -- - O - -- تصوف اصلاح باطن اور تصحیح نیت کا نام ہے۔(یہ تزکیہ اور احسان ہے) -- - O - -- صوفی حقیقیت میں قرآن و سنت کا عالم اور سنت نبوی ﷺ و آثار صحابہ کا متبع ہوتا ہے اور یہی اصل دین ہے۔ -- - O - -- ہمزاد اور جناب کو قید نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی نے جب اپنی مخلوق کو آزاد پیدا کیا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں ، کسی کو قید کرنے والے۔ مخلوق کی ضروریا ت ہیں ، پھر اس مخلوق کی بھی ضرورت پوری کرنی ہو گی۔ -- - O - -- ہم کلام کے نہیں کلیم کی قائل ہیں۔ -- - O - -- تم صر ف اس بات پر نظر رکھو گے کہ میں کسی سے کیسے ملتا ہوں ۔ کوئی مجھ سے کیسے ملتا ہے، باقی باتوں کو صرف نظر کر دو مگر اپنے شیخ سے اپنی عقیدت اور محبت کو استوار رکھو۔ -- - O - -- جو بھی کام کرنا ہے، اسی زندگی میں کرنا ہے۔ عمل کرو گے تو نتیجہ تمہارے سامنے آجائے گا۔ -- - O - -- خوش خبری یہ ہے کہ قیامت کے روز فرشتوں کو پروردگار حکم دیں گے کہ میرے تمام دوست میزان کے چاروں طرف جمع ہو جائیں پھر پروردگار ان سے فرمائیں گے کہ دنیا میں ایک لقمہ جس نے روٹی کا کھلایا ہے۔ ایک گھونٹ جس نے پانی کا پلایا ہے۔ ایک نظر جس نے محبت سے دیکھا ہے، نبی کریمﷺ اس کا بازو پکڑ کر جنت میں جس دروازے سے چاہیں ، اس کو داخل کر دیں ۔ -- - O - -- قیامت کے دن جبکہ نفسا نفسی کا عالم ہو گا، نبی بھی اس میں مبتلا ہو ں گے اور کو ئی کسی کو پہچا ننے والا نہ ہو گا ۔اللہ کے دوست اور ولی حسب مرا تب ہا تھو ں میں ان کے علم ہوں گے اور بڑ ے خوبصو ر ت اور سا یہ دا ر درختو ں کے نیچے اپنے مر ید ین کو لئے کھڑ ے ہوں گے تو پھر سر کا ر دو جہاں نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس تشر یف لا ئیں گے اور ان سے پو چھیں گے 'آپ کے سب آ دمی آ گئے 'یعنی تصدیق کرکے ۔ -- - O - -- جہاں دو پیر بھا ئی مو جو د ہو تے ہیں وہاں تیسرا پیر مو جو د ہو تا ہے ۔ -- - O - -- صو فی وہ ہے جو دونوں طر ف سے صا ف ہو یعنی نہ تو وہ کسی کی ملکیت میں ہو نہ کو ئی اس کی ملکیت میں ہو ۔ما سوا "اللہ "کے۔ -- - O - -- فقر یہ ہے کہ جو کچھ انسا ن کے پاس ہو اس پر قنا عت کر ے اور زیا دہ کی تمنا نہ کر ے اور نفس کی ہمیشہ مخالفت کر ے ۔ رمو ز خدا وند ی کی کسی پر ظا ہر نہ کر ے ۔ -- - O - -- تصو ف یہ ہے کہ دو نوں چیز و ں میں زیا دتی کا پہلو تر ک کر دے ۔یعنی فقر اور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقر ا ور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقرا سے تعلق رکھے 'عا جز ی سے ثا بت قد م رہے ۔بخشش و عطا ر پر معتر ض نہ ہو اور اعما ل صا لح کر ے ۔ -- - O - -- اپنے نفس کا حکم نہ ما ننا پر ہیز گا ر ی ہے اور نفس کو تا بع کر نا پر ہیز گا ری کا فعل ہے ۔ -- - O - -- ترک شکا یت کا نا م صبر ہے ۔ -- - O - -- جو شخص احکا م الہی کا استقبا ل خند ہ پیشا نی سے کر تا ہے ۔ اس فعل کو را ضی بہ رضا الہی کہا جا تا ہے ۔ -- - O - -- قلب کی تین قسمیں ہیں ۔ اول وہ قلب ہے جو کو ہ گراں کی طر ح اپنی جگہ اٹل رہتا ہے ۔ دوم وہ قلب ہے جو تنا و ر در خت کی طر ح مستحکم اور مضبو ط ہوتا ہے مگر اس قلب کو با د تند کے تھپیڑ ے ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور کبھی کبھی اس کواکھاڑ پھینکتے ہیں ۔