-- - O - -- شیخ کا دامن بہت وسیع ہے ۔ اس کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے اس کے بعد انشاء اللہ کامیابی ہی کامیابی ہے۔ -- - O - -- شیخ کو رحمت کاملہ کی شناخت کے لئے واسطہ اور وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ -- - O - -- شیخ کو ذات و صفات کا مرکز سمجھنا پڑتا ہے۔ -- - O - -- مرید دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک دین کے کام کا اور دوسرے دنیا کے کام کا۔ -- - O - -- یتیم سے محبت کرنانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ہے۔ -- - O - -- ہر مقام پر انسان کا اپنا جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کرو، اللہ تعالی ہر چیز عطا کر دے گا۔ -- - O - -- اللہ اور اس کے رسول ؐکی محبت کی طلب رکھنی چاہئے۔ -- - O - -- فریاد جب ہی سنی جاتی ہے،جب فریادی کی شکل بنائی جائے۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاوء تو درد لے کر جاؤ یا ڈر۔ -- - O - -- اہل اللہ اور فقرائے محمدی ؐکی نظر ہی کام کرتی ہے جو زندگی بھر قائم و دائم رہتی ہے۔ -- - O - -- عشق مجازی ۔۔۔۔۔۔مشکل بازی -- - O - -- عشق مجازی اور ادو وظائف سے طے نہیں ہوتا بلکہ شیخ ہی اس کو طے کرا سکتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺنے صحابہ کرامؓ کا عشق مجازی طے کرایا کہ اگر کسی صحا بی کو بھوک پیاس لگتی تو وہ رسا لتماب ﷺکے رخ مبارک کو دیکھ لیتے تو ان کو تسکین ہو جاتی تھی۔ -- - O - -- بیعت کسی صورت میں بھی نہیں ٹوٹ سکتی البتہ پیر عاق کر سکتا ہے جس کی وجہ سے فیضان بند ہو جائے گااور وہ مرد خدا نہیں بن سکتا ۔ -- - O - -- مردود کی شناخت یہ ہے کہ اس کے نیک اعما ل کرنے کی صلاحیت سلب کر لی جاتی ہے خواہ اس کا دنیاوی کاروبارجتنا مرضی بڑھ جائے۔ -- - O - -- معقول سے شکوہ ہوتا ہے،نا معقول سے کوئی شکوہ نہیں۔ -- - O - -- دنیا دارکی زبان گدھے کی زبان ہے۔ -- - O - -- برا فعل میں نے کیا تو نے عاقبت کیوں خراب کی۔ -- - O - -- فقیر کے مذاق میں خرابی نہیںآتی۔ ٓٓٓٓٓ -- - O - -- جب صورت بنتی ہے تو خدا سیرت بھی بنا دیتاہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والے سے شکوہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- دیکھنا ہوتا ہے کہ مرید کام کا پابند ہے یا ہمارا۔ -- - O - -- رحمت ہر جگہ موجود ہے مگر اسکو دیکھنے کا شعور نہیں ہے۔ -- - O - -- روپیہ آنے جانے والی چیز ہے۔ -- - O - -- جس سے جو کہہ دیا جائے،وہ قیامت تک اسی طرح اسے پورا کرے ، اس چیز کی طرف مت دیکھیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ -- - O - -- احکام رسالتماب ﷺمیں کوئی تغیرو تبدل نہیں۔عشق پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ -- - O - -- جانور ایک گونگے کی طرح ہے جو ہر طرح کے اشارات کو بخوبی سمجھتا ہے اور محبت کی نظریں پہنچانتا ہے۔ -- - O - -- قول مقدسہ ہے:زر، زمین،زن۔۔۔۔۔۔جنگ -- - O - -- روزی کے لئے ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ رشوت حرام ہے مگر لے رہا ہے۔ -- - O - -- بے عمل کیوں ہیں کہ حضورﷺسے رشتہ نہیں بنا۔ -- - O - -- کسی بزرگ کی خدمت میں جاو تو درد لے کر جاؤ۔ -- - O - -- حضرت عمر فاروقؓ نے نبی کریم ﷺکو اسلام لانے سے پہلے بھی دیکھا ہوا تھا مگر جب محبت کا وقت آگیا تو پھر ایک ہی نظر کام کر گئی جو زندگی بھر قائم رہی۔ -- - O - -- بیٹا اپنے باپ کا نمونہ ہوتاہے۔مرسل اپنے بھیجنے والے کا نمونہ ہوتا ہے۔ -- - O - -- حرام وہ ہے جس میں نبی کریم ﷺکی رضامندی نہیں ہے۔ -- - O - -- نبی کریم ﷺکے تمام احکامات مانے جانیں اور ماننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ سب احکامات کی پیروی کی جائے۔ -- - O - -- بدکار بہت روتا ہے مگر اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا ۔ -- - O - -- جب نیک عمل کی طاقت سلب ہو جاتی ہے، وہ ہی قہر ربی ہوتا ہے۔ -- - O - -- اور ادووظائف عظمت شیخ اور محبت شیخ کو مد نظر رکھ کر پڑھنے چاہیں۔ -- - O - -- سب سے بڑا قہر ربی نیک عمل سے رو گردانی ہے یعنی نا فرمانی رسولﷺ۔ -- - O - -- فرمان رسولﷺ کی تحقیق ضروری ہے کیونکہ بہت عربی مقولوں کو بھی لوگوں نے حدیث کی شکل دے دی ہے۔ -- - O - -- عدل و انصاف ایسی جگہ پیدا ہوتا ہے جس دل میں برائی کے اثرات واضح ہو جاےءں۔ -- - O - -- یار کے سب فرمان پورے کرنے چاہیں۔ -- - O - -- مرسل کے فعل کو اختیا ر کیا جا سکتا ہے۔ -- - O - -- افعال محمدیہؐکی تلاش کے لئے حدیث پڑھی جائے۔ -- - O - -- روپیہ پیسہ بیوی بچوں پر خرچ کیا جاتا ہے،ماں پر نہیں، کتنی بڑی بد بختی ہے۔ -- - O - -- محبت کرنے والا ہی عمل کر سکتا ہے۔ -- - O - -- گور اور گھر اپنا ہونا چاہئے۔ -- - O - -- جب کرو گے نیک کام کی انجام وہی پر ہی سوچ بچار کرو گے، برے کام پر نہیں۔ -- - O - -- دشمن کبھی کہنا نہیں مانے گا، جب بھی مانے گا دوست ہی کہنا مانے گا۔ -- - O - -- برا کا م کوئی نہیں صرف نا فرمانی رسالتماب ﷺ برا کام ہے جس کی سزا شرمندگی ہے۔ -- - O - -- جس سے محبت ہوتی ہے، اس کے قرب کی تلاش ہوتی ہے۔ -- - O - -- شیخ سے محبت کرنا ، نبی کی محبت ہے۔ -- - O - -- ہر وقت با وضو رہنا چاہئے۔ شیخ کو با وضو دیکھے اور اس کی خدمت میں حاضر رہے۔ -- - O - -- آداب شیخ بھی اسی وقت سمجھ آئیں گے ، جب شیخ سے تعشق ہو گا،ورنہ پھر منا فق ہے۔ -- - O - -- اتباع اہل محبت کا شیوہ ہے، بغیر محبت کے اتباع نہیں ہو سکتی۔ -- - O - -- کعبہ مخلوق ہے۔ -- - O - -- حجرا سود کو کیوں بھیجا گیاصرف اس لئے کہ وہ لوگ پتھر کے بتوں کو پوجتے تھے،تین سو ساٹھ بتوں کی بجائے ایک پتھر کی عظمت قائم کرنا ، مقصود تھی۔ -- - O - -- تہذیب پہچان پیدا کراتی ہے اس لئے حضورکریمﷺنے انسانیت کا لباس پہنا۔ -- - O - -- آجکل دنیا داری دولت کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور مذہب کی کوئی پرواہ نہیں۔کلمہ پڑھاجاتا ہے مگر وقعت کچھ نہیں۔جب تک دل میں نبی کریم ﷺکی عظمت قائم نہیں ہو گی،کلمہ کی عظمت قائم نہیں ہو گی۔ -- - O - -- وہ اتنا کریم ہے کہ کسی کے گناہ پر روٹی بند نہیں کرتا اور نہ عبادت پر روٹی بڑھاتا ہے۔ -- - O - -- کھانا کھانے والے کی عزت کھانا کھلانے والے سے زیادہ ہے۔اگر کسی کو کھانا کھلایا جا رہا ہے اور وہ گالیاں دے تب بھی اس کو خوشامد کر کے کھانا کھلایا جائے۔ -- - O - -- شیخکا دامن وسیع ہے، اس کو مضبوطی سے پکڑا جائے، انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔ -- - O - -- اولاد کو عاق کیا جا سکتا ہے ، اس سے نزول رحمت بند ہو جاتا ہے مگر شفقت کی رگیں پھڑ کتی رہتی ہیں۔ -- - O - -- آجکل دنیا دار صرف روٹی کا درجہ پہچانتا ہے اسی لئے اس کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔ -- - O - -- ماں اور پیرو مرشد کے درجہ کو پہچاننا چاہئے ۔ -- - O - -- دنیا دار مانتا ہے، دنیا کے نفع کے لئے ، پیرو مرشد کو مانا جاتا ہے بغیر نفع و نقصان کے۔ -- - O - -- ہر کام میں صالح جذبہ کام کرتا ہے۔ شوق پیدا کر و۔ ہر چیز اللہ تعالٰی دے گا، طلب محبت رکھو ۔ -- - O - -- شیر کے شکار سے اور بھی فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ شیر بنو ، گیدڑ مت بنو۔ -- - O - -- فقر کے کو چہ میں سب سے بڑا کفر سہارا ہے۔ سہارا صرف محمد ی ﷺہے۔ اس اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو جس کو ذات محمدی ﷺنے بتلایا۔ -- - O - -- غریب کا ٹھکانہ کہیں نہیں ہوتا سوائے فقیر کے۔ -- - O - -- بندہ جب ہی ثابت ہو گا، جب اپنی عاجزی دکھائے گا۔ -- - O - -- مرید اپنے پیر کا نمونہ ہوتا ہے۔ فقیر ایک ضرور نمونہ چھوڑتاہے۔ -- - O - -- گناہ کسی کی روزی بند نہیں کرتا ، اگر گناہ سے روزی بند ہوتی تو طوائف کو روزی نہ ملتی۔ ؂ -- - O - -- اگر کوئی نیک بندہ راہ راست پر چلتا ہے تو سینکڑوں بندگان خدا سد راہ ہو جاتے ہیں۔ -- - O - -- کلمہ طیبہ کا ذکر سلطا ن الذکر ہے۔ -- - O - -- شریعت کے معنی ہیں۔ اسلام کی تمام شرائط ماننا۔ -- - O - -- طریقت دراصل طوق بندگی گلے میں ڈالنا ہے۔ -- - O - -- حقیقت سے مراد ہے، قناعت و توکل یعنی اپنے نفس کو قابو کرنا۔ -- - O - -- معرفت حقیقت میں ہمیشہ راضی بہ رضا رہنا ہے۔ رب ذولجلال کی خوشی میں خوش رہنا ، مگن رہنا۔ -- - O - -- ولی کامل وہ ہے جس کا تعلق مع اللہ کے ساتھ ساتھ مع المخلوق کا سلسلہ بھی قائم رہے تاکہ ختم نبوت کے بعد صالحین امت کا ایسا گروہ دنیا میں موجود رہے جس کے عمل و کردار پر بڑی حد تک نبوت کی چھا پ ہو اور ان کے اعمال و افعال میں قرآن و سنت کی روح جھلکتی نظر آئے تاکہ عامتہ الناس ا ن سے عملی طور پر استفادہ کر سکیں۔ -- - O - -- تصوف اصلاح باطن اور تصحیح نیت کا نام ہے۔(یہ تزکیہ اور احسان ہے) -- - O - -- صوفی حقیقیت میں قرآن و سنت کا عالم اور سنت نبوی ﷺ و آثار صحابہ کا متبع ہوتا ہے اور یہی اصل دین ہے۔ -- - O - -- ہمزاد اور جناب کو قید نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی نے جب اپنی مخلوق کو آزاد پیدا کیا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں ، کسی کو قید کرنے والے۔ مخلوق کی ضروریا ت ہیں ، پھر اس مخلوق کی بھی ضرورت پوری کرنی ہو گی۔ -- - O - -- ہم کلام کے نہیں کلیم کی قائل ہیں۔ -- - O - -- تم صر ف اس بات پر نظر رکھو گے کہ میں کسی سے کیسے ملتا ہوں ۔ کوئی مجھ سے کیسے ملتا ہے، باقی باتوں کو صرف نظر کر دو مگر اپنے شیخ سے اپنی عقیدت اور محبت کو استوار رکھو۔ -- - O - -- جو بھی کام کرنا ہے، اسی زندگی میں کرنا ہے۔ عمل کرو گے تو نتیجہ تمہارے سامنے آجائے گا۔ -- - O - -- خوش خبری یہ ہے کہ قیامت کے روز فرشتوں کو پروردگار حکم دیں گے کہ میرے تمام دوست میزان کے چاروں طرف جمع ہو جائیں پھر پروردگار ان سے فرمائیں گے کہ دنیا میں ایک لقمہ جس نے روٹی کا کھلایا ہے۔ ایک گھونٹ جس نے پانی کا پلایا ہے۔ ایک نظر جس نے محبت سے دیکھا ہے، نبی کریمﷺ اس کا بازو پکڑ کر جنت میں جس دروازے سے چاہیں ، اس کو داخل کر دیں ۔ -- - O - -- قیامت کے دن جبکہ نفسا نفسی کا عالم ہو گا، نبی بھی اس میں مبتلا ہو ں گے اور کو ئی کسی کو پہچا ننے والا نہ ہو گا ۔اللہ کے دوست اور ولی حسب مرا تب ہا تھو ں میں ان کے علم ہوں گے اور بڑ ے خوبصو ر ت اور سا یہ دا ر درختو ں کے نیچے اپنے مر ید ین کو لئے کھڑ ے ہوں گے تو پھر سر کا ر دو جہاں نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس تشر یف لا ئیں گے اور ان سے پو چھیں گے 'آپ کے سب آ دمی آ گئے 'یعنی تصدیق کرکے ۔ -- - O - -- جہاں دو پیر بھا ئی مو جو د ہو تے ہیں وہاں تیسرا پیر مو جو د ہو تا ہے ۔ -- - O - -- صو فی وہ ہے جو دونوں طر ف سے صا ف ہو یعنی نہ تو وہ کسی کی ملکیت میں ہو نہ کو ئی اس کی ملکیت میں ہو ۔ما سوا "اللہ "کے۔ -- - O - -- فقر یہ ہے کہ جو کچھ انسا ن کے پاس ہو اس پر قنا عت کر ے اور زیا دہ کی تمنا نہ کر ے اور نفس کی ہمیشہ مخالفت کر ے ۔ رمو ز خدا وند ی کی کسی پر ظا ہر نہ کر ے ۔ -- - O - -- تصو ف یہ ہے کہ دو نوں چیز و ں میں زیا دتی کا پہلو تر ک کر دے ۔یعنی فقر اور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقر ا ور تو نگر ی میں ۔ اس کی اسا س یہ ہے کہ فقرا سے تعلق رکھے 'عا جز ی سے ثا بت قد م رہے ۔بخشش و عطا ر پر معتر ض نہ ہو اور اعما ل صا لح کر ے ۔ -- - O - -- اپنے نفس کا حکم نہ ما ننا پر ہیز گا ر ی ہے اور نفس کو تا بع کر نا پر ہیز گا ری کا فعل ہے ۔ -- - O - -- ترک شکا یت کا نا م صبر ہے ۔ -- - O - -- جو شخص احکا م الہی کا استقبا ل خند ہ پیشا نی سے کر تا ہے ۔ اس فعل کو را ضی بہ رضا الہی کہا جا تا ہے ۔ -- - O - -- قلب کی تین قسمیں ہیں ۔ اول وہ قلب ہے جو کو ہ گراں کی طر ح اپنی جگہ اٹل رہتا ہے ۔ دوم وہ قلب ہے جو تنا و ر در خت کی طر ح مستحکم اور مضبو ط ہوتا ہے مگر اس قلب کو با د تند کے تھپیڑ ے ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور کبھی کبھی اس کواکھاڑ پھینکتے ہیں ۔سو م وہ قلب ہوتا ہے جو پرندوں کی طر ح پروا ز کر تا رہتا ہے ۔ -- - O - -- زند گی کے لئے کو ن سی چیزیں ضر و ری ہیں ۔ اول: کھانا مگر بقا ئے زند گی کی حد تک 'دو م : پا نی صر ف رفع تشنگی کے لئے 'سو م :لبا س صرف ستر پو شی کی حد تک 'چہا رم : علم صر ف عمل کی حد تک ۔ -- - O - -- فقیر بنا ہے : ف سے فنا ہو نے والا 'ق سے قنا عت 'ی سے یا ر 'ر سے رقت قلب۔ -- - O - -- محبت اور ملکیت ایک جگہ جمع نہیں ہوتیں ۔ جو اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اپنی جا ن 'ما ل 'نفس سب کچھ اللہ کے حوالے کر دیتا ہے ۔ اور اللہ کے تصر فا ت پر اعترا ض نہیں کرتا ۔ اللہ کی طر ف سے جو کچھ اس کو ملتا ہے 'قبو ل کر لیتا ہے ۔ صرف ایک سمت (یعنی اللہ) کے سوا جملہ سمتیں اس کے لئے بند ہو جا تی ہیں تب اس کی محبت کا مل ہو تی ہے ۔ -- - O - -- تند ر ست وہ ہے جو جھوٹ نہ بو لے اور دوسروں کو جھوٹ بو لنے کی تلقین نہ کر ے ۔ خو د بھی مکمل طو ر پر سچا ہو اور دوسروں کو بھی سچ کی تلقین کر ے ۔ سچ کو پر کھنے کی تین کسوٹیاں ہیں ۔ اللہ کی کتا ب 'رسولؐ اللہ کی سنت اور سچے کا قلب۔اس قلب پر جب کو ئی عکس پڑ تا ہے تو یہ قلب اس وقت تک مطمئن اور را ضی نہیں ہو تا جب تک کتا ب اور سنت سے اس کی تصدیق نہیں ہو جا تی ۔ -- - O - -- علم پر عمل کر نے سے قلب صاف اور پا ک ہو جا تا ہے ۔ جب قلب درست ہو جا تا ہے تو با قی اعضا ء بھی درست اور پا ک صا ف ہو جا تے ہیں ۔ جب قلب کو تقو یٰ عطا ہو تا ہے ۔ تو جسم کی بھی اصلا ح ہو جا تی ہے ۔ -- - O - -- با طن پر ند ہ ہے اور دل اس کا پنجر ہ ۔ دل پر ند ہ ہے تو بد ن اس کا پنجر ہ ۔ اور قبر سا ری مخلو ق کا پنجر ہ ہے کیوں کہ انجا م کا ر سبھی کو اس میں جا نا ہے ۔ -- - O - -- اللہ کے سوا کسی سے مت ڈرو ۔ انسا ن کے دُکھ درد میں شر یک رہو ۔ دُنیا میں اس طر ح رہو جس طر ح کو ئی لا ئق رہتا ہے ۔ اپنے دل و دما غ کو تکبر اورغر و ر سے پا ک رکھو کیو نکہ اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں چیزیں با لکل ناپسند ہیں ۔ -- - O - -- کا ئنا ت کا وجو د خالق سے الگ نہیں سمندر کی لہریں سمندر سے الگ نظر آتی ہیں لیکن فر یب نظر ہے ۔ نا م جد ا سہی لیکن حقیقت ایک ہے ۔ شعا ئیں آفتا ب سے لہریں سمند ر سے الگ نہیں ہو تیں ۔ جس طر ح پھو ل کے مر جھا جا نے اور نغمے کے ختم ہو نے کے بعد بھی خوشبو اور مو سیقی کی لہریں کا ئنا ت میں با قی رہ جا تی ہیں ۔ اس طر ح انسا ن مو ت کے بعد "کل "میں جذ ب ہو جا تا ہے ۔ کا ئنا ت کا ایک ظا ہر ہے جو ہم سب کو نظر آرہا ہے ۔ اور کا ئنا ت بظا ہر کثر ت ہے ۔ لیکن حقیقت میں وحد ت ہے ۔ -- - O - -- تقد یر خد ا کی رضا ہے ۔ اور انسا نی اعما ل خدا کی تخلیق ہے ۔ انسا ن تقدیر کے سا منے مجبو ر اور بے بس ہے لیکن اعما ل پر قادر ہے ۔ بر ے کر ے یا اچھے ۔ -- - O - -- سما ع جا ئز ہے یا نا جا ئز سما ع اہل حق کے لئے مستحب ہے ۔ اہل زہد کے لئے مبا ح اور اہل نفس کے لئے مکر و ہ ہے -- - O - -- فقیر ی یہ ہے کہ مر ید کے دما غ میں ایک ایسی تصو یر گھس جا ئے کہ وہ جد ھر دیکھے اس کو وہی تصو یر نظر آ ئے ۔ -- - O - -- انسا ن چلہ کشی سے شر ک میں مبتلا ہو جا تاہے کیونکہ اس کی نظر اسبا ب پر چلی جا تی ہے مسب سے اُٹھ جا تی ہے ۔