سو م وہ قلب ہوتا ہے جو پرندوں کی طر ح پروا ز کر تا رہتا ہے ۔ -- - O - -- زند گی کے لئے کو ن سی چیزیں ضر و ری ہیں ۔ اول: کھانا مگر بقا ئے زند گی کی حد تک 'دو م : پا نی صر ف رفع تشنگی کے لئے 'سو م :لبا س صرف ستر پو شی کی حد تک 'چہا رم : علم صر ف عمل کی حد تک ۔ -- - O - -- فقیر بنا ہے : ف سے فنا ہو نے والا 'ق سے قنا عت 'ی سے یا ر 'ر سے رقت قلب۔ -- - O - -- محبت اور ملکیت ایک جگہ جمع نہیں ہوتیں ۔ جو اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اپنی جا ن 'ما ل 'نفس سب کچھ اللہ کے حوالے کر دیتا ہے ۔ اور اللہ کے تصر فا ت پر اعترا ض نہیں کرتا ۔ اللہ کی طر ف سے جو کچھ اس کو ملتا ہے 'قبو ل کر لیتا ہے ۔ صرف ایک سمت (یعنی اللہ) کے سوا جملہ سمتیں اس کے لئے بند ہو جا تی ہیں تب اس کی محبت کا مل ہو تی ہے ۔ -- - O - -- تند ر ست وہ ہے جو جھوٹ نہ بو لے اور دوسروں کو جھوٹ بو لنے کی تلقین نہ کر ے ۔ خو د بھی مکمل طو ر پر سچا ہو اور دوسروں کو بھی سچ کی تلقین کر ے ۔ سچ کو پر کھنے کی تین کسوٹیاں ہیں ۔ اللہ کی کتا ب 'رسولؐ اللہ کی سنت اور سچے کا قلب۔اس قلب پر جب کو ئی عکس پڑ تا ہے تو یہ قلب اس وقت تک مطمئن اور را ضی نہیں ہو تا جب تک کتا ب اور سنت سے اس کی تصدیق نہیں ہو جا تی ۔ -- - O - -- علم پر عمل کر نے سے قلب صاف اور پا ک ہو جا تا ہے ۔ جب قلب درست ہو جا تا ہے تو با قی اعضا ء بھی درست اور پا ک صا ف ہو جا تے ہیں ۔ جب قلب کو تقو یٰ عطا ہو تا ہے ۔ تو جسم کی بھی اصلا ح ہو جا تی ہے ۔ -- - O - -- با طن پر ند ہ ہے اور دل اس کا پنجر ہ ۔ دل پر ند ہ ہے تو بد ن اس کا پنجر ہ ۔ اور قبر سا ری مخلو ق کا پنجر ہ ہے کیوں کہ انجا م کا ر سبھی کو اس میں جا نا ہے ۔ -- - O - -- اللہ کے سوا کسی سے مت ڈرو ۔ انسا ن کے دُکھ درد میں شر یک رہو ۔ دُنیا میں اس طر ح رہو جس طر ح کو ئی لا ئق رہتا ہے ۔ اپنے دل و دما غ کو تکبر اورغر و ر سے پا ک رکھو کیو نکہ اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں چیزیں با لکل ناپسند ہیں ۔ -- - O - -- کا ئنا ت کا وجو د خالق سے الگ نہیں سمندر کی لہریں سمندر سے الگ نظر آتی ہیں لیکن فر یب نظر ہے ۔ نا م جد ا سہی لیکن حقیقت ایک ہے ۔ شعا ئیں آفتا ب سے لہریں سمند ر سے الگ نہیں ہو تیں ۔ جس طر ح پھو ل کے مر جھا جا نے اور نغمے کے ختم ہو نے کے بعد بھی خوشبو اور مو سیقی کی لہریں کا ئنا ت میں با قی رہ جا تی ہیں ۔ اس طر ح انسا ن مو ت کے بعد "کل "میں جذ ب ہو جا تا ہے ۔ کا ئنا ت کا ایک ظا ہر ہے جو ہم سب کو نظر آرہا ہے ۔ اور کا ئنا ت بظا ہر کثر ت ہے ۔ لیکن حقیقت میں وحد ت ہے ۔ -- - O - -- تقد یر خد ا کی رضا ہے ۔ اور انسا نی اعما ل خدا کی تخلیق ہے ۔ انسا ن تقدیر کے سا منے مجبو ر اور بے بس ہے لیکن اعما ل پر قادر ہے ۔ بر ے کر ے یا اچھے ۔ -- - O - -- سما ع جا ئز ہے یا نا جا ئز سما ع اہل حق کے لئے مستحب ہے ۔ اہل زہد کے لئے مبا ح اور اہل نفس کے لئے مکر و ہ ہے -- - O - -- فقیر ی یہ ہے کہ مر ید کے دما غ میں ایک ایسی تصو یر گھس جا ئے کہ وہ جد ھر دیکھے اس کو وہی تصو یر نظر آ ئے ۔ -- - O - -- انسا ن چلہ کشی سے شر ک میں مبتلا ہو جا تاہے کیونکہ اس کی نظر اسبا ب پر چلی جا تی ہے مسب سے اُٹھ جا تی ہے ۔

Islamic Calender

Prayer Time

Country United States
City Ashburn
Date

Fajr
Sunrise
Zuhr
Asr
Maghrib
Isha

القرآن الكريم

فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ

الآية رقم 40

من سورة المعارج

Quran-e-Pak

Asmaul Husna

Ayat of the day


سُلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری جنوبی ایشیاء میں تصوّف کے سب سے بڑے سلسلہء چشتیہ کے بانی ہیں اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء جیسے عظیم الشان پطریقت کے مرشد ہیں۔ غریبوں کی بندہ پروری کرنے کے عوض عوام نے آپ کو غریب نوازکا لقب دیا جو آج بھی زبان زدِ عام ہے۔

آپ 14 رجب 536 ہجری کو جنوبی ایران کےعلاقےسیستان کےایک دولت مند گھرانےمیں پیدا ہوئےآپ نسلی اعتبار سےصحیح النسب سید تھےآپ کا شجرہ عالیہ بارہ واسطوں سےامیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سےجاملتا ہے۔ آپ کےوالد گرامی خواجہ غیاث الدین حسین بہت دولت مند تاجر اور بااثر تھے۔ حالانکہ کثرت مال و دولت کو قرآنحکیم میں سب سےبڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ مگر خواجہ غیاث صاحب ثروت ہونےکےساتھ ساتھ ایک عابد و زاہد شخص بھی تھے۔ دولت کی فراوانی کےباوجود حضرت معین الدین چشتی بچپن سےہی بہت قناعت پسند تھے۔

ولادت اور بچپن

جس زمانےمیں آپ کی ولادت ہوئی وہ بڑا پرآشوب دور تھا سیستان اور خراسان لوٹ مار کی زد میں تھےہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ سرسبز و شاداب علاقوں میں آگ بھڑک رہی تھی اور خوبصورت شہر کھنڈروں میں تبدیل ہو رہےتھےملت اسلامیہ میں کئی فرقےپیدا ہو چکےتھےجو بڑی سفاکی اور بےرحمی سےایک دوسرےکاخون بہا رہےتھی۔ ”ملاحدہ“ اور ”باطینوں“ کی جماعت نےپورےملک میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا۔

یہی وہ خون رنگ اور زہرآلود فضا تھی جس نےخواجہ غیاث الدین حسین کو ترک وطن پر مجبور کر دیا۔ آپ اہل خانہ کو لےخراسان چلےآئی۔ اس وقت حضرت معین الدین چشتی کی عمر مبارک ایک برس تھی۔ خواجہ غیاث الدین حسین کا خیال تھا کہ انہیں ارض خراسان میں کوئی نہ کوئی گوشہ عافیت ضرور مل جائےگا۔ مگر گردش ایاّم کےیہاں بھی وہی تیوڑ تھے جاں گداز فتنےیہاں بھی سر اٹھا رہےتھی۔