Islamic Calender

Prayer Time

Country
City
Date

Fajr
Sunrise
Zuhr
Asr
Maghrib
Isha

القرآن الكريم

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ

الآية رقم 6

من سورة الحجرات

Quran-e-Pak

Asmaul Husna

Ayat of the day

Golden Words By Hazrat Syed Shamim ul Hassan (R.A)

Auliyaa (friends) of Allah are a pillar of light in every era. A whole era benefits from their spiritual high ranks, benevolence and blessings. Not only in the subcontinent of Indo-Pak, but if we look all around the world, we see that the extent to which these ‘chosen people’ (Auliyaa) have helped, worked for and protected Islam and Muslims, no other king or ruler or any person at the highest level (in worldly affairs) could ever reach that extent! The oncoming blessings of these Auliyaa are still continuing regularly, even today. Their tombs are still a place for reverting for helpless, afflicted people who visit these tombs, which, by Allah’s Will, are a source of peace and harmony for them.

In reality, the caste of Sufis is one. Neither does anyone except Allah, Accept them (Sufis), nor do Sufis accept anyone else but Allah! A Sufi is obsessed with the remembrance of Allah! A Sufi has no wish for any worldly gains, no link with this temporary world, which is why immediate distances and deaths have no affect on them. Allah Makes them like an immortal and Keeps them alive with their concentration and focus on Him only. Sufis are those people whom Allah Rewards!

Thus, for the inner peace and spiritual peace of our hearts, it is an excellent source of knowledge and a best act to read and implement the sayings and acts of these Auliyaa. Keeping this point in mind, we have made an effort to put in writing the teachings of the lover and follower of Muhammad (صلّى اللهُ عليهِ وَ سلّم), our spiritual teacher, Hazrat Khwaja Sayyed Umoor-ul-Hassan Shah Suharanpoori (May the Mercy of Allah be upon him), and the greatest Khalifa, Hazrat Shah Abdul Latif Meerthee (May the Mercy of Allah be upon him). I hope this effort will be a guiding light for all followers of Shah Umoor. This effort will lead to an increase in good, guidance and correcting of the society, and collective religious benefits, because the life of these Auliyaa has been a source of goodness and blessings. Their teachings and sayings clearly spread the message of goodness. The religious and spiritual work of Sayyed Umoor-ul-Hassan (May the Mercy of Allah be upon him) is an example of guidance for every sect of society. He spent his whole life in this path of Sufism, unlimited help of the needy people, and for the fulfillment of the evergreen purposes of Islam. His way of guidance and leading the people, resulted in enlightening thousands of closed and dark hearts. He is an enlightening pillar of Silsila Chishtiya Sabriya.

I hope that his sayings and wordings will give our hearts the fruits of righteousness. It will lead to good acts which is a characteristic of the believers of Allah. Especially for today’s young generation, this effort will teach them the fact that the religious and spiritual work done by these Auliyaa in every era, will be beneficial for the betterment of today’s era too. The intention with which this effort is being done, it will certainly be Accepted by Allah, because it is only meant for goodness and betterment of the society.

Hazrat Syed Shamim ul Hassan Shah (R.A)