549 ھجری میں خونی سیلاب انسانی سروں سےگزر گیا۔ اس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی عمر 13 سال تھی۔

طوس اور نیشاپور کےشہروں میں ظالموں نےایسا ظلم کیا اور اس قدر خون بہایا کہ وہاں ایک بھی انسان زندہ نہ بچا۔ ہر طرف لاشوں کےانبار لگےہوئےتھے۔ مسجدوں میں پناہ لینےوالوں کو بھی ظالموں نےنہ چھوڑا۔ نیشاپورکےمظلوموں اور جامہ شہادتنوش کرنےوالوں میں سپاہی اور عوام ہی میں شامل نہ تھےبڑےبڑےعلمائ‘ فضلا‘ اولیاءابرار‘ اتقیا بھی شامل تھی۔ نیشاپور جو ان دنوں علم و فضل کا گہوارہ تھا۔ اسےبھی خاک میں ملا دیا گیا لائبریریوں‘ درسگاہوں اور کتاب گھروں کو آگ لگا دی گئی۔

انہی پر آشوب حالات اور آفتوں سےلڑتےجھگڑتےحضرت خواجہ معین الدین چشتی نےپرورش پائی۔ اور اپنی آنکھوں سےمسلمانوں کےخون کےدریا بہتےدیکھی۔ کبھی کبھی آپ نہایت رقت آمیز لہجےمیں اپنےوالد خواجہ غیاث الدین حسین سےسوال کرتے۔ بابا! خون مسلمکی یہ ارزانی کب تک جاری رہےگی۔ نوعمر فرزند کا سوال سن کر والد گرامی رونےلگتےاور فرماتےبیٹے! یہ خونی ہوائیں اہل ایمان کیلئےآزمائش ہیں تمہیں صبر سےکام لیتےہوئےاچھےوقت کا انتظار کرنا چاہئے۔

پھر ایک دن صبر کی تلقین کرنےوالا باپ بھی 551 ھجری کو دنیا سےرخصت ہوگیے۔ اس وقت آپ کی عمر صرف 15 سال تھی۔ آپ اس نازک اور درندگی سےلبریز دور میں ایک شفیق اورمہربان باپ کےسایہ عافیت سےمحروم ہو چکےتھےوالد گرامی کی رحلت پر آپ ہر وقت اداس رہنےلگے۔ ایسےلمحات میں آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی نور نےبڑی استقامت کا ثبوت دیا اور بڑےحوصلےکےساتھ بیٹےکو سمجھایا۔

فرزند! زندگی کےسفر میں ہر مسافر کو تنہائی کی اذیتوں سےگزرنا پڑتا ہےاگر تم ابھی سےاپنی تکلیفوں کا ماتم کرنےبیٹھ گئےتو زندگی کےدشوار گزار راستےکیسےطےکرو گے۔

اٹھو اور پوری توانائی سےاپنی زندگی کا سفر شروع کرو۔ ابھی تمہاری منزل بہت دور ہےیہ والد سےمحبت کا ثبوت نہیں کہ تم دن رات ان کی یاد میں آنسو بہاتےرہو۔ اولاد کی والدین کیلئےحقیقی محبت یہ ہوتی ہےکہ وہ اپنےہر عمل سےبزرگوں کےخواب کی تعبیر پیش کری۔تمہارےباپ کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کری۔ چنانچہ تمہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کےحصول کیلئےہی صرف کر دینی چاہئیں۔ مادر گرامی کی تسلیوں سےحضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طبیعت سنبھل گئی اور آپ زیادہ شوق سےعلم حاصل کرنےلگے۔ مگر سکون و راحت کی یہ مہلت بھی زیادہ طویل نہ تھی مشکل سےایک سال ہی گزرا ہو گا کہ آپ کی والدہ حضرت بی بی نور بھی خالق حقیقی سےجاملیں۔ اب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اس دنیا میں اکیلئےرہ گئے۔

والد گرامی کی وفات پر ایک باغ اور ایک آٹا پیسنےوالی چکی آپ کو ورثےمیں ملی۔ والدین کی جدائی کےبعد باغبانی کا پیشہ آپ نےاختیار کیا۔ درختوں کو خود پانی دیتے۔زمین کو ہموار کرتےپودوں کی دیکھ بھال کرتے۔ حتیٰ کہ منڈی میں جا کر خود ہی پھل بھی فروخت کرتے۔ آپ کاروبار میں اس قدر محو ہو گئےکہ آپ کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ آپ کو اس کا بڑا افسوس تھا لیکن یہ ایک ایسی فطری مجبوری تھی کہ جس کا بظاہر کوئی علاج ممکن نہ تھا۔ آپ اکثر اوقات اپنی اس محرومی پر غورکرتےجب کوئی حل نظر نہ آتا تو شدید مایوسی کےعالم میں آسمان کی طرف دیکھتےاوررونےلگتے۔ یہ خدا کےحضور بندےکی ایک خاموش التجا تھی۔ ایک دن حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنےباغ میں درختوں کو پانی دےرہےتھےکہ ادھر سےمشہور بزرگ حضرت ابراہیم قندوزیکاگزر ہوا۔ آپ نےبزرگ کو دیکھا تو دوڑتےہوئےگئےاور حضرت ابراہیم قندوزی کےہاتھوں کو بوسہ دیا۔

حضرت ابراہیم قندوزیایک نوجوان کےاس جوش عقیدت سےبہت متاثر ہوئی۔ انہوں نےکمال شفقت سےآپ کےسر پر ہاتھ پھیرا اور چند دعائیہ کلمات کہہ کر آگےجانےلگےتو آپ نےحضرت ابراہیم قندوزی کا دامن تھام لیا۔

حضرت ابراہیم نےمحبت بھرےلہجےمیں پوچھا اےنوجوان! ”آپ کیا چاہتےہیں؟“

حضرت خواجہ معین الدین چشتی نےعرض کی کہ آپ چند لمحےاور میرےباغ میں قیام فرما لیں۔ کون جانتا ہےکہ یہ سعادت مجھےدوبارہ نصیب ہوتی ہےکہ نہیں۔ آپ کالہجہ اس قدر عقیدت مندانہ تھا کہ حضرت ابراہیم سےانکار نہ ہو سکا اور آپ باغ میں بیٹھ گئے۔ پھر چند لمحوں بعد انگوروں سےبھرےہوئےدو طباق لئےآپ حضرت ابراہیم کےسامنےرکھ دئیےاور خود دست بستہ کھڑےہو گئے۔

اس نو عمری میں سعادت مندی اورعقیدت مندی کا بےمثال مظاہرہ دیکھ کر حضرت ابراہیم حیران تھے۔ انہوں نےچند انگور اٹھا کر کھا لئے۔ حضرت ابراہیم کےاس عمل سےآپ کےچہرےپر خوشی کا رنگ ابھر آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم قندوزی نےفرمایا۔ معین الدین بیٹھ جائو!

آپ دوزانوں ہو کر بیٹھ گئے۔ فرزند! تم نےایک فقیر کی خوب مہمان نوازی کی ہی۔ یہ سرسبز شاداب درخت‘ یہ لذیذ پھل یہ ملکیت اورجائیداد سب کچھ فنا ہو جانےوالا ہے۔ آج اگریہاں بہار کا دور دورہ ہےتو کل یہاں خزاں بھی آئےگی۔ یہی گردش روزوشب ہےاور یہی نظام قدرت بھی۔ تیرا یہ باغ وقت کی تیز آندھیوں میں اجڑ جائےگا۔ پھر اللہ تعالیٰ تجھےایک اور باغ عطا فرمائےگا۔ جس کےدرخت قیامت تک گرم ہوائوں سےمحفوظ رہیں گے۔ ان درختوں میں لگےپھلوں کا ذائقہ جو ایک بار چکھ لےگا پھر وہ دنیا کی کسی نعمت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھےگا۔ حضرت ابراہیم قندوزی نےاپنےپیرھن میں ہاتھ ڈال کر جیب سےروٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر حضرت خواجہ کی طرف بڑھا دیا اور فرمایا وہ تیری مہمان نوازی تھی یہ فقیر کی دعوت ہے۔

یہ کہہ کر خشک روٹی کاوہ ٹکڑا حضرت معین الدین چشتی کےمنہ میں ڈال دیا۔ پھر باغ سےنکل کر اپنی منزل کی جانب تیزی سےچل دیئے۔

Pages: 1 2 3 4